اسلام آباد: پاکستان کے مایہ ناز کیوئسٹ (Snooker Player) اور تین مرتبہ کے ورلڈ چیمپئن، محمد آصف نے کامن ویلتھ اسنوکر اینڈ بلیئرڈز چیمپئن شپ 2025 کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جو 2 جولائی سے 6 جولائی تک ماریشس میں منعقد ہو رہی ہے۔

محمد آصف، جن کی عمر اس وقت 42 سال ہے، پاکستان کے سب سے کامیاب اسنوکر کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال دوحہ (قطر) میں ہونے والی IBSF ورلڈ مین اسنوکر چیمپئن شپ جیت کر یہ اعزاز حاصل کیا اور کامن ویلتھ ایونٹ کے لیے اپنی جگہ پکی کی۔


پی بی ایس اے کو اپنے ہیرو پر مکمل اعتماد

پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن (PBSA) نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے محمد آصف کے ویزہ دستاویزات اسلام آباد میں ماریشس کے سفارت خانے میں جمع کرا دیے ہیں اور اب منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

پی بی ایس اے نے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"ہمیں اپنے چیمپئن پر بے حد فخر ہے، اور ہم ہر ممکن طریقے سے ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آصف اس بار بھی قوم کو سرخرو کریں گے اور پاکستان کے لیے میڈل لے کر آئیں گے۔"


🟩 تجزیہ: محمد آصف — پاکستان کا روشن چہرہ عالمی اسنوکر میں

یہ ایک فخر کا لمحہ ہے جب دنیا بھر میں کھیل کے میدانوں میں پاکستان کے کھلاڑی نہ صرف مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر چیمپئن بن کر ابھر رہے ہیں۔ محمد آصف نے بار بار ثابت کیا ہے کہ اگر ریاستی سرپرستی اور تھوڑی سی وسائل کی فراہمی ہو، تو پاکستانی ٹیلنٹ کسی بھی بین الاقوامی سطح پر پیچھے نہیں۔

❖ اہم نکات:

  • محمد آصف نے تین مرتبہ عالمی اسنوکر ٹائٹل جیت کر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔

  • یہ انفرادی نہیں بلکہ قومی کامیابی ہے، جو دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان صرف کرکٹ ہی نہیں، بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی عالمی معیار پر کھڑا ہے۔

  • ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے کھلاڑیوں کی مالی معاونت، میڈیا کوریج اور حکومتی سرپرستی میں اضافہ کیا جائے تاکہ ان کی کامیابی مزید نوجوانوں کے لیے ترغیب بنے۔


اختتامیہ: قوم کا مان — محمد آصف

یہ صرف ایک کھلاڑی کی شرکت نہیں، بلکہ پاکستان کے خوابوں کی نمائندگی ہے۔ محمد آصف جیسے محنتی، پرعزم اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار کھلاڑی پاکستان کے نرم چہرے اور مثبت شناخت کا باعث ہیں۔

قوم کو ان پر فخر ہے، اور ہم دعا گو ہیں کہ وہ کامیابی کے ساتھ پاکستان کے لیے میڈل جیت کر لوٹیں، اور دنیا کو دکھا دیں کہ پاکستانی پرچم ہر میدان میں بلند رہ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے