پنجاب حکومت نے اپنے نئے مالیاتی بل کے ذریعے ٹیکس نظام میں بڑی اصلاحات متعارف کروا دی ہیں، جو صوبائی اسمبلی میں پیر کے روز پیش کیا گیا۔ اس بل کی سب سے اہم شق اُن کاروباروں کے لیے سخت سزاؤں کا تعین ہے جو ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول نہیں کرتے۔ ایسے کاروباروں پر ایک ملین روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

نئے بل کے تحت "پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012” کو مثبت فہرست کے بجائے منفی فہرست پر منتقل کر دیا گیا ہے، جو عالمی معیار کے مطابق ایک بڑا قدم ہے۔ اب صرف وہ سروسز جو منفی فہرست میں واضح طور پر درج ہوں گی، ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی، باقی تمام سروسز پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس فہرست میں مجموعی طور پر 26 سروس کیٹیگریز شامل کی گئی ہیں۔
اگرچہ حکومت نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے ریونیو ہدف کو 471 ارب روپے سے کم کر کے 421 ارب روپے کر دیا ہے، لیکن مالی سال 2025-26 کے لیے 524.7 ارب روپے کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں سے انکار کی صورت میں بھاری جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اگر کوئی کاروبار ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ، موبائل والیٹ یا کیو آر کوڈ کے ذریعے کی جانے والی ادائیگی کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے تو اسے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ پہلی خلاف ورزی پر کم از کم 4 لاکھ روپے اور ہر اگلی خلاف ورزی پر کم از کم 3 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا۔ تین خلاف ورزیوں کی صورت میں کاروباری جگہ کو ایک ماہ کے لیے سیل کیا جا سکتا ہے۔
بل میں "الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ سسٹم (EIMS)” کی خلاف ورزی پر سزاؤں میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا ہے تاکہ دستاویزات اور ادائیگی کے نظام کو ڈیجیٹل بنایا جا سکے۔
ان اصلاحات میں کئی تکنیکی تبدیلیاں بھی شامل ہیں جیسے کہ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کو معیاری ٹیکس ریٹ تک محدود کرنا، مشترکہ سروسز کے لیے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کو متناسب بنیاد پر تقسیم کرنا، اور کمپنی سے کمپنی کی سطح پر ٹیکس ذمہ داری کی وضاحت کرنا۔
منفی فہرست میں شامل سروسز (ٹیکس سے مستثنیٰ)
-
وفاقی، صوبائی یا مقامی حکومت کی فراہم کردہ صحت عامہ کی سہولیات جیسے ڈاکٹروں کی فیس یا ہسپتال کے بیڈز کے چارجز
-
صرف تیزاب یا جلنے کے شکار افراد کے لیے کیے گئے کاسمیٹک یا پلاسٹک سرجری کے عمل
-
سرکاری اداروں کی فراہم کردہ عمومی تعلیمی خدمات
-
سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ، ڈاک، کوریئر اور شناختی دستاویزات کے اندراج کی خدمات
-
سرکاری طور پر فراہم کردہ مذہبی، ثقافتی، تفریحی خدمات جیسے اسپورٹس کلب، پارکس، میوزیم، چڑیا گھر، بوٹینیکل گارڈنز، جمز
-
سرکاری ہاؤسنگ اسکیمز یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (PHATA) کے تحت نجی اسکیمز کے لیے بلڈرز، ڈویلپرز اور پروموٹرز کی خدمات
-
رجسٹرڈ مذہبی و فلاحی اداروں اور ایف بی آر سے مستثنیٰ بین الاقوامی این جی اوز کی خدمات
-
صرف برآمدی میری ٹائم انشورنس اور فصل کی انشورنس
-
پانی، گیس، نکاسی آب، بجلی، مکینیکل اور ٹرن کی پروجیکٹس پر مبنی تعمیراتی خدمات
-
نان اے سی بیوٹی پارلرز، سیلون، سپا اور سلمینگ کلینکس
-
حج، عمرہ یا زیارت کے لیے ٹریول ایجنٹس کی خدمات
-
حج، عمرہ، سفارت کاروں اور فلائٹ کریو کے لیے پنجاب سے روانہ ہونے والی فضائی سفر کی خدمات
-
ذاتی استعمال کے لیے زرعی پیداوار کی اسٹوریج خدمات
-
سڑک کنارے دکانوں سے نان کارپوریٹ فوٹوگرافرز یا ویڈیوگرافرز کی خدمات
-
سفارتی مشنز اور رہائشی کرایہ
-
ورک کنٹریکٹ، سپلائی معاہدے، ریڈیو یا ٹی وی اشتہارات اور صرف علاج کے لیے ڈائیگنوسٹک ٹیسٹ
-
طباعت شدہ میڈیا میں کلاسیفائیڈ اشتہارات
-
لائسنس یافتہ منی چینجرز کی کرنسی ایکسچینج خدمات
-
بندرگاہوں، ڈرائی پورٹس اور ایئرپورٹس پر کسٹم بانڈڈ ویئرہاؤس سروسز
یہ اقدامات صوبے میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔
