Women chant slogans as they take part in Aurat March, Urdu for Women's March, in Sukkur, Pakistan March 8, 2020. REUTERS/Yasir Ali NO RESALES. NO ARCHIVES.

عورت کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ جس معاشرے میں خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں، وہ معاشرہ ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ پاکستان، جو اسلام کے نام پر قائم ہوا، اس کی بنیاد انصاف، برابری اور انسانی حقوق پر رکھی گئی تھی۔ مگر بدقسمتی سے خواتین آج بھی پاکستان میں سماجی، معاشرتی، قانونی اور معاشی مسائل کا شکار ہیں۔

یہ مضمون پاکستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال، ان کو درپیش مسائل، قانونی فریم ورک، اعداد و شمار، اہم کیسز، اور ممکنہ حل کا تفصیل سے جائزہ پیش کرتا ہے

تاریخی پس منظر

تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار

تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، اور دیگر خواتین نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ اس وقت تصور تھا کہ پاکستان میں خواتین کو مساوی حقوق ملیں گے۔

قیام پاکستان کے بعد

قیام پاکستان کے بعد خواتین کی قانونی، سیاسی اور سماجی حیثیت پر کئی نشیب و فراز آئے:

  • 1956 کا آئین: خواتین کو مساوی شہری حقوق کی ضمانت

  • ایوب خان دور: خواتین کو پہلی بار قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مخصوص نشستیں

  • بھٹو دور: خواتین کے لیے سیاسی اور معاشرتی اصلاحات

  • ضیاء الحق دور: Hudood Ordinances جیسے قوانین نے خواتین کے لیے مسائل پیدا کیے

  • مشرف دور: خواتین کے لیے قانونی اصلاحات، مثلاً Women Protection Act 2006


آئینی اور قانونی تحفظات

آئینی ضمانتیں

آئین پاکستان خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے:

  • آرٹیکل 25: قانون کی نظر میں برابری

  • آرٹیکل 34: خواتین کی مکمل شرکت کی حوصلہ افزائی

  • آرٹیکل 35: خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کی ضمانت

  • آرٹیکل 37: معاشرتی انصاف اور فلاح کا فروغ


اہم قوانین

  • Women Protection Act 2006

  • Protection Against Harassment of Women at Workplace Act 2010

  • Anti-Rape Laws 2021

  • Anti-Honour Killing Law 2016

  • Acid Control and Acid Crime Prevention Act 2011

  • Domestic Violence Bills (مختلف صوبوں میں)

  • Hindu Marriage Act 2017 (ہندو خواتین کے لیے)

یہ قوانین اہم پیش رفت ہیں مگر عملدرآمد سب سے بڑا مسئلہ ہے۔


خواتین کو درپیش مسائل

1. گھریلو تشدد (Domestic Violence)

  • پاکستان میں ہر 4 میں سے 1 خاتون گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے۔

  • زیادہ تر کیس رپورٹ نہیں ہوتے۔

  • معاشرتی دباؤ، شرم اور قانونی پیچیدگیاں رکاوٹ ہیں۔


2. عزت کے نام پر قتل (Honour Killing)

  • خواتین کو محبت کی شادی، مرضی سے شادی، یا محض افواہوں پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

  • HRCP کے مطابق ہر سال تقریباً 1000 سے زائد خواتین قتل کی جاتی ہیں۔


3. جنسی ہراسانی

  • دفاتر، تعلیمی ادارے، پبلک مقامات سبھی خواتین کے لیے غیر محفوظ ہیں۔

  • خواتین صحافی اور کارکن خصوصی نشانہ بنتی ہیں۔


4. عصمت دری (Rape) اور جنسی جرائم

  • ہر سال ہزاروں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

  • بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

  • متاثرہ خواتین کو پولیس اسٹیشن میں بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


5. معاشی استحصال

  • پاکستان میں خواتین کی معاشی شرکت صرف 20% ہے۔

  • خواتین کی بڑی تعداد غیر رسمی سیکٹر میں کام کرتی ہے، بغیر کسی قانونی تحفظ کے۔

  • مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہ دی جاتی ہے۔


6. تعلیم تک رسائی

  • ملک میں 22.8 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔

  • قبائلی علاقوں، بلوچستان اور اندرون سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح کم ترین ہے۔


7. ونی، سوارہ، کاری جیسے رسم و رواج

  • خواتین کو قبائلی اور دیہی تنازعات کے حل کے لیے بطور “معاوضہ” دے دیا جاتا ہے۔

  • انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔


8. سیاسی نمائندگی

  • خواتین کی مخصوص نشستیں ہیں مگر ان پر اکثر طاقتور سیاسی جماعتوں کے قریبی افراد براجمان ہوتے ہیں۔

  • خواتین کی اصل نمائندگی محدود رہتی ہے۔


موجودہ صورتحال اور اعداد و شمار

  • خواتین کی آبادی: 48.76%

  • خواتین کی شرح خواندگی: تقریباً 52%

  • لیبر فورس میں شرکت: 20%

  • عزت کے نام پر قتل: ہر سال تقریباً 1000 کیسز

  • گھریلو تشدد کیسز: لاکھوں مگر رپورٹ بہت کم

  • سیاست میں خواتین: قومی اسمبلی میں 60 نشستیں مخصوص

یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ خواتین آبادی کا نصف ہیں، ان کی پوزیشن اب بھی کمزور ہے۔


اہم کیسز

خدیجہ صدیقی کیس

  • خدیجہ پر اس کے کلاس فیلو نے چاقو سے حملہ کیا۔

  • ابتدائی طور پر ملزم بری ہوا مگر سپریم کورٹ نے سزا دی۔

  • کیس نے خواتین کے انصاف کے حصول کی مشکلات کو بے نقاب کیا۔


قندیل بلوچ قتل کیس

  • قندیل بلوچ کو 2016 میں اس کے بھائی نے قتل کیا۔

  • کیس نے عزت کے نام پر قتل کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔


مختاراں مائی کیس

  • 2002 میں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

  • سپریم کورٹ میں کیس سالوں چلتا رہا۔

  • مختاراں مائی نے خواتین کے حقوق کے لیے تنظیم بنائی۔


زینب قتل کیس

  • قصور میں 7 سالہ بچی کا ریپ اور قتل۔

  • عوامی دباؤ پر مجرم کو سزائے موت دی گئی۔

  • بچوں کے تحفظ پر سوال اٹھے۔


عالمی سطح پر پاکستان کی درجہ بندی

  • Global Gender Gap Index 2022 میں پاکستان 145 ممالک میں 143ویں نمبر پر رہا۔

  • Gender Parity میں صرف افغانستان نیچے ہے۔

  • خواتین پر تشدد، معاشی مواقع کی کمی، اور سیاسی شمولیت میں پاکستان کا اسکور کم ہے۔


مذہبی اقلیتی خواتین کے مسائل

  • ہندو، عیسائی اور احمدی خواتین کو دوہرا امتیاز جھیلنا پڑتا ہے۔

  • جبری مذہب تبدیلی کا سب سے زیادہ شکار ہندو اور عیسائی لڑکیاں ہیں۔

  • کئی لڑکیاں اغوا اور زبردستی مسلمان کر کے شادی پر مجبور کی جاتی ہیں۔


خواتین کے لیے مثبت پیش رفت

  • خواتین کے لیے نئے قوانین

  • خواتین پولیس اسٹیشنز کا قیام

  • خواتین کے لیے ووٹر رجسٹریشن میں اضافہ

  • میڈیا پر خواتین کے مسائل کا زیادہ ذکر

  • خواتین وکیلوں، صحافیوں، اور کارکنوں کی اب زیادہ تعداد


مشہور خواتین حقوق کی علمبردار

  • عاصمہ جہانگیر

  • مختاراں مائی

  • خدیجہ صدیقی

  • ملالہ یوسفزئی

  • ماروی سرمد

  • فوزیہ وقار (پنجاب کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن)

یہ خواتین آج بھی خواتین کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔


مسائل کے حل کے لیے سفارشات

1. قوانین پر عملدرآمد

  • موجودہ قوانین پر سختی سے عمل ہو۔

  • عدالتوں میں خواتین کے کیسز ترجیحی بنیاد پر سنیں۔


2. تعلیم کا فروغ

  • لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں۔

  • دیہی علاقوں میں اسکول قائم ہوں۔


3. سماجی رویوں میں تبدیلی

  • علماء، اساتذہ اور میڈیا کو خواتین کے حقوق پر مثبت پیغام دینا چاہیے۔

  • ونی، سوارہ، کاری جیسے رواج ختم کیے جائیں۔


4. معاشی شمولیت

  • خواتین کو کاروبار اور نوکریوں میں مراعات دی جائیں۔

  • غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو قانونی تحفظ دیا جائے۔


5. خواتین پر تشدد کی روک تھام

  • پولیس میں خواتین اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے۔

  • خواتین شیلٹر ہومز کو بہتر بنایا جائے۔

  • آن لائن ہراسانی پر سخت کارروائی ہو۔


6. سیاسی شمولیت

  • مخصوص نشستوں کے ساتھ خواتین کو براہ راست الیکشن لڑنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے۔

  • سیاسی جماعتیں خواتین کو اہم عہدے دیں۔


نتیجہ

پاکستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال پیچیدہ ہے۔ ایک طرف خواتین نے ہر میدان میں کارنامے انجام دیے ہیں، دوسری طرف وہ آج بھی تشدد، امتیاز اور استحصال کا شکار ہیں۔

حکومت، عدلیہ، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ خواتین کو حقیقی معنوں میں وہ مقام مل سکے جس کی وہ حقدار ہیں۔ کیونکہ خواتین کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے