تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے اور اس کا سب سے اہم ستون استاد ہوتا ہے۔ ایک پرانا مقولہ ہے:
“A teacher affects eternity; he can never tell where his influence stops.”
"ایک استاد کا اثر لازوال ہوتا ہے؛ وہ کبھی نہیں جان سکتا کہ اس کے اثرات کہاں تک پہنچیں گے۔”
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر استاد خود تربیت یافتہ نہ ہو یا اسے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع نہ ملیں تو کیا وہ طلباء کی صحیح رہنمائی کر سکتا ہے؟ بدقسمتی سے پاکستان میں اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے کئی چیلنجز موجود ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم پاکستان میں اساتذہ کی تربیت کے معیار، موجودہ نظام، مسائل اور بہتری کے امکانات پر تفصیل سے بات کریں گے۔

پاکستان میں اساتذہ کا تعلیمی پس منظر
پاکستان میں اساتذہ کی ایک بڑی تعداد مختلف تعلیمی پس منظر سے آتی ہے۔
-
کچھ اساتذہ نے بی ایڈ (B.Ed) یا ایم ایڈ (M.Ed) کی ڈگری حاصل کی ہوتی ہے۔
-
بعض اساتذہ محض انٹرمیڈیٹ یا گریجویشن کے بعد تدریس کے شعبے میں آ جاتے ہیں۔
-
دیہی علاقوں میں کئی اسکولوں میں غیر تربیت یافتہ اساتذہ تعینات ہیں۔
یہ تفاوت تعلیمی معیار میں براہ راست جھلکتی ہے۔
پاکستان میں اساتذہ کی تربیت کے موجودہ ادارے
پاکستان میں مختلف ادارے اساتذہ کی تربیت کا انتظام کرتے ہیں، جیسے:
-
نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن (NEF)
-
فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE)
-
پرو vincial Institutes of Teacher Education (PITEs)
-
آغا خان یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ (AKU-IED)
-
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF)
-
ٹیچرز ریسورس سینٹرز
ان اداروں کا مقصد اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں، نصاب میں تبدیلیوں اور تعلیمی ٹیکنالوجی سے روشناس کروانا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اداروں کی تربیت کا معیار یکساں نہیں ہے۔
تربیت کے معیار کی صورتحال
مختصر دورانیے کی ورکشاپس
اکثر تربیت چند روزہ ورکشاپس تک محدود ہوتی ہے۔ اس میں:
-
تھیوری زیادہ ہوتی ہے، پریکٹیکل کم۔
-
اساتذہ میں دلچسپی کم ہوتی ہے۔
-
تربیت ختم ہوتے ہی سب بھول جاتے ہیں۔
نصاب میں قدامت
کئی تربیتی پروگرام ایسے ہیں جن میں نصاب دہائیوں پرانا ہے۔ جدید تعلیمی طریقے جیسے:
-
بلاکس کی تدریس (Block Teaching)
-
بچوں پر مبنی تدریس (Child-Centered Teaching)
-
انٹرایکٹو لرننگ (Interactive Learning)
ابھی بھی تربیت میں کم شامل کیے جاتے ہیں۔
دیہی و شہری فرق
شہری علاقوں کے اساتذہ کو نسبتاً بہتر تربیت ملتی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں تربیت کا معیار:
-
کمزور
-
ناقص انتظامات
-
وسائل کی کمی
تربیت کی اقسام
پری سروس ٹریننگ (Pre-Service Training)
یہ وہ تربیت ہے جو تدریس کے شعبے میں آنے سے پہلے دی جاتی ہے، جیسے:
-
B.Ed
-
M.Ed
-
ڈپلومہ کورسز
بدقسمتی سے آج کل B.Ed بھی محض ایک رسمی ڈگری بن چکی ہے۔ اکثر اساتذہ کو نہ عملی تربیت ملتی ہے اور نہ ہی جدید تعلیمی ٹیکنالوجی کا استعمال سکھایا جاتا ہے۔
ان سروس ٹریننگ (In-Service Training)
یہ تربیت تدریسی ملازمت کے دوران دی جاتی ہے۔ مثلاً:
-
ریفریشر کورسز
-
نئے نصاب کی تربیت
-
امتحانی نظام کی تبدیلی پر تربیت
لیکن اکثر:
-
غیر معیاری ہوتی ہے۔
-
عمل درآمد کم ہوتا ہے۔
-
صرف حاضری پوری کی جاتی ہے۔
اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی
ترقی کے مواقع
پاکستان میں اساتذہ کے لیے ترقی کے مواقع محدود ہیں۔ کچھ اسباب:
-
ترقی کا معیار سینئرٹی پر مبنی ہے، کارکردگی پر نہیں۔
-
تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ میں فرق نہیں کیا جاتا۔
-
پروموشن سسٹم سست اور پیچیدہ ہے۔
تنخواہیں اور مراعات
-
اساتذہ کی تنخواہیں نجی اسکولوں میں کم اور سرکاری اسکولوں میں نسبتاً بہتر ہیں۔
-
اساتذہ اکثر معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، جس سے تدریس متاثر ہوتی ہے۔
تربیت میں درپیش مسائل
بجٹ کی کمی
-
تعلیم پر پاکستان میں GDP کا تقریباً ۲ فیصد سے کم خرچ ہوتا ہے۔
-
اساتذہ کی تربیت کے لیے بجٹ اور بھی محدود ہوتا ہے۔
سیاسی مداخلت
-
اساتذہ کی بھرتی اور تربیت میں سیاسی دباؤ شامل رہتا ہے۔
-
میرٹ پر بھرتیاں کم ہوتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی کمی
-
دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ، کمپیوٹر، پروجیکٹر تک رسائی محدود ہے۔
-
اساتذہ ای لرننگ سے نابلد ہیں۔
جدید ریسرچ سے عدم واقفیت
-
اکثر اساتذہ پرانے طریقہ تدریس پر اکتفا کرتے ہیں۔
-
تعلیمی نفسیات، بچے کی نفسیات، اور لرننگ تھیوریز کی معلومات ناکافی ہیں۔
طلباء پر اثرات
تدریسی معیار میں فرق
-
تربیت یافتہ استاد کلاس کو دلچسپ اور انٹرایکٹو بناتا ہے۔
-
غیر تربیت یافتہ استاد محض کتاب پڑھا دیتا ہے۔
طلباء کی کارکردگی
-
تربیت یافتہ استاد طلباء کی سمجھ بوجھ، تخلیقی صلاحیت، اور تنقیدی سوچ کو بہتر بناتا ہے۔
-
غیر تربیت یافتہ استاد طلباء کو رٹنے پر مجبور کرتا ہے۔
بین الاقوامی ماڈلز
دنیا کے کئی ممالک اساتذہ کی تربیت کو قومی ترجیح سمجھتے ہیں:
فن لینڈ
-
سب سے بہترین تعلیمی نظام۔
-
ہر استاد کو ماسٹرز ڈگری لازمی۔
-
تربیت اور پریکٹس پر زور۔
سنگاپور
-
اساتذہ کو عزت اور مراعات دی جاتی ہیں۔
-
مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کا نظام۔
چین
-
ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت۔
-
کلاس روم آبزرویشن کا سسٹم۔
پاکستان میں حالیہ کوششیں
سنگل نیشنل کریکولم (SNC)
-
اساتذہ کی تربیت SNC پر کی جا رہی ہے۔
-
کئی NGOs اس تربیت میں شریک ہیں۔
-
تاہم تربیت کا معیار غیر یکساں ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز
-
Taleemabad App
-
TeleSchool Channel
-
ان پلیٹ فارمز پر اساتذہ کے لیے ویڈیوز موجود ہیں، مگر استعمال کم ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کی کوششیں
-
معیاری تربیتی کورسز۔
-
جدید تدریسی طریقوں پر فوکس۔
-
مگر فیس زیادہ، رسائی محدود۔
ممکنہ حل اور تجاویز
میرٹ پر بھرتیاں
-
صرف تربیت یافتہ اساتذہ بھرتی کیے جائیں۔
-
سیاسی مداخلت ختم کی جائے۔
تربیت کا لازمی ہونا
-
ان سروس ٹریننگ ہر ۳ سال بعد لازمی کی جائے۔
-
ترقی کا معیار تربیت اور کارکردگی پر مبنی ہو۔
بجٹ میں اضافہ
-
بجٹ کا کم از کم ۴ فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے۔
-
تربیت کے لیے الگ فنڈ مختص کیا جائے۔
جدید طریقے اپنانا
-
انٹرایکٹو لرننگ۔
-
پروجیکٹ بیسڈ لرننگ۔
-
ICT کا استعمال۔
دیہی علاقوں پر فوکس
-
دیہی علاقوں میں موبائل ٹریننگ یونٹ بنائے جائیں۔
-
لوکل لینگویجز میں تربیت دی جائے۔
اساتذہ کی عزت میں اضافہ
-
اساتذہ کو معاشرتی عزت دی جائے۔
-
تنخواہیں اور مراعات بہتر کی جائیں۔
نتیجہ
پاکستان میں تعلیمی نظام کی بہتری کا انحصار اساتذہ کی معیاری تربیت پر ہے۔ اگر استاد تربیت یافتہ اور پرعزم ہو تو وہ طلباء کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے:
-
مستقل تربیتی نظام
-
معیاری نصاب
-
جدید طریقہ تدریس
-
میرٹ پر مبنی نظام
کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے اساتذہ کی تربیت کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ کیونکہ معاشرے کا معمار استاد ہے اور اگر معمار مضبوط ہوگا تو قوم کی بنیادیں بھی مضبوط ہوں گی۔
