موسمیاتی تبدیلی کی بدترین اشکال میں سے ایک ہیٹ ویو (Heatwave) یعنی شدید گرمی کی لہر ہے، جو پاکستان جیسے ترقی پذیر اور آبادی سے بھرے ملک میں ایک خطرناک حقیقت بن چکی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں، خاص طور پر سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کئی علاقے ہیٹ ویوز کی زد میں آ چکے ہیں، جنہوں نے درجنوں جانیں لیں اور لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی گرمی، شہری آبادیوں میں ناقص منصوبہ بندی، درختوں کی کمی، اور انفراسٹرکچر کی کمزوری نے ہیٹ ویوز کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ اس مضمون میں ہم جائزہ لیں گے کہ ہیٹ ویوز کیا ہیں، یہ کیوں بڑھ رہی ہیں، پاکستان کس حد تک متاثر ہو رہا ہے، حکومت اور عوام کی کیا تیاری ہے، اور مستقبل میں ہمیں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

ہیٹ ویو کیا ہے؟

ہیٹ ویو ایک ایسا موسمی مظہر ہے جس میں ایک مخصوص علاقے میں دن اور رات کے درجہ حرارت مسلسل کئی دنوں تک معمول سے بہت زیادہ رہتے ہیں۔ عالمی ادارہ موسمیات کے مطابق، اگر درجہ حرارت ایک مخصوص سطح سے زائد ہو جائے اور یہ کیفیت تین دن یا اس سے زیادہ برقرار رہے، تو اسے ہیٹ ویو کہا جاتا ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں جب درجہ حرارت 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے اور لو (گرم خشک ہوا) چلتی ہے، تو انسانی جسم پر اس کے مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


پاکستان میں ہیٹ ویوز کی بڑھتی ہوئی شدت

کراچی 2015 کا ہیٹ ویو سانحہ

جون 2015 میں کراچی شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں آیا جس میں 1,200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، اور ہزاروں اسپتالوں میں داخل ہوئے۔ اس سانحے نے ملک بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی کہ ہم اس قدرتی آفت کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔

حالیہ برسوں کے اعداد و شمار

  • 2022 میں جیکب آباد کا درجہ حرارت 51°C تک پہنچ گیا، جو دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوا۔

  • 2023 میں سندھ اور جنوبی پنجاب میں اپریل کے مہینے میں ہی جون جیسے درجہ حرارت ریکارڈ ہوئے۔

  • ہیٹ ویوز کا آغاز اب مارچ سے ہونے لگا ہے، جو پہلے مئی یا جون میں ہوتا تھا۔


ہیٹ ویوز کے اسباب

1. موسمیاتی تبدیلی

دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ 50 سالوں میں اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 1.1°C کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

2. اربنائزیشن اور درختوں کی کٹائی

شہروں میں درختوں کی کمی، سیمنٹڈ عمارات، اور گرین ایریاز کی کمی نے گرمی کو جذب کرنے والی سطحوں میں اضافہ کر دیا ہے، جسے "اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ” کہا جاتا ہے۔

3. توانائی کا زیادہ استعمال

ائیر کنڈیشنرز، گاڑیوں اور صنعتوں سے خارج ہونے والی گرمی اور گیسز بھی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔


ہیٹ ویو کے اثرات

انسانی صحت پر اثرات

  • ہیٹ اسٹروک: جسم کا درجہ حرارت 40°C سے اوپر چلا جائے تو ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے، جو جان لیوا ہے۔

  • ڈی ہائیڈریشن: جسم سے پانی کی شدید کمی، جو تھکن، بیہوشی اور موت کا باعث بن سکتی ہے۔

  • دل اور سانس کی بیماریاں: بزرگ، بچے اور دل کے مریض زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

معیشت پر اثرات

  • کام کے اوقات میں کمی: مزدور، کسان، اور کھلی جگہ پر کام کرنے والے افراد دن کے اوقات میں کام نہیں کر پاتے۔

  • زرعی پیداوار پر منفی اثر: گرمی کے باعث فصلیں جل جاتی ہیں یا قبل از وقت خراب ہو جاتی ہیں۔

  • بجلی کا بحران: ہیٹ ویوز میں بجلی کی طلب بڑھتی ہے، لوڈشیڈنگ عام ہو جاتی ہے۔


حکومتی اقدامات

1. ہیٹ ویو پلان (Heatwave Action Plan)

کراچی اور لاہور سمیت چند شہروں میں مقامی حکومتوں نے ہیٹ ویوز کے دوران اقدامات کے لیے "ہیٹ ویو پلان” ترتیب دیا ہے جس میں:

  • ہیٹ ویو وارننگ جاری کرنا

  • پبلک ایریاز میں واٹر کولر اور شیلٹر لگانا

  • اسپتالوں میں ہنگامی یونٹ قائم کرنا

  • میڈیا پر آگاہی مہم

2. موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

وزارت موسمیاتی تبدیلی نے گلوبل فنڈز کی مدد سے چند شہروں میں ماحولیاتی موافقت (Climate Adaptation) منصوبے شروع کیے ہیں۔

3. درخت لگاؤ مہم

"10 بلین ٹری سونامی پروگرام” کا مقصد شہروں کو سرسبز بنانا اور درجہ حرارت میں کمی لانا ہے، مگر اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہو سکتے۔


عوامی تیاری اور مسائل

کمیونٹی کی سطح پر اقدامات

  • چند NGOز اور اسکولوں نے ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے شعور بیدار کرنے کی مہمات چلائی ہیں۔

  • شہری علاقوں میں واٹر کیمپ اور شامیانے لگائے گئے ہیں۔

موجودہ چیلنجز

  • دیہی علاقوں میں آگاہی کی شدید کمی ہے۔

  • اسپتالوں میں سہولیات ناکافی ہیں۔

  • پانی اور بجلی کی قلت ہیٹ ویو کے دوران مزید شدید ہو جاتی ہے۔


کیا ہم تیار ہیں؟

اگرچہ کچھ مثبت اقدامات کیے گئے ہیں، مگر ملک گیر سطح پر کوئی جامع حکمت عملی یا "نیشنل ہیٹ ویو پالیسی” موجود نہیں ہے۔ موجودہ اقدامات محدود شہروں تک محدود ہیں اور اکثر ردِ عمل پر مبنی ہوتے ہیں، پیشگی تیاری کا فقدان ہے۔


تجاویز اور حل

  1. ہیٹ ویو ایمرجنسی سسٹم: ملک گیر سطح پر موسمیاتی ایمرجنسی پلان بنایا جائے جس میں تمام ادارے شریک ہوں۔

  2. درختوں کی شجر کاری: ہر شہر میں سالانہ بنیاد پر درخت لگانے کی مہم چلا کر سرسبز مقامات میں اضافہ کیا جائے۔

  3. عوامی آگاہی: اسکولوں، کالجوں، مساجد، اور میڈیا کے ذریعے عوام کو ہیٹ ویوز کے خطرات اور بچاؤ کے طریقے سکھائے جائیں۔

  4. اربن پلاننگ میں بہتری: سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عمارتوں میں گرمی کم کرنے والے ڈیزائنز استعمال کیے جائیں۔

  5. ہیٹ سینٹرز کا قیام: ہر بڑے شہر میں ہیٹ ویو کے دوران مفت پانی، پنکھے، اور ابتدائی طبی امداد کے مراکز بنائے جائیں۔


نتیجہ

ہیٹ ویوز اب ایک وقتی موسمی مسئلہ نہیں رہے بلکہ یہ پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ یہ خطرہ صرف انسانی صحت تک محدود نہیں بلکہ معیشت، زراعت، توانائی اور شہری زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ ہمیں ان تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور بروقت اقدامات کے ذریعے آنے والی نسلوں کو بچانا ہوگا۔ اگر ہم نے آج تیاری نہ کی، تو کل کا موسم صرف گرم نہیں، بلکہ خطرناک ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے