پاکستان میں تعلیم کو آئینی طور پر ہر بچے کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-اے ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں ہزاروں سرکاری اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان اسکولوں کی حالت روز بروز خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔
سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی، کمزور انفراسٹرکچر، اساتذہ کی غیر حاضری، ناقص تدریسی معیار، اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے عوام کا ان اسکولوں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ والدین چاہے کتنے ہی محدود وسائل رکھتے ہوں، اپنے بچوں کو سرکاری اسکول کی بجائے نجی اسکول میں داخل کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ مضمون سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار پر تفصیلی روشنی ڈالے گا، ان کے مسائل، وجوہات، معاشرتی اثرات اور ممکنہ اصلاحات پر مبنی جامع تجزیہ فراہم کرے گا۔

پاکستان میں سرکاری اسکولوں کا پس منظر
قیامِ پاکستان کے بعد ریاست نے تعلیم کو اولین ترجیح دی اور سرکاری سطح پر اسکولوں کے قیام کا آغاز ہوا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ:
-
تعلیمی بجٹ میں کمی
-
کرپشن
-
پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان
-
نجی شعبے کا بڑھتا ہوا کردار
یہ سب عوامل سرکاری اسکولوں کی تنزلی کا سبب بنے۔
سرکاری اسکولوں کے بنیادی مسائل
1. انفراسٹرکچر کی خستہ حالی
-
ہزاروں اسکولز کی عمارتیں مخدوش ہیں۔
-
کئی اسکولز بغیر چھت، فرنیچر اور بیت الخلاء کے کام کر رہے ہیں۔
-
پینے کے پانی اور بجلی کی سہولت اکثر موجود نہیں ہوتی۔
2. اساتذہ کی کمی اور غیر حاضری
-
دیہی علاقوں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔
-
بھرتیوں میں سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر نااہل افراد تعینات ہو جاتے ہیں۔
-
غیر حاضری عام ہے اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے برابر ہے۔
3. تدریسی معیار کی پستی
-
اساتذہ کی تربیت ناقص یا سرے سے موجود نہیں۔
-
جدید تدریسی طریقوں سے لاعلمی۔
-
رٹّہ سسٹم پر انحصار۔
4. نصاب میں جدت کی کمی
-
کئی دہائیوں پرانا نصاب۔
-
جدید تقاضوں، سائنس و ٹیکنالوجی سے دور۔
-
عملی اور تخلیقی سرگرمیوں کا فقدان۔
5. طلباء کی حاضری اور ڈراپ آؤٹ ریٹ
-
دیہی علاقوں میں بچوں کا اسکول چھوڑنا عام ہے۔
-
معاشی مسائل، والدین کی عدم دلچسپی، یا ثقافتی رکاوٹیں۔
اعداد و شمار کی روشنی میں
-
پاکستان میں تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار سرکاری اسکولز موجود ہیں۔
-
ان میں سے تقریباً 22,000 اسکولز ایک استاد کے رحم و کرم پر ہیں۔
-
40 فیصد اسکولز میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔
-
35 فیصد اسکولز میں بیت الخلاء موجود نہیں۔
-
30 فیصد اسکولز میں بجلی نہیں۔
یہ اعداد و شمار پاکستان کے تعلیمی بحران کی اصل تصویر دکھاتے ہیں۔
والدین اور طلباء کا نقطہ نظر
-
"سرکاری اسکول بھیجنا ایسا ہے جیسے بچے کا مستقبل برباد کرنا۔”
-
"ٹیچر آتے ہی نہیں، اور جو آتے ہیں وہ پڑھاتے نہیں۔”
-
"ہم غریب ہیں مگر پھر بھی نجی اسکول میں پڑھانے پر مجبور ہیں۔”
معاشرتی اثرات
1. تعلیمی عدم مساوات
-
امیر طبقہ مہنگے نجی اسکولز میں، غریب سرکاری اسکولز میں
-
تعلیم کے معیار کا فرق سماجی تفریق کا باعث
2. غربت کا تسلسل
-
تعلیم کی کمی غربت کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ
-
سرکاری اسکولز کے طالبعلم عملی زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں
3. نوجوانوں کی بے روزگاری
-
ناقص تعلیم کے باعث نوجوانوں کی ہنر کی کمی
-
مارکیٹ کی ضروریات پوری نہ کرنا
وجوہات: سرکاری اسکولز کی تباہی کے پیچھے کیا ہے؟
1. سیاسی مداخلت
-
اساتذہ کی سیاسی بنیادوں پر تقرری
-
غیر متعلقہ افراد کا تبادلہ یا ترقیاں
2. تعلیمی بجٹ میں کمی
-
پاکستان کا جی ڈی پی کا صرف 1.5 سے 2 فیصد تعلیم پر خرچ ہوتا ہے
-
انفراسٹرکچر اور تربیت پر محدود سرمایہ کاری
3. نگرانی کا نظام ناقص
-
اسکول انسپیکشن نظام غیر فعال
-
غیر حاضری پر کارروائی نہیں ہوتی
4. ترجیحات کی کمی
-
حکمران تعلیم کو ترجیح نہیں دیتے
-
فوری حل کے بجائے اعلانات اور اعلانات
بین الاقوامی موازنہ
فن لینڈ
-
دنیا کا بہترین تعلیمی نظام
-
تمام اسکولز ریاستی، معیار میں یکساں
-
اساتذہ کی سخت تربیت
چین
-
تعلیم حکومت کی اولین ترجیح
-
دیہی علاقوں میں بھی اعلیٰ معیار
-
سخت نگرانی اور نتائج پر مبنی نظام
بھارت
-
Right to Education Act کے تحت سرکاری اسکولز کو بہتر بنانے کی کوشش
-
سرکاری اسکولز میں انفراسٹرکچر بہتر ہوا ہے
حکومتی اقدامات: کیا کافی ہیں؟
1. سنگل نیشنل کریکولم (SNC)
-
یکساں نصاب پورے ملک میں
-
اردو اور انگریزی دونوں میں
-
مقصد طبقاتی فرق کم کرنا
تاہم:
-
اسکولز کی عملی حالت میں بہتری کے بغیر نصاب کا فائدہ کم ہے
2. تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے
-
مختلف حکومتوں نے تعلیم کو ایمرجنسی قرار دیا
-
مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر
3. اساتذہ کی تربیت کے پروگرامز
-
کچھ صوبوں میں تربیتی ورکشاپس
-
مگر تعداد اور معیار ناکافی
عوامی اور ماہرین تعلیم کی رائے
"جب تک سرکاری اسکولز کو ماڈل ادارے نہیں بنایا جائے گا، نجی تعلیم کا بوجھ بڑھے گا۔”
"اساتذہ کو مراعات کے ساتھ احتساب کا نظام بھی ہونا چاہیے۔”
"تعلیم پر بجٹ کم کرنا قوم کی بنیاد کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے۔”
ممکنہ حل اور اصلاحات
1. بجٹ میں اضافہ
-
تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا کم از کم 4 فیصد مختص کیا جائے
-
اسکولوں کے انفراسٹرکچر، سہولیات اور تربیت پر خرچ
2. اساتذہ کی تربیت اور احتساب
-
تمام اساتذہ کے لیے لازمی تربیتی کورس
-
غیر حاضری اور ناقص کارکردگی پر سزا
3. اسکولز کی نگرانی اور مانیٹرنگ
-
ہر اسکول کی ماہانہ انسپیکشن
-
آن لائن رپورٹنگ سسٹم
4. انفراسٹرکچر کی بحالی
-
چھت، فرنیچر، بجلی، پانی، باتھ روم کی سہولت
-
بنیادی ضروریات ہر اسکول میں یقینی بنانا
5. طلباء کے لیے مراعات
-
وظیفے، یونیفارم، کتابیں مفت
-
کھانے کے پروگرام (School Meals) خاص طور پر دیہی علاقوں میں
نتیجہ
پاکستان میں سرکاری اسکولز کا زوال صرف ایک تعلیمی بحران نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔ اگر ریاست، عوام، اساتذہ، اور ماہرین تعلیم نے مشترکہ طور پر اصلاحات نہ کیں تو آنے والی نسلیں علم، مہارت، اور شعور سے محروم رہ جائیں گی۔
سرکاری اسکولز کو زندہ کرنا ضروری ہے کیونکہ:
“ایک استاد، ایک اسکول، ایک کتاب — ایک قوم کو بدل سکتی ہے۔”

Earn recurring commissions with each referral—enroll today! https://shorturl.fm/8NYaQ
Become our partner and turn clicks into cash—join the affiliate program today! https://shorturl.fm/MJnRS