دنیا بھر میں آبادی کی درست گنتی اور اس کے متعلق اعداد و شمار کسی بھی ملک کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر قومی پالیسیز، ترقیاتی منصوبے، وسائل کی تقسیم اور سماجی بہبود کے پروگرام تشکیل دیے جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے مردم شماری نہ صرف مردم شماری کا عمل ہے بلکہ یہ معاشی، سیاسی اور سماجی استحکام کا ضامن بھی ہے۔
روایتی مردم شماری میں کاغذ اور قلم کا استعمال کیا جاتا تھا، جس کے باعث اس میں کئی مسائل جنم لیتے تھے، جیسے ڈیٹا میں غلطیاں، جعلسازی، وقت کا زیادہ لگنا اور مالی وسائل کا ضیاع۔ جدید دور میں ٹیکنالوجی نے ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا ہے، اور مردم شماری بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہی۔ ڈیجیٹل مردم شماری ایک ایسا قدم ہے جو شفافیت، تیزی اور درستگی کو ممکن بناتا ہے۔ اس مضمون میں ہم ڈیجیٹل مردم شماری کی اہمیت، فوائد، چیلنجز اور پاکستان کے تناظر میں اس کے اثرات پر تفصیل سے بات کریں گے۔

مردم شماری کی اہمیت
قومی منصوبہ بندی میں کردار
مردم شماری کی بدولت حکومت کو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی آبادی کتنی ہے، کہاں کہاں لوگ زیادہ رہتے ہیں، کس علاقے میں سہولیات کی کمی ہے اور کون سے طبقات پسماندہ ہیں۔ اس ڈیٹا کی روشنی میں ترقیاتی منصوبے ترتیب دیے جاتے ہیں جیسے اسکول، ہسپتال، سڑکیں، بجلی، پانی وغیرہ۔
سیاسی نمائندگی کا تعین
آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندی کی جاتی ہے، جس سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی طے ہوتی ہے۔ اگر مردم شماری کے اعداد و شمار درست نہ ہوں تو سیاسی ناانصافی جنم لے سکتی ہے۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان فنڈز کی تقسیم، NFC ایوارڈ، سبسڈی وغیرہ بھی مردم شماری پر انحصار کرتے ہیں۔
روایتی مردم شماری کے مسائل
سست روی اور وقت کا ضیاع
روایتی مردم شماری میں کاغذی فارم بھرے جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں کمپیوٹرائز کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں کئی ماہ یا سال لگ جاتے ہیں۔
ڈیٹا میں غلطیاں
ہاتھ سے فارم بھرنے اور ڈیٹا انٹری کرنے میں غلطیوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے نتائج پر سوالات اٹھتے ہیں۔
شفافیت کا فقدان
کئی بار مردم شماری کے نتائج پر اعتراضات ہوتے ہیں کہ فلاں علاقے میں آبادی زیادہ یا کم دکھائی گئی ہے۔ اس سے سیاسی تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔
اخراجات میں اضافہ
کاغذی فارم، عملے کی تربیت، ڈیٹا انٹری، گودام میں ریکارڈ کی حفاظت — سب مراحل مہنگے اور محنت طلب ہوتے ہیں۔
ڈیجیٹل مردم شماری کیا ہے؟
ڈیجیٹل مردم شماری سے مراد وہ مردم شماری ہے جس میں کاغذی فارم کے بجائے الیکٹرانک ڈیوائسز جیسے ٹیبلٹ، موبائل ایپ، یا کمپیوٹرز استعمال کیے جائیں۔ مردم شماری کا عملہ گھر گھر جا کر معلومات ڈیجیٹل فارم میں محفوظ کرتا ہے، جو براہ راست مرکزی سرور پر اپ لوڈ ہوتا ہے۔
یہ طریقہ کئی طرح سے روایتی مردم شماری سے بہتر اور جدید ہے۔
ڈیجیٹل مردم شماری کے فوائد
1. شفافیت میں اضافہ
ڈیجیٹل ڈیٹا براہ راست سرور پر جاتا ہے، جس سے معلومات میں تبدیلی یا جعلسازی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ ہر ڈیٹا پوائنٹ کے ساتھ جغرافیائی لوکیشن (GPS) محفوظ کی جاتی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ معلومات کہاں سے لی گئی ہیں۔
2. وقت کی بچت
کاغذی فارم بھرنے، انہیں اکٹھا کرنے اور کمپیوٹر پر ڈالنے میں جو وقت لگتا ہے، وہ سب بچ جاتا ہے۔ ڈیٹا فوری دستیاب ہوتا ہے۔
3. درستگی
ڈیجیٹل فارم میں کئی طرح کی تصدیقی شرائط (Validation Checks) لگائی جاتی ہیں۔ مثلاً اگر عمر درج کرتے وقت 150 سال لکھی جائے تو سسٹم فوراً غلطی ظاہر کرتا ہے۔ اس سے ڈیٹا کی کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔
4. کم اخراجات
اگرچہ آغاز میں ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے ٹیکنالوجی پر خرچ آتا ہے، لیکن طویل مدت میں اخراجات کم ہو جاتے ہیں کیونکہ کاغذ، پرنٹنگ، اسٹوریج، اور ڈیٹا انٹری پر خرچ نہیں آتا۔
5. رئیل ٹائم مانیٹرنگ
حکومت اور مردم شماری کے اعلیٰ حکام لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کر سکتے ہیں کہ کس علاقے میں کام ہورہا ہے اور کس علاقے میں تاخیر ہے۔
6. ماحولیاتی تحفظ
کاغذی فارم کے استعمال میں درخت کٹتے ہیں۔ ڈیجیٹل مردم شماری ماحول دوست ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز
پس منظر
پاکستان میں 2017 میں آخری مردم شماری روایتی طریقے سے ہوئی تھی، جس پر کئی حلقوں نے اعتراضات اٹھائے۔ اس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگلی مردم شماری جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی۔
2023 میں پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز کیا گیا، جس کے لیے پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) نے جدید سسٹم تیار کیا۔ اس عمل میں ٹیبلٹس، موبائل ایپس، اور آن لائن پورٹل استعمال کیے گئے۔
ڈیجیٹل مردم شماری کے اہم فیچرز
جی آئی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال
ہر گھر کی لوکیشن GPS کے ذریعے ریکارڈ کی گئی، جس سے بعد میں نتائج کی تصدیق آسان ہوگئی۔
آن لائن سیلف انمریشن
پاکستان میں پہلی بار لوگوں کو موقع دیا گیا کہ وہ گھر بیٹھے اپنا ڈیٹا آن لائن خود درج کریں۔ اگرچہ زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھا سکے، مگر یہ ایک انقلابی قدم تھا۔
اینڈرائیڈ ایپلیکیشنز
مردم شماری عملہ ٹیبلٹس کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کر رہا تھا، جس میں سوالنامے پہلے سے پروگرام کیے گئے تھے۔
چیلنجز اور مسائل
ڈیجیٹل خواندگی کی کمی
پاکستان میں بڑی آبادی کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کا تجربہ نہیں۔ خصوصاً دیہی علاقوں میں لوگوں کو آن لائن فارم بھرنے میں دشواری ہوئی۔
انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی
کئی دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کمزور یا موجود ہی نہیں۔ اس سے ڈیٹا اپ لوڈ کرنے میں مشکلات آئیں۔
سیکیورٹی خدشات
ڈیجیٹل ڈیٹا ہیکنگ اور سائبر حملوں کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس لیے سیکیورٹی کا بندوبست ضروری ہے۔
مالی وسائل
ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے آغاز میں کافی سرمایہ درکار ہوتا ہے، جیسے ٹیبلٹس کی خریداری، سافٹ ویئر کی تیاری، اور عملے کی تربیت۔
پاکستان کے لیے فوائد
صوبوں میں فنڈز کی منصفانہ تقسیم
ڈیجیٹل مردم شماری سے حاصل شدہ درست ڈیٹا کی بنیاد پر NFC ایوارڈ زیادہ منصفانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انتخابی عمل کی شفافیت
حلقہ بندیاں درست آبادی کی بنیاد پر ہوسکیں گی، جس سے سیاسی استحکام بڑھے گا۔
ترقیاتی منصوبہ بندی
حکومت تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر میں حقیقی ضرورت کے مطابق سرمایہ لگا سکے گی۔
بین الاقوامی ساکھ
ڈیجیٹل مردم شماری سے پاکستان کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر بہتر ہوگی، کیونکہ یہ ترقی یافتہ ممالک کا طریقہ کار ہے۔
عالمی تجربات
بھارت
بھارت نے 2021 کی مردم شماری کو جزوی طور پر ڈیجیٹل بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن کووڈ-19 کے باعث یہ عمل تاخیر کا شکار ہوا۔ بھارت میں آن لائن سیلف انمریشن کا نظام بھی متعارف کرایا گیا تھا۔
بنگلہ دیش
بنگلہ دیش نے 2022 میں ڈیجیٹل مردم شماری کی، جس میں موبائل ایپ اور جی آئی ایس ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ ان کے تجربے نے پاکستان کو بھی رہنمائی فراہم کی۔
چین
چین میں مردم شماری مکمل طور پر ڈیجیٹل ہے۔ انہوں نے نہ صرف ڈیٹا اکٹھا کیا بلکہ اس کا تجزیہ بھی مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کیا۔
مستقبل کے لیے سفارشات
عوامی آگاہی مہم
حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو آگاہ کرے کہ ڈیجیٹل مردم شماری ان کے لیے کیسے فائدہ مند ہے۔ اس سے لوگوں کی شرکت میں اضافہ ہوگا۔
انٹرنیٹ کی بہتری
حکومت کو انٹرنیٹ سروسز کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانا ہوگا تاکہ ڈیجیٹل مردم شماری میں کوئی علاقہ پیچھے نہ رہ جائے۔
سائبر سیکیورٹی کا انتظام
ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے عالمی معیار کے سیکیورٹی پروٹوکول اپنانے چاہئیں۔
عملے کی تربیت
مردم شماری عملے کو ڈیجیٹل آلات استعمال کرنے اور لوگوں سے بہتر رابطہ کرنے کی تربیت دینا لازمی ہے۔
نتیجہ
ڈیجیٹل مردم شماری پاکستان کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔ یہ نہ صرف شفافیت اور درستگی کو یقینی بناتی ہے بلکہ قومی ترقی کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ اگرچہ اس میں کچھ چیلنجز موجود ہیں، لیکن درست حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی، اور عوامی تعاون کے ذریعے پاکستان اس شعبے میں بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔
ڈیجیٹل مردم شماری محض آبادی گننے کا نام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل کی منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور جمہوری استحکام کا زینہ ہے۔ پاکستان کو اس راہ پر ثابت قدمی سے چلنا ہوگا تاکہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جاسکے۔
