وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے موسمیاتی لچک (climate resilience) پر نمایاں سرمایہ مختص کیا ہے، لیکن واضح لائحہ عمل کے فقدان اور متضاد پالیسیوں نے اربوں روپے کے اخراجات کو بے معنی کر دیا ہے

1. کلائمیٹ بجٹ ٹیگنگ (Climate Budget Tagging – CBT)

  • IMF کے تحت منظور شدہ Resilience and Sustainability Facility (RSF) قرض کے تقاضے کے جواب میں، حکومت نے عوامی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں اخراجات کو adaptation (مطابقت)، mitigation (اخراج میں کمی)، اور supporting (حمایتی) شعبوں میں تقسیم کیا ۔

  • اس کے نتیجے میں:

    • Adaptation: صرف 85.43 ارب روپے

    • Mitigation: 603 ارب روپے

    • Supporting: 28.33 ارب روپے

2. “مطابقت” بجٹ کا تضاد

  • وزیر خزانہ نے متواتر بتایا کہ حقیقت میں سب سے بڑا چیلنج ہے adaptation، لیکن بجٹ میں اس منصوبہ بندی کے لیے مختص رقم محض 85 ارب روپے رہی

  • adaptation کے لیے کھانے کے شعبے میں 20 ارب اور زراعت میں 22 ارب مختص کیے گئے—یعنی جزوی طور پر موافق، لیکن سنجیدہ حکمت عملی کی کمی واضح ۔

3. متضاد سبسڈی پالیسی

  • ذخیروں پر سرمایہ کاری (Mitigation) کے عنوان سے توانائی شعبے کو 529 ارب جبکہ صنعت اور ٹرانسپورٹ کو کل 16.3 ارب روپے مختص کیے گئے۔

  • تاہم، شمسی پینل کی درآمد پر ٹیکس جیسے اقدامات اختیار کیے گئے، جو “کاربن لیوی” اور EV پالیسی کے متضاد اقدامات سے ملاپ کھاتے ہیں ۔

  • علی توقیر شیخ کے مطابق:

    “If the government was serious about discouraging fossil fuels, it would incentivise transition towards solarisation… The main point is that the policy is contradictory.”

4. ماحولیاتی وزیر خانے کے اخراج اور منصوبہ بندی میں کمی

  • Climate Change Ministry کا بجٹ 3.5 ارب سے کم ہو کر 2.7 ارب روپے رہ گیا؛ اس کی وجہ سے تحقیقاتی اور ٹیکنیکل استعداد میں کمی کی پیشین گوئی کی گئی ہے ۔

  • ماحولیاتی تحفظ کے لیے مختص 7.2 ارب روپے کا سرسری حصہ رہ کر صرف 3.1 ارب روپے بچا، اور فضائی آلودگی کم کرنے کے فنڈز 6.29 ارب سے گھٹ کر 3.1 ارب ہو گئے ۔

  • ویسٹ واٹر مینجمنٹ فنڈ صرف معمولی اضافہ (967 ملین سے 1 ارب سے زائد) کا شکار ہوا ۔

5. عالمی پہلو: IMF کے نظریہ میں تضادات

  • IMF نے پاکستانی بجٹ میں climate-tagging کے نفاذ کو سراہا اور پہلی climate-loan (1.4 ارب ڈالر) بھی منظور کی گئی۔

  • IMF–RSF کا مقصد adaptation، mitigation، اور supporting شعبوں میں کھروں کے موازنہ اور شفاف رپورٹنگ کو ممکن بنانا ہے۔


📌 کلیدی تنقیدی نکات

پہلو تنقیدی نقطہ نظر
Adaptation vs Mitigation adaptation کو ترجیح دینا مگر بجٹ میں کم مختص
پالیسی تضاد کاربن لیوی کے باوجود سولر اور EV پر ٹیکس
اداروں کی صلاحیت ماحولیاتی تحقیقاتی صلاحیت خطرے میں
شفافیت اور عمل درآمد منصوبہ جات کی شفاف تفصیلات غائب

نتیجہ

بجٹ 2025‑26 نے climate-budget tagging کا نیا آغاز کیا ہے، تاہم adaptation پر کم سرمایہ، contradictory پالیسیاں، اور موسمیاتی تحقیق کی مبہمیت اس کو ایک “چلتی ہوئی تضاد” بنا دیتی ہے۔ اگر حقیقی مقصد climate resilience ہے، تو بجٹ کو زیادہ متوازن، شفاف اور مشکل حالات سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے