بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، قدرتی وسائل، معدنیات اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں ماں اور بچے کی صحت کی صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔ بلوچستان کی وسیع و عریض سرزمین، کم آبادی، ثقافتی رکاوٹیں، اور حکومتی توجہ کی کمی نے اس صوبے میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہاں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی شرح اور بچوں کی اموات کی شرح ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
یہ مضمون بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت کے مسائل، ان کے اسباب، اعدادوشمار، مقامی ثقافتی رکاوٹیں، ماہرین کی رائے، حکومتی اقدامات، اور ممکنہ حل پر تفصیل سے روشنی ڈالے گا۔

بلوچستان کی جغرافیائی اور سماجی حقیقت
رقبہ اور آبادی
-
بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے۔
-
آبادی تقریباً 14 ملین (2023 تخمینے)۔
-
زیادہ تر لوگ دیہات یا دور دراز علاقوں میں بستے ہیں۔
ثقافتی پہلو
-
روایتی معاشرہ، مردوں کا غلبہ۔
-
خواتین کی نقل و حرکت محدود۔
-
صحت کے معاملات پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
ماں اور بچے کی صحت کی موجودہ صورتحال
زچگی کی شرح اموات (Maternal Mortality Rate)
-
پاکستان کا قومی اوسط: 186 فی 100,000 زندہ پیدائشیں۔
-
بلوچستان میں شرح: تقریباً 785 فی 100,000 زندہ پیدائشیں (UNFPA رپورٹ 2022)۔
بچوں کی شرح اموات (Infant Mortality Rate)
-
قومی اوسط: 55 فی 1000 زندہ پیدائشیں۔
-
بلوچستان میں شرح: 98 فی 1000 زندہ پیدائشیں۔
پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات
-
بلوچستان میں ہر 11واں بچہ پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
یہ اعدادوشمار بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت کے سنگین بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماں اور بچے کی صحت کے بنیادی مسائل
1. زچگی کے دوران پیچیدگیاں
-
حمل کے دوران بلڈ پریشر کا بڑھ جانا۔
-
خون کی کمی (Anemia)۔
-
قبل از وقت پیدائش۔
-
ڈلیوری کے وقت خون کا زیادہ بہنا۔
2. غذائی قلت
-
خواتین میں آئرن، فولک ایسڈ، کیلشیم کی شدید کمی۔
-
حاملہ خواتین کمزور، جس سے بچوں کا وزن کم ہوتا ہے۔
-
بچوں میں Stunting اور Wasting کی شرح زیادہ۔
3. صحت کی سہولیات کی کمی
-
بلوچستان کے 70٪ علاقوں میں بنیادی صحت مراکز (BHUs) فعال نہیں۔
-
ماہر ڈاکٹروں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی شدید کمی۔
-
دور دراز علاقوں تک رسائی مشکل۔
4. تعلیم کی کمی
-
خواتین میں شرح خواندگی بلوچستان میں صرف 24 فیصد۔
-
ماؤں کو حمل، خوراک، حفاظتی ٹیکوں، یا نوزائیدہ کی دیکھ بھال کی معلومات نہیں ہوتیں۔
5. ثقافتی رکاوٹیں
-
مرد حضرات خواتین کو اسپتال لے جانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
-
دائیوں (Traditional Birth Attendants) پر انحصار زیادہ۔
-
خواتین کا ڈاکٹر کے پاس جانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
6. امن و امان
-
سکیورٹی مسائل کے باعث NGOز اور ڈاکٹر بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
غذائی قلت اور ماں اور بچے کی صحت
بلوچستان غذائی قلت سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔
-
UNICEF رپورٹ (2023):
-
52 فیصد بچے Stunting کا شکار۔
-
23 فیصد بچے Wasting کا شکار۔
-
-
خواتین میں خون کی کمی 65 فیصد سے زیادہ۔
غذائی قلت ماں اور بچے دونوں پر مہلک اثر ڈالتی ہے:
خواتین پر اثرات
-
کمزوری۔
-
قبل از وقت ڈلیوری۔
-
دوران زچگی موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بچوں پر اثرات
-
کم وزن کے ساتھ پیدا ہونا۔
-
بیماریوں کا شکار۔
-
ذہنی نشوونما میں رکاوٹ۔
صحت کی سہولیات کی کمی
بنیادی مسائل
-
اسپتالوں کی کمی۔
-
عملے کی کمی۔
-
دوائیوں اور ساز و سامان کا فقدان۔
اسپتالوں کی حالت
-
بعض علاقوں میں میلوں دور تک کوئی اسپتال نہیں۔
-
جہاں اسپتال ہیں، وہاں ڈاکٹر موجود نہیں۔
-
بلوچستان کے صرف چند بڑے شہروں (کوئٹہ، تربت، خضدار) میں کچھ سہولیات دستیاب ہیں۔
دائیوں پر انحصار
-
بیشتر خواتین گھروں میں دائیوں کے ذریعے بچے کو جنم دیتی ہیں۔
-
دائیوں کی تربیت ناکافی۔
-
پیچیدگی کی صورت میں ہسپتال لے جانے میں تاخیر ہوتی ہے۔
-
انفیکشن اور زچگی کے دوران اموات کی شرح بڑھ جاتی ہے۔
حفاظتی ٹیکوں کی کم شرح
-
بلوچستان میں حفاظتی ٹیکوں کی شرح پاکستان کے باقی حصوں کے مقابلے میں کم ہے۔
-
والدین میں خوف اور غلط فہمیاں۔
-
پولیو کے قطرے پلانے میں مزاحمت۔
-
بچوں میں خسرہ، کالی کھانسی، تپ دق کی شرح زیادہ۔
ماہرین کی رائے
ڈاکٹر شاہد نور (گائناکالوجسٹ)
“بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ خواتین کی اسپتال تک رسائی ہے۔ اکثر خواتین کو حمل کے دوران ڈاکٹر تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، جس سے جان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔”
ڈاکٹر سحر بلوچ (پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ)
“صرف اسپتال بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ثقافتی مسائل اور خواتین کو بااختیار بنانے پر بھی توجہ دینی ہوگی۔”
کیس اسٹڈیز
کیس 1: سلمیٰ، ضلع خاران
-
سلمیٰ کو زچگی کے دوران شدید خون بہنے لگا۔
-
اسپتال 60 کلومیٹر دور تھا۔
-
راستے میں ہی موت واقع ہو گئی۔
-
پانچ بچے یتیم ہو گئے۔
کیس 2: بچے کی پیدائش، تربت
-
بچہ کم وزن کے ساتھ پیدا ہوا۔
-
مقامی دائی نے علاج کیا۔
-
چند دن بعد نمونیا کے باعث بچے کی موت ہو گئی۔
حکومتی اقدامات
منصوبے اور پروگرامز
-
MNCH Program (Maternal, Newborn and Child Health)
-
Lady Health Workers Program
-
بنیادی صحت مراکز کی تعمیر
خامیاں
-
بجٹ ناکافی۔
-
ڈاکٹرز دور دراز علاقوں میں کام کرنے کو تیار نہیں۔
-
سیکیورٹی خدشات۔
-
ثقافتی رکاوٹیں۔
این جی اوز اور انٹرنیشنل ادارے
-
UNICEF
-
UNFPA
-
WHO
-
MSF (Médecins Sans Frontières)
یہ ادارے کچھ علاقوں میں کام کر رہے ہیں لیکن:
-
رسائی محدود۔
-
فنڈز کم۔
-
عملے کی کمی۔
حل اور تجاویز
1. صحت کی سہولیات میں بہتری
-
BHUs کو فعال کرنا۔
-
موبائل کلینک شروع کرنا۔
-
ڈاکٹرز کو دور دراز علاقوں میں خصوصی مراعات دینا۔
2. خواتین کی تعلیم
-
خواتین کی تعلیم پر زور۔
-
صحت کی بنیادی معلومات دینا۔
3. دائیوں کی تربیت
-
دائیوں کو جدید طبی تربیت دینا۔
-
ایمرجنسی کی صورت میں بروقت ریفر کرنے کی تربیت۔
4. ثقافتی رکاوٹیں ختم کرنا
-
مذہبی رہنماؤں کو شامل کرنا تاکہ خواتین کو اسپتال جانے کی اجازت ملے۔
-
کمیونٹی لیول پر آگاہی مہم۔
5. غذائی قلت پر قابو پانا
-
حاملہ خواتین کے لیے غذائی سپلیمنٹس۔
-
بچوں کے لیے فوڈ پیکجز۔
-
مقامی خوراک کی اہمیت اجاگر کرنا۔
6. حفاظتی ٹیکے
-
والدین کو حفاظتی ٹیکوں کے فوائد کے بارے میں آگاہ کرنا۔
-
گھر گھر ویکسینیشن مہم۔
میڈیا کا کردار
-
بلوچستان کے صحت کے مسائل پر روشنی ڈالنا۔
-
خواتین اور بچوں کی صحت کو ترجیحی مسئلہ بنانا۔
-
متاثرہ خاندانوں کی کہانیاں نشر کرنا تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھے۔
بلوچستان میں روشن مثالیں
-
تربت میں MSF کا اسپتال زچگی کے کیسز میں بڑی کامیابی دکھا رہا ہے۔
-
خضدار میں Lady Health Workers کی کوششوں سے زچگی کی شرح اموات میں کچھ کمی آئی ہے۔
-
کچھ علاقوں میں کمیونٹی خواتین نے خود کو تربیت یافتہ دائی کے طور پر منوایا۔
معاشی اثرات
-
ماں اور بچے کی صحت خراب ہونے سے:
-
معیشت پر بوجھ بڑھتا ہے۔
-
خاندان غربت میں دھنس جاتے ہیں۔
-
انسانی وسائل کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔
-
نتیجہ
بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت ایک ایسا المیہ ہے جسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے گا بلکہ ملک کی ترقی کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی ادارے، سماجی تنظیمیں، مقامی رہنما، اور میڈیا سب مل کر بلوچستان کے ماں اور بچے کی صحت کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ کیونکہ ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند نسل کی ضمانت ہے، اور ایک صحت مند نسل ہی بلوچستان اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔

Promote our brand, reap the rewards—apply to our affiliate program today! https://shorturl.fm/ehPi0
Become our partner and turn clicks into cash—join the affiliate program today! https://shorturl.fm/JcxVX
Start earning on every sale—become our affiliate partner today! https://shorturl.fm/XnGew