ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی ایٹمی اور فوجی تنصیبات پر ہلاکت خیز اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔

انہوں نے کہا:
"اسرائیل نے اپنے لیے ایک تلخ انجام منتخب کیا ہے، اور اب اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔”
انہوں نے اس حملے کو اسرائیل کی "بدفطرتی” کا ایک اور ثبوت قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حملے کا ہدف ایران کے ایٹمی افزودگی پروگرام کا مرکزی حصہ تھا، اور اس حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر کمانڈر بھی شہید ہو گئے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مشن کامیاب رہا، اور کہا کہ ایسے آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ اسرائیل کو درپیش تمام خطرات کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔

ایران کا شدید ردعمل

تہران میں فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا دونوں کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور "انہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی”۔
اگرچہ جانی نقصان کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر تاحال جاری نہیں کی گئیں، مگر ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکا پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بعض ہلاک شدگان میں بچے بھی شامل ہیں۔

تہران میں عوامی صدمہ اور خوف و ہراس

تہران کے شہریوں نے رات گئے متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جس کے باعث لوگ ساری رات جاگتے رہے، اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرتے اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کرتے رہے۔
پچھلے حملوں کے برعکس، اس بار کے فضائی حملے مبینہ طور پر رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کئی محلوں میں آگ اور خوف و ہراس کا باعث بنے۔

اگرچہ ایران میں انسٹاگرام، فیس بک اور X جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیاں ہیں، لیکن شہریوں نے VPN کا استعمال کرتے ہوئے ان پابندیوں کو عبور کیا اور حملوں کے بعد کی تصاویر اور ویڈیوز سرکاری چینلز سے بھی پہلے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے صورتِ حال کو "قابو میں” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں لگی آگ بجھا دی گئی ہے، تاہم عوامی خوف اور سپریم لیڈر کی سخت وارننگ ایک ایسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے