انسانی حقوق کا تصور بنیادی طور پر اس اصول پر قائم ہے کہ ہر انسان، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، رنگ، نسل، جنس یا علاقے سے ہو، برابر کے حقوق اور احترام کا حقدار ہے۔ خواتین کی بات کریں تو وہ نہ صرف آبادی کا نصف حصہ ہیں بلکہ خاندان اور معاشرت کی بنیاد بھی انہی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کے بغیر معاشرتی ڈھانچہ ادھورا اور غیر متوازن رہتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آج بھی خواتین کے حقوق کا مسئلہ نہایت سنجیدہ ہے۔
پاکستان کے آئین میں خواتین کو برابر کے حقوق دینے کی ضمانت موجود ہے، مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی تصویر پیش کرتے ہیں۔ معاشرتی روایات، فرسودہ رسومات، مذہبی حوالوں کا غلط استعمال، کم تعلیم، غربت اور صنفی امتیاز نے خواتین کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات کھڑی کر رکھی ہیں۔ آج بھی پاکستان میں کروڑوں خواتین ایسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں جنہیں دنیا بھر میں مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔
یہ مضمون اسی پس منظر میں لکھا جا رہا ہے تاکہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے مسائل کا جائزہ لیا جا سکے اور ان کے حل کی تجاویز پیش کی جا سکیں۔

تاریخی پس منظر
برصغیر میں خواتین کی حیثیت
برصغیر میں خواتین کا مقام ہمیشہ متضاد رہا ہے۔ ایک طرف قدیم تہذیبوں میں عورت کو دیوی اور عزت کی علامت سمجھا گیا، دوسری طرف ستی، وٹہ سٹہ، کاروکاری، کم عمری کی شادی اور جہیز جیسی رسومات نے عورت کو ظلم کی چکی میں پیس کر رکھ دیا۔
قیام پاکستان اور خواتین کے حقوق
قیام پاکستان کے وقت خواتین نے بھرپور کردار ادا کیا۔ تحریکِ پاکستان میں بیگم رعنا لیاقت علی خان، فاطمہ جناح اور دیگر خواتین کا کردار تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے بھی کئی مواقع پر خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دینے کی حمایت کی۔ مگر بدقسمتی سے قیام کے فوراً بعد ہی خواتین کے حقوق کے حوالے سے تحریکیں شروع کرنی پڑیں کیونکہ معاشرتی ڈھانچہ روایتی اور پدرشاہی نظام کے تحت ہی چلتا رہا۔
قانونی اور آئینی تحفظات
پاکستان کا آئین 1973 میں خواتین کو کئی بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، جیسے:
-
آرٹیکل 25: تمام شہریوں کو قانون کی نظر میں برابر قرار دیتا ہے اور صنفی امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
-
آرٹیکل 34: کہتا ہے کہ ریاست خواتین کی قومی زندگی کے تمام شعبوں میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائے گی۔
-
آرٹیکل 35: خاندان کے ادارے، ماں اور بچے کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
مزید برآں، پاکستان میں خواتین کے لیے کئی قوانین منظور کیے گئے ہیں، مثلاً:
-
تحفظ خواتین ایکٹ 2006
-
انسداد جنسی ہراسانی ایکٹ 2010
-
گھریلو تشدد کے خلاف قوانین (صوبائی سطح پر مختلف قوانین)
-
اینٹی آنر کلنگ لاء 2016
-
چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ
یہ قوانین موجود تو ہیں مگر اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہے جو اکثر کمزور رہتا ہے۔
خواتین کو درپیش اہم مسائل
1. تعلیم تک رسائی میں کمی
پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچیاں اسکول نہیں جاتیں۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول نہ جانے والی بچیوں کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ والدین کی غربت، روایتی سوچ، کم عمری کی شادی اور لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھنا اس کی اہم وجوہات ہیں۔
2. کم عمری کی شادی
پاکستان میں کم عمری کی شادی بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں بچیوں کو 13-14 سال کی عمر میں بیاہ دیا جاتا ہے۔ کم عمری کی شادی نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم ختم کرتی ہے بلکہ ان کی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
3. گھریلو تشدد
خواتین پر گھریلو تشدد پاکستان میں سب سے عام مسئلہ ہے۔ “ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان” کی رپورٹ کے مطابق ہر دوسری عورت کسی نہ کسی شکل میں گھریلو تشدد کا شکار ہے۔ اکثر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ خواتین بدنامی کے ڈر یا مالی انحصار کی وجہ سے خاموش رہتی ہیں۔
4. جنسی ہراسانی
پاکستان میں خواتین کو دفاتر، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ حتیٰ کہ گھروں میں بھی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ انسداد ہراسانی قانون موجود ہے، مگر اس پر عملدرآمد اور سماجی ردعمل اب بھی مسئلہ ہے۔
5. معاشی عدم مساوات
پاکستان میں خواتین کی محنت کش آبادی میں حصہ مردوں کی نسبت انتہائی کم ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں صرف 22-23 فیصد خواتین ہی معاشی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ ملازمت کے مواقع کم ہیں اور جہاں ہیں وہاں تنخواہ بھی مردوں کے مقابلے میں کم دی جاتی ہے۔
6. صحت کے مسائل
زچگی کے دوران اموات کی شرح پاکستان میں بلند ترین ہے۔ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان، خاندانی منصوبہ بندی کی کمی، اور غربت خواتین کے صحت کے مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔
7. سیاسی عمل میں کم شمولیت
پاکستان میں اگرچہ خواتین کو ووٹ کا حق حاصل ہے، مگر اب بھی کئی علاقوں میں انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ خواتین کی پارلیمنٹ میں نمائندگی اگرچہ بڑھ رہی ہے مگر ان کی حقیقی سیاسی طاقت اب بھی محدود ہے۔
خواتین کی معاشرتی اور ثقافتی مشکلات
قبائلی اور روایتی نظام
بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے بعض علاقوں میں قبائلی نظام خواتین پر سخت پابندیاں عائد کرتا ہے۔ “کاروکاری”، “ونی”، “سوارہ” جیسی رسمیں آج بھی زندہ ہیں جہاں خواتین کو تنازعات کے حل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
عزت کے نام پر قتل
پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین “غیرت” کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ اگرچہ 2016 میں قانون میں ترمیم کی گئی، مگر ابھی بھی متاثرہ خاندان اکثر قاتل کو معاف کر دیتا ہے اور ملزم بچ نکلتا ہے۔
مذہبی حوالہ جات کا غلط استعمال
کئی دفعہ خواتین کے حقوق کے خلاف مذہبی دلائل دیے جاتے ہیں جبکہ اسلام نے خواتین کو بنیادی حقوق اور عزت دی ہے۔ بدقسمتی سے مذہب کو اکثر روایتی نظام برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال اور اعدادوشمار
-
صحت: ہر سال تقریباً 14,000 خواتین زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔
-
تعلیم: دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی اسکول میں حاضری کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں تقریباً 20-30 فیصد کم ہے۔
-
معاشی شرکت: خواتین کی معاشی شرکت عالمی اوسط (تقریباً 50%) کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔
-
جنسی تشدد: سالانہ ہزاروں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، مگر اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔
-
غیرت کے نام پر قتل: صرف 2022 میں تقریباً 500 کیسز رپورٹ ہوئے۔
یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مسائل کتنے شدید اور وسیع ہیں۔
مثبت پیش رفت اور کامیابیاں
خواتین کی تنظیمیں
پاکستان میں کئی این جی اوز اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں، جیسے:
-
عورت فاؤنڈیشن
-
ویمن ایکشن فورم
-
AGHS لیگل ایڈ سیل
-
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار
میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا، نے خواتین کے حقوق کی بحث کو عوامی سطح تک پہنچایا ہے۔ “می ٹو” مہم پاکستان میں بھی زور پکڑ رہی ہے، جس نے کئی بڑے ناموں کو بے نقاب کیا۔
نمایاں خواتین شخصیات
پاکستان کی کئی خواتین نے دنیا میں نام کمایا، جیسے:
-
ملالہ یوسفزئی (نوبل انعام یافتہ)
-
ثمینہ بیگ (پہاڑوں کی کوہ پیما)
-
شرمین عبید چنائے (آسکر ایوارڈ یافتہ)
-
عاصمہ جہانگیر (معروف انسانی حقوق کی وکیل)
یہ خواتین امید کی کرن ہیں کہ پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں۔
حل اور سفارشات
-
قانون پر سخت عملدرآمد
صرف قانون بنانا کافی نہیں۔ عدالتوں میں کیسز کو تیز رفتاری سے نمٹانے اور مجرموں کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔ -
تعلیمی اصلاحات
لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی جائے۔ وظائف، محفوظ اسکول ٹرانسپورٹ اور والدین کو آگاہی دی جائے۔ -
معاشی خودمختاری
خواتین کو ہنر سکھانے، چھوٹے کاروبار کے لیے قرضے فراہم کرنے اور مردوں کے برابر تنخواہ دینے کی ضرورت ہے۔ -
سماجی آگاہی
عوام میں شعور بیدار کیا جائے کہ خواتین بھی انسان ہیں اور ان کے ساتھ ظلم معاشرتی زوال کا سبب بنتا ہے۔ -
میڈیا کا مثبت کردار
ڈرامے، فلمیں اور خبریں خواتین کے حقوق کو مثبت انداز میں اجاگر کریں۔ -
مذہبی رہنماؤں کی شمولیت
علماء اور خطباء خواتین کے حقوق کے بارے میں صحیح اسلامی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں۔ -
حکومتی اقدامات
حکومت خواتین کے تحفظ کے لیے فنڈز اور وسائل میں اضافہ کرے۔ پولیس میں خواتین کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ متاثرہ خواتین اپنی شکایات آسانی سے درج کرا سکیں۔
نتیجہ
پاکستان میں خواتین کے حقوق کا مسئلہ سنگین ہے مگر حل طلب بھی۔ اگر قانون پر عمل ہو، معاشرتی سوچ بدلے، اور حکومت سنجیدہ اقدامات کرے، تو یہ صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی خواتین میں بے پناہ صلاحیت ہے۔ اگر انہیں مساوی مواقع دیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے فخر اور ترقی کا سبب بن سکتی ہیں۔
پاکستان کا مستقبل خواتین کے حقوق کے تحفظ میں مضمر ہے۔ کیونکہ کوئی بھی معاشرہ تب تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کا نصف حصہ مسلسل نظر انداز ہوتا رہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ خواتین کے حقوق، انسانی حقوق ہیں۔

I am truly glad to glance at this blog posts which carries lots of useful information, thanks for providing these kinds of
statistics.
I?¦ll immediately grasp your rss as I can not find your e-mail subscription hyperlink or e-newsletter service. Do you’ve any? Kindly allow me recognize so that I could subscribe. Thanks.