پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو اگر دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ایک طرف سرکاری اسکول ہیں اور دوسری طرف پرائیویٹ اسکولز۔ گزشتہ تین دہائیوں میں پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ والدین کی بڑی تعداد اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولز میں تعلیم دلوانے کو ترجیح دیتی ہے، چاہے اس کے لیے انہیں مالی طور پر مشکلات ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔
پرائیویٹ اسکولز کو عموماً معیاری تعلیم، بہتر سہولیات، نظم و ضبط اور جدید تدریسی طریقوں کی وجہ سے سراہا جاتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ان پر کئی اعتراضات بھی کیے جاتے ہیں، جیسے فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ، تعلیم کو کاروبار بنانا، اور غریب طبقے کی پہنچ سے دور ہونا۔
یہ مضمون پاکستان میں پرائیویٹ اسکولز کے نظام پر تفصیل سے روشنی ڈالے گا، ان کے فوائد، مسائل، سماجی اثرات، اور مستقبل میں بہتری کے امکانات پر تجزیاتی نظر ڈالے گا۔

پاکستان میں پرائیویٹ اسکولز کا پس منظر
ابتدائی دور
-
پاکستان بننے کے بعد تعلیم کا نظام زیادہ تر سرکاری ہاتھوں میں تھا۔
-
1970 کی دہائی میں نجی شعبے نے تعلیم کے شعبے میں قدم رکھا۔
-
1980 کی دہائی میں ضیاء الحق دور میں نجی تعلیمی اداروں کو فروغ دیا گیا۔
1990 کی دہائی کے بعد
-
نجی شعبے نے تعلیم میں بھرپور سرمایہ کاری شروع کی۔
-
“انگلش میڈیم” اسکولوں کا رجحان بڑھا۔
-
متوسط طبقے کے والدین بھی پرائیویٹ اسکولز کی طرف مائل ہوئے۔
پاکستان میں پرائیویٹ اسکولز کے اعداد و شمار
-
پاکستان میں تقریباً 2 لاکھ سے زائد پرائیویٹ اسکولز کام کر رہے ہیں۔
-
پرائیویٹ اسکولز میں 35 فیصد طلباء زیر تعلیم ہیں۔
-
لاہور، کراچی، اسلام آباد جیسے شہروں میں پرائیویٹ اسکولز کی تعداد سب سے زیادہ۔
-
دیہی علاقوں میں بھی پرائیویٹ اسکولز نے قدم جما لیے ہیں۔
پرائیویٹ اسکولز کے فوائد
1. معیاری تعلیم
-
پرائیویٹ اسکولز میں انگریزی پر خصوصی توجہ۔
-
جدید تدریسی طریقے جیسے گروپ ورک، پراجیکٹ بیسڈ لرننگ۔
-
نصاب اپ ٹو ڈیٹ رکھا جاتا ہے۔
2. بہتر انفراسٹرکچر
-
کلاس رومز کی صفائی، فرنیچر، لائبریری، کمپیوٹر لیبز۔
-
پلے ایریاز اور اسپورٹس فیسلٹیز۔
3. اساتذہ کی نگرانی
-
اساتذہ کی کارکردگی پر سخت نظر۔
-
وقت کی پابندی، تدریسی معیار کا خیال رکھا جاتا ہے۔
-
کئی اسکولز اساتذہ کو تربیت بھی دیتے ہیں۔
4. کم طلباء فی کلاس
-
سرکاری اسکولز میں کلاسوں میں 50-60 بچے، جبکہ پرائیویٹ اسکولز میں 20-30۔
-
طلباء پر انفرادی توجہ ممکن۔
5. والدین کی شمولیت
-
پرائیویٹ اسکولز والدین سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
-
پی ٹی ایم (Parent Teacher Meeting) کا انعقاد۔
-
والدین کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
پرائیویٹ اسکولز کے مسائل اور اعتراضات
1. مہنگی فیسیں
-
فیسوں میں سالانہ اضافہ۔
-
والدین کی مالی حالت پر بوجھ۔
-
بعض اسکولز میں ایڈمیشن فیس، ڈونیشن، سیکیورٹی فیس کا مطالبہ۔
2. تعلیم کو کاروبار بنانا
-
بعض اسکولز کا مقصد صرف منافع کمانا۔
-
تعلیم کی اصل روح متاثر ہوتی ہے۔
3. اساتذہ کی کم تنخواہیں
-
کئی بڑے اسکولز بھی اساتذہ کو کم تنخواہیں دیتے ہیں۔
-
اساتذہ میں عدم اطمینان اور نوکری کا عدم تحفظ۔
4. معیار میں فرق
-
ہر پرائیویٹ اسکول معیاری نہیں۔
-
بڑے برانڈز کے علاوہ چھوٹے اسکولز میں معیار کمزور ہوتا ہے۔
5. سماجی تقسیم
-
تعلیم دو طبقات میں تقسیم: پرائیویٹ اسکول اور سرکاری اسکول
-
غریب طبقہ تعلیم کے میدان میں مزید پیچھے رہ جاتا ہے۔
پرائیویٹ اسکولز اور انگریزی میڈیم کا رجحان
-
پرائیویٹ اسکولز نے انگریزی میڈیم کو فروغ دیا۔
-
انگریزی بولنے والے بچوں کو ذہین تصور کیا جاتا ہے۔
-
بعض اوقات انگریزی پر حد سے زیادہ زور، اردو اور مقامی زبانیں نظرانداز۔
-
نتیجہ: ثقافتی اور لسانی شناخت کو خطرہ۔
پرائیویٹ اسکولز کی اساتذہ پالیسی
تنخواہیں اور سہولیات
-
چھوٹے اسکولز میں اساتذہ کی تنخواہ 10,000 – 15,000 روپے۔
-
بڑے برانڈز میں بھی تنخواہیں بعض اوقات کم۔
-
نوکری کا عدم تحفظ: “کل آنا نہ آنا”
اساتذہ کی تربیت
-
کچھ اسکولز اساتذہ کو ریگولر ٹریننگ دیتے ہیں۔
-
مگر زیادہ تر اسکولز اس پر خرچ نہیں کرتے۔
اساتذہ کا استحصال
-
زیادہ گھنٹے کام
-
کم تنخواہ
-
سالانہ انکریمنٹ نہ ہونا
پرائیویٹ اسکولز کی فیسوں پر حکومت کا کنٹرول
-
کئی بار حکومت نے فیسوں پر کنٹرول کی کوشش کی۔
-
“فیسوں میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ نہ کیا جائے” جیسے احکامات۔
-
اسکولز نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
-
معاملہ تاحال متنازع۔
پرائیویٹ اسکولز اور نصاب
-
پرائیویٹ اسکولز کی اکثریت اوکسفرڈ، کیمبرج، یا پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا نصاب پڑھاتی ہے۔
-
بعض اسکولز کا اپنا تیار کردہ نصاب ہوتا ہے۔
-
نصاب اپ گریڈ کرنا نسبتاً آسان۔
-
“سنگل نیشنل کریکولم” کے بعد صورت حال مزید بدل رہی ہے۔
والدین کی رائے
“سرکاری اسکول میں کچھ سیکھنے کو نہیں، اس لیے قرض لے کر بھی بچے کو پرائیویٹ اسکول میں ڈالنا پڑتا ہے۔”
“پرائیویٹ اسکولز پیسہ زیادہ لیتے ہیں مگر اساتذہ کو کم تنخواہیں دیتے ہیں۔”
“بچوں کو انگریزی تو سکھاتے ہیں مگر اخلاقیات کون سکھائے؟”
پرائیویٹ اسکولز اور دیہی علاقے
مثبت پہلو
-
دیہی علاقوں میں تعلیم کا معیار بہتر ہوا۔
-
والدین کو متبادل ملا۔
-
غریب خاندان بھی کوشش کرتے ہیں کہ بچے پرائیویٹ اسکول جائیں۔
مسائل
-
فیسیں دیہی عوام کے لیے بھی زیادہ۔
-
عمارتیں اچھی مگر اساتذہ تربیت یافتہ نہیں۔
-
معیار اکثر کمزور۔
پرائیویٹ اسکولز کا سماجی اثر
-
معاشرتی تقسیم میں اضافہ۔
-
انگریزی میڈیم بچے اور اردو میڈیم بچے دو مختلف طبقات۔
-
“برانڈ اسکولز” کی شہرت۔
-
غریب والدین احساس کمتری کا شکار۔
پرائیویٹ اسکولز اور جدید تعلیم
ٹیکنالوجی کا استعمال
-
کمپیوٹر لیبز
-
اسمارٹ کلاس رومز
-
آن لائن کلاسز (خصوصاً کورونا کے دوران)
جدید تدریسی طریقے
-
پراجیکٹ بیسڈ لرننگ
-
ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ
-
پرفارمنس ٹیسٹ اور اسیسمنٹ
پرائیویٹ اسکولز اور کوالٹی ایجوکیشن
اچھے اسکولز کی خصوصیات
-
بہترین انفراسٹرکچر
-
اساتذہ کی ٹریننگ
-
طلباء کی کونسلنگ
-
والدین سے رابطہ
کمزور اسکولز کی علامات
-
صرف کاروبار پر فوکس
-
اساتذہ کو کم تنخواہ
-
طلباء پر ضرورت سے زیادہ دباؤ
-
معیار پر کم توجہ
پرائیویٹ اسکولز کے مستقبل کے لیے تجاویز
1. حکومتی نگرانی مضبوط کرنا
-
فیسوں پر کنٹرول
-
معیار کی جانچ پڑتال
-
اساتذہ کی تنخواہوں کے معیار طے کرنا
2. والدین کی آگاہی
-
والدین کو معیار کے بارے میں شعور دینا
-
برانڈ نام پر نہ جائیں، معیار دیکھیں
3. اساتذہ کے لیے بہتر حالات
-
تنخواہ میں اضافہ
-
سالانہ انکریمنٹ لازمی
-
ٹریننگ پروگرامز
4. نصاب کی یکسانیت
-
سنگل نیشنل کریکولم پر عملدرآمد
-
انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر توجہ
5. دیہی علاقوں پر توجہ
-
دیہی پرائیویٹ اسکولز میں معیار بہتر کیا جائے
-
حکومت مدد کرے
نتیجہ
پرائیویٹ اسکولز نے پاکستان کے تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی لائی ہے۔ انہوں نے لاکھوں بچوں کو بہتر تعلیم، جدید سہولیات اور عالمی معیار کے قریب لانے میں کردار ادا کیا۔ مگر ساتھ ہی، ان کے مسائل بھی اتنے ہی سنجیدہ ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
“تعلیم کاروبار نہیں، خدمت ہونی چاہیے۔”
یہ وقت ہے کہ پرائیویٹ اسکولز کے نظام کو متوازن اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ ہر بچہ، چاہے غریب ہو یا امیر، معیاری تعلیم سے محروم نہ رہے۔

Boost your profits with our affiliate program—apply today! https://shorturl.fm/TSPhR
Refer friends and colleagues—get paid for every signup! https://shorturl.fm/dLUa7
Start earning passive income—become our affiliate partner! https://shorturl.fm/Wl5jo