پاکستان میں میڈیا کا بدلتا ہوا کردار: معلومات کا ذریعہ یا پروپیگنڈا کا آلہ؟
پاکستان میں میڈیا ہمیشہ سے طاقتور اداروں میں شمار ہوتا آیا ہے۔ چاہے وہ اخبارات ہوں، ریڈیو، ٹی وی چینلز یا آج کے دور کا سوشل میڈیا، میڈیا نے عوامی رائے سازی، سیاسی شعور بیدار کرنے اور ریاستی پالیسیوں پر اثر ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں سے میڈیا کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا یہ عوام کو باخبر کر رہا ہے یا محض طاقتور عناصر کا پروپیگنڈا پھیلانے کا ذریعہ بن چکا ہے؟

میڈیا کا ارتقاء: پرنٹ سے ڈیجیٹل تک
پاکستان میں میڈیا کا آغاز اخبارات اور ریڈیو سے ہوا۔ 1964 میں پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے قیام کے بعد الیکٹرانک میڈیا کا دور شروع ہوا۔ 2000 کی دہائی میں نجی ٹی وی چینلز نے انقلاب برپا کر دیا۔ اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ سوشل میڈیا نے خبر رسانی میں مرکزی حیثیت اختیار کر لی ہے۔
لیکن جہاں یہ تبدیلیاں مثبت ثابت ہوئیں، وہیں میڈیا میں پیشہ ورانہ اخلاقیات کی کمی، سنسنی خیزی، اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
میڈیا: عوامی آواز یا ایجنڈا سیٹر؟
ایک آزاد میڈیا جمہوریت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کا کام ہے:
-
سچ کو سامنے لانا
-
حکمرانوں کو جوابدہ بنانا
-
عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا
لیکن جب میڈیا مخصوص ایجنڈوں، اشتہارات، یا طاقتور اداروں کے دباؤ میں آکر خبریں نشر کرے تو یہ "آزاد میڈیا” نہیں بلکہ "ایجنڈا میڈیا” بن جاتا ہے۔
پاکستان میں بعض چینلز پر ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دینے، اپوزیشن کی کردار کشی کرنے، یا بعض اہم خبروں کو دبانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
ریٹنگ کی دوڑ اور سنسنی خیزی
پاکستانی نیوز چینلز میں ریٹنگ حاصل کرنے کی دوڑ نے صحافت کو شدید متاثر کیا ہے۔
-
سنسنی خیز بریکنگ نیوز
-
غیر تصدیق شدہ اطلاعات
-
ٹاک شوز میں چیخ و پکار
-
مہمانوں کی تضحیک
یہ سب ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کا طریقہ بن چکا ہے۔ اس عمل نے صحافت کے اصل مقصد، یعنی تحقیقاتی رپورٹنگ اور عوامی مفاد کی خبر رسانی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
سوشل میڈیا: آزادی یا افراتفری؟
سوشل میڈیا نے عام شہری کو آواز دی ہے۔ ہر شخص رپورٹر ہے، ہر موبائل فون کیمرہ ہے۔
مگر اس آزادی کے ساتھ آیا ہے:
-
فیک نیوز
-
کردار کشی
-
بغیر تصدیق شدہ ویڈیوز
-
ٹرینڈز کے ذریعے رائے سازی
سوشل میڈیا نے جہاں طاقتور اداروں کا احتساب ممکن بنایا، وہیں اسے غلط استعمال کر کے جھوٹے بیانیے بھی پھیلائے جا رہے ہیں۔
میڈیا پر ریاستی دباؤ
پاکستان میں میڈیا کو بعض اوقات براہ راست یا بالواسطہ دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
-
رپورٹرز کی گرفتاریاں
-
پروگراموں پر پابندیاں
-
چینلز کی بندش
-
اشتہارات کی بندش
یہ تمام چیزیں صحافیوں کو خود ساختہ سنسرشپ پر مجبور کر دیتی ہیں، اور یوں اصل حقائق عوام تک نہیں پہنچ پاتے۔
کیا حل ہے؟
پاکستانی میڈیا کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے:
-
پیشہ ورانہ تربیت: صحافیوں اور نیوز اینکرز کو صحافت کے اصول سکھانے ہوں گے۔
-
حقائق کی تصدیق: خبریں نشر کرنے سے پہلے ان کی تحقیق لازم ہو۔
-
غیر جانبداری: تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ متوازن رویہ اپنایا جائے۔
-
ریگولیٹری ادارے مضبوط ہوں: پیمرا کو آزاد اور مؤثر بنایا جائے تاکہ وہ میڈیا پر سنجیدہ نگرانی کر سکے، نہ کہ محض دباؤ کا ذریعہ بنے۔
-
ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنا: بغیر آزادی سلب کیے، جھوٹی خبروں کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جائے۔
نتیجہ: میڈیا، آئینہ یا نقاب؟
میڈیا معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، لیکن جب یہ آئینہ دھندلا ہو جائے یا کسی مخصوص زاویے سے دکھانے لگے تو معاشرتی سچائی مسخ ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں میڈیا کو عوام کی خدمت کرنے کے لیے اپنے کردار پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ بصورت دیگر، وہ عوامی اعتماد کھو دے گا اور جمہوری عمل کمزور ہو جائے گا۔

Refer and earn up to 50% commission—join now! https://shorturl.fm/Vw7jn
Start profiting from your network—sign up today! https://shorturl.fm/afai7
https://shorturl.fm/Q2FY3
https://shorturl.fm/ooogT
https://shorturl.fm/8ojWc
https://shorturl.fm/2broS