تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک مساوی رسائی ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم اب کاروبار بن چکی ہے، خاص طور پر نجی تعلیمی ادارے (Private Schools) اس رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں نجی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں نے نہ صرف تعداد میں اضافہ کیا بلکہ ان کی فیسیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔

یہ بڑھتی ہوئی فیسیں متوسط اور نچلے طبقے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم اس مسئلے کے اسباب، اثرات، اور ممکنہ حل پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

پاکستان میں تعلیمی اداروں کی اقسام

پاکستان میں تعلیمی ادارے دو بنیادی اقسام کے ہیں:

۱. سرکاری تعلیمی ادارے (Public Institutions)

  • حکومت کی زیرِ نگرانی چلتے ہیں۔

  • فیس نہایت کم یا مفت۔

  • تعلیم کا معیار اکثر کمزور۔

  • اساتذہ کی کمی، عمارتوں کی خستہ حالی، اور وسائل کی کمی۔

۲. نجی تعلیمی ادارے (Private Institutions)

  • پرائیویٹ مالکان یا ٹرسٹ چلاتے ہیں۔

  • فیس بہت زیادہ۔

  • معیاری تعلیم، انگریزی میڈیم، جدید سہولیات۔

  • والدین نجی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں۔


نجی اداروں کی مقبولیت کے اسباب

۱. معیاری تعلیم

  • انگلش میڈیم سسٹم۔

  • جدید نصاب۔

  • کم کلاس سائز۔

  • بہترین اساتذہ۔

۲. جدید سہولیات

  • کمپیوٹر لیبز۔

  • اسمارٹ بورڈز۔

  • ای-لائبریری۔

  • کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں کی سہولت۔

۳. امتحانی نتائج

  • اچھے نتائج۔

  • بچے آسانی سے بورڈ یا انٹری ٹیسٹ میں کامیاب۔

  • والدین کا اعتماد بڑھ جاتا ہے۔


بڑھتی ہوئی فیسوں کی صورتحال

چند حقائق:

  • لاہور کے کچھ مشہور اسکولز کی فیس ۱۵۰۰۰ سے ۵۰۰۰۰ روپے ماہانہ۔

  • کراچی میں کچھ اسکولز ۸۰ ہزار روپے تک ماہانہ فیس لیتے ہیں۔

  • اعلیٰ نجی یونیورسٹیز میں سالانہ فیس ۱۰ لاکھ سے ۲۰ لاکھ روپے تک۔

فیسوں میں اضافے کی وجوہات

  • اساتذہ کی تنخواہیں بڑھانا۔

  • بجلی، گیس، کرایوں میں اضافہ۔

  • جدید ٹیکنالوجی کا خرچ۔

  • برانڈ ویلیو کا فائدہ اٹھانا۔


نجی اداروں کی فیسوں کا تعلیمی نظام پر اثر

۱. طبقاتی فرق میں اضافہ

  • غریب اور امیر کے درمیان تعلیمی خلیج بڑھ رہی ہے۔

  • صرف امیر طبقہ معیاری تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

  • متوسط طبقہ قرض لے کر بچوں کو نجی اسکولز میں بھیج رہا ہے۔

۲. ذہنی دباؤ

  • والدین پر معاشی دباؤ۔

  • بچوں پر بھی پریشر۔

  • والدین کبھی کبھی دوسرے اہم اخراجات چھوڑ کر صرف تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔

۳. سرکاری اسکولوں پر عدم اعتماد

  • نجی اداروں کی مقبولیت سے سرکاری اسکولوں میں انرولمنٹ کم ہو رہی ہے۔

  • حکومت پر کم دباؤ کہ سرکاری اسکول بہتر کرے۔

۴. غیر معیاری نجی ادارے

  • کئی نجی اسکول صرف بزنس کر رہے ہیں۔

  • تعلیم کا معیار کم مگر فیس زیادہ۔

  • رجسٹریشن، معیاری تدریس، اور نگرانی کا فقدان۔


نجی تعلیمی ادارے کاروبار کیسے بنے؟

مارکیٹنگ اور برانڈنگ

  • اشتہارات میں بہترین سہولتوں کا دعویٰ۔

  • “کیمرج سسٹم” یا “انگلش میڈیم” کا نعرہ۔

  • والدین کو نفسیاتی طور پر قائل کرنا۔

سوشل اسٹیٹس کا عنصر

  • والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کا پرائیویٹ اسکول میں پڑھنا سٹیٹس سمبل ہے۔

  • “فلاں اسکول میں بچہ پڑھ رہا ہے” کہنے پر فخر۔

منافع خوری

  • کئی اسکولوں کا اصل مقصد منافع ہے۔

  • تعلیمی معیار سے زیادہ پیسہ کمانا ترجیح۔


فیسوں میں اضافے کے نتائج

والدین کی زندگی پر اثرات

  • قرض لینا۔

  • دیگر ضروریات پر کٹوتی۔

  • معاشرتی دباؤ۔

بچوں کی نفسیات پر اثرات

  • احساسِ کمتری اگر نجی اسکول نہ جا سکیں۔

  • ضرورت سے زیادہ بوجھ۔

  • مقابلہ بازی کا کلچر۔

معاشرتی تفریق

  • نجی اور سرکاری اسکول کے بچوں میں واضح فرق۔

  • معاشرے میں “دو پاکستان” کا تاثر۔


حکومتی اقدامات

پرائیویٹ اسکول ریگولرٹری اتھارٹیز

  • پنجاب میں PEIRA (Private Educational Institutions Regulatory Authority)۔

  • فیسوں کا تعین اور نگرانی۔

  • مگر عملدرآمد کمزور۔

فیس فکسنگ قوانین

  • کچھ صوبوں نے فیس میں سالانہ اضافے کی حد مقرر کی۔

  • عدالتی کیسز بھی ہوئے۔

  • اسکولز نے عدالتی حکم کو چیلنج کیا۔

مثال:

  • ۲۰۱۸ میں سپریم کورٹ نے اسکولز کو فیس کم کرنے کا حکم دیا۔

  • مگر اسکولز نے مختلف چارجز لگا کر پیسے وصول کرنا شروع کر دیے۔


والدین کی مشکلات

معاشی دباؤ

  • متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر۔

  • دو بچوں کی فیس ہی ۴۰-۵۰ ہزار ماہانہ۔

  • آمدنی کم، خرچے زیادہ۔

انتخاب میں دشواری

  • کون سا اسکول بہتر ہے؟

  • کیا زیادہ فیس دینا معیاری تعلیم کی ضمانت ہے؟

  • والدین تذبذب کا شکار۔


پرائیویٹ اسکولز کا نقطہ نظر

ان کے دلائل

  • معیاری اساتذہ کے لیے زیادہ تنخواہیں دینی پڑتی ہیں۔

  • بجلی، کرایے، ٹیکس سب بڑھ چکے ہیں۔

  • حکومت کی سبسڈی نہیں ملتی۔

  • بہتر نتائج اور سہولتوں کی لاگت زیادہ ہے۔


بین الاقوامی ماڈلز

فن لینڈ

  • تعلیم مکمل مفت۔

  • نجی اسکولز نہ ہونے کے برابر۔

  • تعلیم پر حکومت کا بڑا بجٹ۔

سنگاپور

  • محدود پرائیویٹ اسکولز۔

  • حکومت نے معیار کو کنٹرول کیا۔

  • فیسیں معقول۔

بھارت

  • نجی اسکولز میں بھی فیس کنٹرول قوانین۔

  • "Right to Education Act” کے تحت غریب بچوں کے لیے کوٹہ۔


ممکنہ حل

۱. سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانا

  • معیاری تعلیم کی فراہمی۔

  • انفراسٹرکچر کی بہتری۔

  • انگریزی میڈیم کلاسز۔

  • تربیت یافتہ اساتذہ۔

۲. فیس کنٹرول قوانین پر عملدرآمد

  • ہر سال فیس میں محدود اضافہ۔

  • رجسٹرڈ اسکولز کی لسٹ پبلک کی جائے۔

۳. غریب بچوں کے لیے کوٹہ سسٹم

  • نجی اسکولز غریب بچوں کو مفت تعلیم دیں۔

  • حکومت سبسڈی دے۔

۴. والدین کے لیے رہنمائی

  • والدین کو معیاری اسکولز کی فہرست دی جائے۔

  • فیس اور سہولتوں کا تقابلی جائزہ۔

۵. پرائیویٹ اسکولز پر ٹیکس مراعات مشروط کریں

  • جو اسکول فیس کنٹرول رکھے، اسے ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔

  • معیار کی نگرانی لازمی ہو۔


عوام کی رائے

والدین کیا کہتے ہیں؟

  • “پڑھانا تو ہے، چاہے قرض لینا پڑے۔”

  • “حکومت کو سخت قوانین بنانے چاہئیں۔”

  • “سرکاری اسکولوں کا معیار اچھا ہو تو نجی اسکول میں کیوں بھیجیں؟”


نتیجہ

نجی تعلیمی ادارے یقینی طور پر معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں مگر ان کی بڑھتی ہوئی فیسیں تعلیم کو ایک کاروبار میں بدل رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تعلیم سب کے لیے یکساں رسائی ہونی چاہیے۔ اگر فیسیں کنٹرول نہ ہوئیں تو معاشرتی تفریق اور بڑھ جائے گی۔

حکومت کو چاہیے:

  • سرکاری اسکولوں کی بہتری پر توجہ دے۔

  • نجی اسکولوں کی فیسوں کو قانون کے تحت لائے۔

  • والدین کو آگاہ کرے کہ مہنگی تعلیم ہی معیاری تعلیم کی ضمانت نہیں۔

کیونکہ تعلیم کوئی تجارت نہیں بلکہ ہر بچے کا حق ہے۔

“قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں ہے، اور تعلیم سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے