پاکستانی معاشرہ بظاہر اسلامی اصولوں اور اخلاقیات پر مبنی ہے، جہاں خاندان کو معاشرتی اکائی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اسی خاندان کے اندر بعض اوقات خواتین پر ایسے مظالم ڈھائے جاتے ہیں جو انسانیت سوز ہیں۔ گھریلو تشدد (Domestic Violence) اور شادی شدہ خواتین پر ظلم نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے معاشرتی نظام کو زہر آلود کر دیتا ہے۔
یہ مسئلہ چھپ کر ہوتا ہے۔ خواتین خاموش رہتی ہیں، خاندان عزت کے نام پر پردہ ڈال دیتا ہے، اور معاشرہ اس پر بات کرنے سے کتراتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہزاروں خواتین اپنی زندگی اذیت میں گزار دیتی ہیں۔

گھریلو تشدد کیا ہے؟
گھریلو تشدد سے مراد وہ تمام جسمانی، نفسیاتی، جنسی، یا مالی تشدد ہے جو شوہر، سسرال، یا خاندان کے دیگر افراد کی طرف سے عورت پر کیا جاتا ہے۔ اس میں شامل ہیں:
-
مارپیٹ
-
گالم گلوچ اور ذہنی اذیت
-
جنسی زیادتی یا زبردستی
-
معاشی کنٹرول (جیب خرچ نہ دینا، ملازمت سے روکنا)
-
دھمکیاں دینا
-
جذباتی بلیک میلنگ
-
سوشل بائیکاٹ (علیحدہ کمرے میں رہنے پر مجبور کرنا)
-
سسرال والوں کی طرف سے ظلم
گھریلو تشدد کی اقسام
جسمانی تشدد
-
تھپڑ مارنا
-
گھونسے مارنا
-
بال پکڑ کر کھینچنا
-
گرم پانی ڈالنا
-
تیزاب پھینکنا
نفسیاتی تشدد
-
طعنے دینا
-
تذلیل کرنا
-
عزت پر حملے
-
مسلسل کنٹرول کرنا
جنسی تشدد
-
زبردستی جسمانی تعلق
-
مرضی کے خلاف مباشرت
-
شوہر کی اجازت کے بغیر ڈاکٹر کے پاس نہ جانے دینا
مالی تشدد
-
عورت کی کمائی پر قبضہ
-
جیب خرچ نہ دینا
-
ضروریات پوری نہ کرنا
پاکستان میں گھریلو تشدد کے اعداد و شمار
-
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ہر سال ہزاروں خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔
-
اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ زیادہ تر کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
-
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد میں ۲۰ سے ۲۵ فیصد اضافہ ہوا۔
-
دیہی علاقوں میں خواتین کی حالت زیادہ خراب ہے کیونکہ وہاں شکایت کے مواقع اور قانونی مدد کم ہے۔
گھریلو تشدد کے اسباب
پدرسری نظام
-
مرد خود کو عورت پر حاکم سمجھتا ہے۔
-
عورت کو شوہر کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔
-
شادی کو عورت کے لیے غلامی سمجھا جاتا ہے۔
تعلیم کی کمی
-
عورت کے حقوق سے لاعلمی
-
مردوں کی تربیت میں خواتین کی عزت شامل نہیں
معاشرتی دباؤ
-
“عزت” کے نام پر عورت کو خاموش رہنے پر مجبور کرنا
-
خاندان کا دباؤ کہ بات باہر نہ نکلے
قانون پر عمل درآمد میں کمزوری
-
پولیس سنجیدگی سے کیس نہیں لیتی۔
-
عدالتوں میں کیس سالوں تک چلتے ہیں۔
-
معاشرتی دباؤ سے متاثرہ عورت کیس واپس لے لیتی ہے۔
گھریلو تشدد کے اثرات
نفسیاتی اثرات
-
ڈپریشن
-
ذہنی دباؤ
-
خودکشی کے خیالات
-
خوف اور اضطراب
جسمانی اثرات
-
مستقل چوٹیں
-
جسمانی معذوری
-
صحت کی خرابی
سماجی اثرات
-
خاندان سے دوری
-
بچوں پر منفی اثرات
-
طلاق یا علیحدگی
معاشی اثرات
-
عورت معاشی طور پر محتاج ہو جاتی ہے۔
-
ملازمت یا روزگار چھوٹ جاتا ہے۔
-
بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔
بچوں پر اثرات
-
بچے نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔
-
لڑکے تشدد کو جائز سمجھنے لگتے ہیں۔
-
لڑکیاں خوف زدہ اور عدم اعتماد کا شکار ہو جاتی ہیں۔
-
تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان میں قانونی پہلو
ڈومیسٹک وائلنس بل
-
کچھ صوبوں نے گھریلو تشدد بل پاس کیا ہے جیسے سندھ اور پنجاب۔
-
اس بل کے تحت:
-
متاثرہ خاتون کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
-
مجرم پر جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
-
پروٹیکشن آفیسرز کی تعیناتی کی جاتی ہے۔
-
-
لیکن بدقسمتی سے ان قوانین پر مکمل عمل نہیں ہوتا۔
قانونی رکاوٹیں
-
پولیس اکثر کیس کو “گھریلو معاملہ” کہہ کر ٹال دیتی ہے۔
-
عدالتوں میں کیس لمبے عرصے تک چلتے ہیں۔
-
عورتوں کو ثبوت اکٹھے کرنا مشکل ہوتا ہے۔
-
خاندان اور سسرال کا دباؤ ہوتا ہے کہ کیس واپس لے لیا جائے۔
مذہبی اور سماجی دلیل
-
کچھ لوگ مذہب کا غلط استعمال کرکے عورت پر ظلم کو جائز قرار دیتے ہیں۔
-
حالانکہ اسلام میں عورت پر ظلم حرام ہے اور بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔
سول سوسائٹی اور این جی اوز کا کردار
پاکستان میں کئی این جی اوز گھریلو تشدد کے خلاف کام کر رہی ہیں، جیسے:
-
آواری نیٹ ورک
-
ویمن پروٹیکشن ونگ
-
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
یہ ادارے:
-
قانونی مدد فراہم کرتے ہیں۔
-
شیلٹر ہومز چلاتے ہیں۔
-
متاثرہ خواتین کو نفسیاتی سپورٹ دیتے ہیں۔
-
آگاہی مہم چلاتے ہیں۔
سدباب کے لیے تجاویز
۱. تعلیم اور تربیت
-
اسکولوں اور کالجوں میں خواتین کے حقوق پڑھائے جائیں۔
-
مردوں کی تربیت کی جائے کہ خواتین پر ہاتھ اٹھانا جرم ہے۔
-
نکاح سے پہلے شادی شدہ زندگی کی تربیت دی جائے۔
۲. قانونی عمل کو بہتر کرنا
-
پولیس کو تربیت دی جائے۔
-
عدالتوں میں تیز ترین فیصلے کیے جائیں۔
-
پروٹیکشن آفیسرز کی تعداد بڑھائی جائے۔
۳. متاثرہ خواتین کو سپورٹ
-
شیلٹر ہومز کی تعداد بڑھائی جائے۔
-
قانونی مدد مفت فراہم کی جائے۔
-
خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنایا جائے۔
۴. معاشرتی رویے میں تبدیلی
-
عورت کو عزت دی جائے۔
-
گھریلو تشدد کو “گھر کا معاملہ” نہ سمجھا جائے۔
-
میڈیا مثبت کردار ادا کرے۔
نتیجہ
گھریلو تشدد صرف عورت پر ظلم نہیں بلکہ پورے معاشرے پر ظلم ہے۔ جب عورت غیر محفوظ ہو، تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، عورتوں کی آواز بنیں، اور اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

Promote our products—get paid for every sale you generate! https://shorturl.fm/8mxn8
Start sharing our link and start earning today! https://shorturl.fm/RMiMy
Maximize your income with our high-converting offers—join as an affiliate! https://shorturl.fm/Zmgi2