بھارتی کرکٹ لیجنڈ سنیل گاوسکر کے اس بیان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جس میں انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو 2025 کے ایشیا کپ سے نکال دینا چاہیے۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف کھیل کے دائرے میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

گاوسکر نے ایک بھارتی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) ہمیشہ بھارتی حکومت کی ہدایات پر عمل کرتا ہے، اور اگر موجودہ سیاسی حالات تبدیل نہ ہوئے تو وہ پاکستان کی شرکت کو ممکن نہیں دیکھتے۔

"BCCI ہمیشہ حکومت ہند کی ہدایت پر چلتا ہے۔ اگر حالات وہی رہے تو مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان ایشیا کپ کا حصہ ہوگا،” گاوسکر کا بیان۔

انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر سیاسی کشیدگی برقرار رہی تو ایشین کرکٹ کونسل کو تحلیل کر کے کوئی تین ملکی یا چار ملکی سیریز منعقد کی جا سکتی ہے۔


پاکستانی کھلاڑیوں کا سخت ردعمل: کھیل کو سیاست سے الگ رکھیں

گاوسکر کے ان بیانات پر پاکستان کے سابق عظیم کرکٹرز نے سخت ردعمل دیا ہے۔ لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد نے کہا:

"مجھے یقین نہیں آ رہا کہ سنی بھائی نے ایسا کہا۔ وہ ہمیشہ ایک باوقار، شائستہ اور غیر سیاسی انسان کے طور پر جانے جاتے تھے۔”

سابق اسپنر اقبال قاسم نے ابتدائی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا کہ شاید گاوسکر کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا:

"گاوسکر سرحد کے دونوں طرف ایک محترم شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ کھیل کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔”

تاہم سابق کرکٹر باسط علی نے گاوسکر کے بیان کو کھل کر "بے وقوفانہ” قرار دیا اور کہا:

"ایسی باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں، نہ کہ قیاس آرائیوں پر۔ کرکٹ کو سیاسی دشمنیوں سے بالاتر ہونا چاہیے۔”


2025 ایشیا کپ: پاکستان کا کردار ناگزیر

ایشیا کپ کا 17 واں ایڈیشن ستمبر 2025 میں ہونا طے ہے، جس میں آٹھ ٹیمیں شرکت کریں گی۔ بھارت اور سری لنکا اس کے مشترکہ میزبان ہیں، لیکن BCCI نے ابھی تک اپنی حتمی پوزیشن واضح نہیں کی۔

ACC کے مکمل ممبران — پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان — پہلے ہی کوالیفائی کر چکے ہیں، جبکہ ہانگ کانگ، عمان اور متحدہ عرب امارات نے 2024 کی پریمیئر کپ میں اپنی جگہ بنائی ہے۔


تجزیہ: گاوسکر کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور متعصبانہ

پاکستانی ناظرین کے لیے ضروری ہے کہ یہ بات واضح کی جائے کہ گاوسکر کا بیان کسی بھی طرح کھیل کی روح کے مطابق نہیں۔ اس سے نہ صرف ایشیا کپ جیسے اہم ٹورنامنٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ یہ خطے میں کھیل کے ذریعے امن کی کوششوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

  • کیا بھارت کھیل کو ہتھیار بنا رہا ہے؟ بھارت کے حکومتی دباؤ پر کھیلوں میں شرکت یا بائیکاٹ کی روایت نے ماضی میں بھی کئی بار تنازع پیدا کیا ہے۔

  • پاکستان کی کرکٹ سفارتکاری کا مؤثر ردعمل: پاکستان نے ہمیشہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کا پیغام دیا ہے۔ چاہے وہ آئی سی سی ایونٹس ہوں یا ایشیائی سطح کے مقابلے، پاکستان نے کبھی کرکٹ کا دروازہ بند نہیں کیا۔

  • ایشین کرکٹ کونسل کی حیثیت کو بچانے کی ضرورت: ACC ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم ہے، اور کسی بھی ایک ملک کے دباؤ پر اسے تحلیل کرنے کی سوچ خود کھیل دشمنی کے مترادف ہے۔


اختتامی کلمات: کھیل کو جوڑنے کا ذریعہ بننے دیں، توڑنے کا نہیں

پاکستانی قوم کھیل کے ذریعے خطے میں امن، بھائی چارے اور تعلقات کی بہتری کی خواہاں ہے۔ بھارت میں بیٹھے کرکٹ ماہرین کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اپنے الفاظ سے کھیل کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

پاکستان ایک کرکٹ جنون رکھنے والا ملک ہے، اور ایشیا کپ جیسے ایونٹ میں اس کی شرکت ناگزیر ہے۔ اگر بھارت کو سیاست کرنی ہے تو کرے، لیکن کرکٹ کو اس کی سیاست کا میدان نہ بنائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے