ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا دونوں کو ان کے اقدامات کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا اپنی جارحیت کی بھاری قیمت چکائیں گے۔ بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکرچی نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک "سنگین غلطی” قرار دیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ ایران ان حملوں کا سخت اور بھرپور جواب دے گا۔
ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے رکن، ابراہیم رضائی نے بھی اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس جارحیت کا جواب سخت انداز میں دے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران، تل ابیب کے حملوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرے گا۔
ایرانی فوجی حکام کے مطابق، یہ حملے—جو امریکا کی حمایت سے کیے گئے—ایران کے مختلف شہروں میں موجود ایٹمی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔ ان شہروں میں تہران، قم، تبریز، ارومیہ، مراغہ، اور اہواز شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں اہم شخصیات جاں بحق ہوئیں، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی اور ایک سینئر ایٹمی سائنسدان شامل ہیں۔
ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں متعدد اعلیٰ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو ایک بھرپور اور وسیع پیمانے پر عسکری جواب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
اگرچہ ایران کو ان حملوں میں نمایاں جانی نقصان ہوا ہے، تاہم ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ چیف آف جنرل اسٹاف محمد باقری محفوظ ہیں اور ایک محفوظ کمانڈ سینٹر سے تمام آپریشنز کی قیادت کر رہے ہیں۔
ایران نے اگلے حکم تک اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور ایک بڑے جوابی حملے کی بھرپور تیاری جاری ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر نے اسرائیل کی جانب سے مہلک طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس اقدام کی "سخت سزا” دی جائے گی۔
ایران نے امریکا پر اسرائیلی جارحیت کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ جارحانہ اقدام کسی صورت بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔

