دنیا بھر میں خواتین کو صنفی بنیاد پر تشدد کا سامنا ہے، مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ مسئلہ ایک سنگین سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صنفی بنیاد پر تشدد نہ صرف جسمانی تکلیف کا باعث بنتا ہے بلکہ خواتین کی ذہنی، سماجی اور معاشی حیثیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

یہ مضمون پاکستان میں صنفی تشدد کی اقسام، اس کے اسباب، متاثرین کو درپیش چیلنجز، قانونی اور سماجی ردعمل، اور اس مسئلے کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالتا ہے۔

صنفی بنیاد پر تشدد کیا ہے؟

صنفی بنیاد پر تشدد (Gender-Based Violence – GBV) اس عمل کو کہتے ہیں جس میں کسی فرد کو اس کی جنس یا صنف کی بنیاد پر جسمانی، ذہنی، جنسی، یا معاشی طور پر نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ تشدد عام طور پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہوتا ہے۔

تشدد کی اقسام

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کی کئی شکلیں موجود ہیں، جن میں شامل ہیں:

  1. گھریلو تشدد
    مارپیٹ، ذہنی اذیت، مالی استحصال، اور گھریلو قید۔

  2. غیرت کے نام پر قتل
    خاندان کی "عزت” بچانے کے نام پر خواتین کا قتل۔

  3. جنسی ہراسانی
    دفاتر، تعلیمی اداروں، سڑکوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر۔

  4. ریپ اور اجتماعی زیادتی
    جنسی زیادتی کے واقعات جن میں اکثر انصاف حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

  5. جبری شادی اور کم عمری کی شادی
    لڑکیوں کی مرضی کے بغیر ان کا نکاح یا کم عمر میں شادی۔

  6. ایسڈ اٹیک (تیزاب گردی)
    انکار پر انتقاماً چہرے یا جسم پر تیزاب پھینکنا۔

  7. غیر انسانی رسم و رواج
    ونی، سوارہ، کاروکاری جیسی قبائلی رسومات۔


اعداد و شمار: ایک تشویشناک تصویر

پاکستان میں روزانہ درجنوں خواتین صنفی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) اور دیگر اداروں کے مطابق:

  • ہر سال تقریباً 5000 سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

  • ہر روز 6 سے 8 خواتین کو ریپ یا اجتماعی زیادتی کا سامنا ہوتا ہے۔

  • 1000 سے زائد غیرت کے نام پر قتل کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں (جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے)۔

  • کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔


متاثرہ خواتین کو درپیش چیلنجز

1. معاشرتی دباؤ اور شرمندگی

زیادتی یا تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کو اکثر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ "خاندان کی عزت” بچی رہے۔

2. قانونی پیچیدگیاں

پولیس رپورٹ درج نہیں کرتی، یا متاثرہ کو ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عدالتوں میں سالوں لگ جاتے ہیں۔

3. مالی خودمختاری کی کمی

متاثرہ خواتین اکثر مالی طور پر مردوں پر انحصار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ تشدد برداشت کرتی رہتی ہیں۔

4. پناہ گاہوں کی کمی

پاکستان میں محفوظ ہاؤسز یا شیلٹر ہومز کی تعداد ناکافی ہے۔ کئی خواتین کے لیے فرار کی کوئی راہ نہیں ہوتی۔


قانونی فریم ورک: کچھ پیش رفت، مگر ابھی بہت کچھ باقی ہے

پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے کچھ قوانین بنائے گئے ہیں، جیسے:

پنجاب پروٹیکشن آف وومن اگینسٹ وائلنس ایکٹ (2016)

یہ قانون گھریلو تشدد، ہراسانی، اور بدسلوکی کے خلاف حفاظتی اقدامات فراہم کرتا ہے۔

پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمینٹ ایکٹ (2010)

کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیے۔

زنابالجبر (ریپ) قوانین

ریپ کے ملزمان کو سخت سزائیں، مگر ان پر عملدرآمد اکثر کمزور ہوتا ہے۔

ایسڈ کنٹرول اینڈ کرائم پریونشن ایکٹ (2011)

ایسڈ اٹیک کو سنگین جرم قرار دے کر سخت سزا متعین کی گئی ہے۔

تاہم، مسئلہ قانون کی موجودگی کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا ہے۔


سول سوسائٹی اور میڈیا کا کردار

NGOs اور تنظیمیں

ادارے جیسے Aurat Foundation, Acid Survivors Foundation, WAR (War Against Rape)، اور White Ribbon Pakistan خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ ادارے قانونی، نفسیاتی، اور مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔

میڈیا کی طاقت

بعض کیسز جیسے قندیل بلوچ قتل کیس، نور مقدم کیس، اور زینب زیادتی کیس میں میڈیا نے مرکزی کردار ادا کیا۔ عوامی دباؤ کی وجہ سے قانونی کارروائی ممکن ہوئی۔


سوشل میڈیا اور خواتین کی آواز

سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں خواتین اپنی کہانیاں شیئر کر کے ظلم کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ ہیش ٹیگ مہمات جیسے:

  • #MeTooPakistan

  • #JusticeForZainab

  • #SayNoToViolence

  • #AuratMarch

نے صنفی تشدد کے خلاف آگاہی پیدا کی ہے۔


مذہبی اور معاشرتی بیانیہ: اصلاح کی ضرورت

پاکستان میں بہت سے لوگ خواتین پر تشدد کو مذہب کے ساتھ جوڑتے ہیں، حالانکہ اسلام نے عورت کو عزت، حفاظت، اور حقوق دیے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک، مشاورت، اور عزت سے پیش آنے کی تعلیم دی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ علمائے کرام، مساجد، اور دینی مدارس صنفی برابری اور خواتین کے حقوق پر روشنی ڈالیں تاکہ معاشرتی رویے بدل سکیں۔


کیا کیا جا سکتا ہے؟ – اصلاحی اقدامات

  1. قانون کا مؤثر نفاذ
    پولیس، وکلا، اور عدلیہ کو صنفی حساسیت پر تربیت دی جائے۔

  2. تعلیم اور آگاہی
    نصاب میں خواتین کے حقوق، قانون، اور صنفی مساوات پر مواد شامل کیا جائے۔

  3. شیلٹر ہومز کی تعداد بڑھائی جائے
    ہر ضلع میں کم از کم ایک محفوظ ہاؤس قائم کیا جائے۔

  4. ہیلپ لائنز اور فوری ریلیف سینٹرز
    خواتین کے لیے 24/7 ہیلپ لائنز اور فوری قانونی و طبی سہولیات۔

  5. خواتین کی مالی خودمختاری
    کاروبار، ہنر، اور ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ خواتین خود پر اعتماد حاصل کریں۔


نتیجہ: ایک طویل جدوجہد، مگر ناگزیر

پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد ایک تلخ حقیقت ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ تبدیلی کی لہر آچکی ہے۔ خواتین، میڈیا، سول سوسائٹی، اور کچھ حکومتی اقدامات نے امید کی شمع روشن کی ہے۔

یہ جدوجہد طویل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے گا، قانون حرکت میں آئے گا، اور معاشرہ ظلم پر خاموش نہیں رہے گا—تب ہی صنفی تشدد کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے