پاکستان ایک کثیر لسانی ملک ہے جہاں درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ تعلیمی نظام میں سب سے بڑا چیلنج یہ رہا ہے کہ کونسی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اختیار کیا جائے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں تین بڑے ذرائع تعلیم زیر بحث آتے ہیں: انگریزی، اردو، اور علاقائی زبانیں۔ ہر زبان کے اپنے معاشرتی، تعلیمی اور نفسیاتی اثرات ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم ان تینوں زبانوں کا تفصیل سے جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کس طرح ذریعہ تعلیم تعلیمی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔

پاکستان کا لسانی منظرنامہ

پاکستان میں لگ بھگ ۷۵ سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں سے اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے، جبکہ انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے اور اسے ایلیٹ کلاس یا اشرافیہ کی زبان بھی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور دیگر علاقائی زبانیں کروڑوں افراد کی مادری زبانیں ہیں۔ اس لسانی تنوع نے پاکستان کے تعلیمی نظام کو ہمیشہ ایک کشمکش میں رکھا ہے۔


ذریعہ تعلیم: اہمیت اور تعریف

تعلیمی ماہرین کے مطابق ذریعہ تعلیم وہ زبان ہوتی ہے جس کے ذریعے طالب علم کو تعلیم دی جاتی ہے اور نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ ماہرین تعلیم جیسے Cummins اور Skutnabb-Kangas کا کہنا ہے کہ اگر تعلیم مادری زبان میں دی جائے تو سیکھنے کے نتائج زیادہ بہتر ہوتے ہیں کیونکہ طالب علم اس زبان میں بہتر فہم اور اظہار کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں ذریعہ تعلیم کی بحث صرف تعلیمی پہلو تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق سماجی طبقات، معیشت، اور قومی یکجہتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔


انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کے دلائل

سماجی حیثیت اور روزگار کے مواقع

انگریزی زبان کو پاکستان میں ترقی، طاقت اور معاشرتی وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی بڑی تعداد اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں داخل کروانا چاہتی ہے تاکہ وہ مستقبل میں اچھی ملازمت حاصل کر سکیں۔

بین الاقوامی سطح پر مواقع

عالمی سطح پر انگریزی کو علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے والدین اور پالیسی ساز یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم بین الاقوامی مارکیٹ میں زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔

مسائل اور نقائص

تاہم انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہیں:

  • طلباء کی سمجھ بوجھ میں کمی کیونکہ انگریزی ان کی مادری زبان نہیں ہے۔

  • دیہی علاقوں میں انگریزی میڈیم اسکولوں کی کمی۔

  • طلباء میں خود اعتمادی کی کمی کیونکہ وہ اظہار رائے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔


اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے دلائل

قومی یکجہتی کا ذریعہ

اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اسے ذریعہ تعلیم بنانے کے کئی فائدے ہیں:

  • پاکستان کے زیادہ تر طلباء اردو سمجھتے اور بولتے ہیں۔

  • قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔

  • تعلیم کا معیار بہتر ہو سکتا ہے کیونکہ طلباء کی زبان پر گرفت مضبوط ہوتی ہے۔

تعلیمی نتائج پر اثر

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جن طلباء کو ابتدائی تعلیم اردو میں دی گئی، ان کی سمجھ بوجھ، تحریری صلاحیت اور اعتماد زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

چیلنجز

  • اعلیٰ تعلیم کی سطح پر اردو میں مواد کی کمی۔

  • سائنسی اور تکنیکی مضامین کے لیے معیاری اردو اصطلاحات کا فقدان۔

  • پالیسی سطح پر انگریزی کو اہمیت دی جاتی ہے جس سے اردو کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔


علاقائی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے کے دلائل

شناخت اور ثقافت کا تحفظ

علاقائی زبانیں طلباء کی شناخت اور ثقافت سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگر ابتدائی تعلیم علاقائی زبان میں دی جائے تو:

  • طلباء کی سمجھ بوجھ بہتر ہوتی ہے۔

  • ثقافتی ورثے کا تحفظ ہوتا ہے۔

  • طلباء کا اسکول چھوڑنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

تحقیق کا خلاصہ

یونیسیف اور یونیسکو کی رپورٹوں کے مطابق مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دینے سے:

  • طلباء کی حاضری بڑھتی ہے۔

  • امتحانات میں نتائج بہتر ہوتے ہیں۔

  • لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

چیلنجز

  • اعلیٰ تعلیم میں علاقائی زبانوں کا محدود کردار۔

  • نصاب سازی کا مسئلہ کیونکہ علاقائی زبانوں میں معیاری تعلیمی مواد کم ہے۔

  • سرکاری پالیسیوں میں علاقائی زبانوں کو اہمیت کم دی جاتی ہے۔


والدین کا رجحان

پاکستان میں والدین کی اکثریت انگریزی میڈیم تعلیم کو ترجیح دیتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں:

  • انگریزی کو اسٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے۔

  • اچھی نوکری کے لیے انگریزی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

  • پرائیویٹ اسکولز انگریزی میڈیم ہونے کا دعویٰ کر کے والدین کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔

مگر ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ والدین کو اس بات کی آگاہی دی جانی چاہیے کہ تعلیم کا مقصد سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے، محض زبان سیکھنا نہیں۔


تعلیمی نتائج پر ذریعہ تعلیم کا اثر

سمجھ بوجھ اور تعلیمی کارکردگی

  • طلباء کی ذہنی نشوونما مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بہتر ہوتی ہے۔

  • انگریزی میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے طلباء رٹے بازی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

  • اردو یا علاقائی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تخلیقی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔

اعتماد اور اظہار رائے

  • اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء زیادہ پر اعتماد ہوتے ہیں۔

  • انگریزی میڈیم اسکولوں کے طلباء اکثر جھجھک محسوس کرتے ہیں۔

معاشرتی تقسیم

  • ذریعہ تعلیم کی بنیاد پر پاکستان میں سماجی طبقاتی تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔

  • انگریزی میڈیم تعلیم کو ایلیٹ کلاس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔


بین الاقوامی تجربات

دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر شاندار کامیابی حاصل کی:

  • فن لینڈ: مادری زبان میں تعلیم کا عالمی ماڈل۔

  • چین: ابتدائی تعلیم مادری زبان میں، اعلیٰ سطح پر انگریزی بطور سبجیکٹ۔

  • کوریا: مکمل تعلیم اپنی زبان میں، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی۔

یہ ممالک ثابت کرتے ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے۔


پاکستان میں پالیسی کی صورتحال

حالیہ برسوں میں پاکستان میں سنگل نیشنل کریکولم (SNC) کا نفاذ عمل میں آیا۔ اس میں اردو اور انگریزی دونوں کو اہمیت دی گئی، مگر ابھی تک:

  • پالیسی اور عملدرآمد میں بڑا خلا ہے۔

  • علاقائی زبانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

  • اساتذہ کی تربیت ناکافی ہے۔


ممکنہ حل اور تجاویز

کثیر لسانی تعلیم (Multilingual Education)

  • ابتدائی جماعتوں میں مادری یا علاقائی زبان۔

  • درمیانی سطح پر اردو کا اضافہ۔

  • اعلیٰ سطح پر انگریزی کو مضامین کی زبان کے طور پر متعارف کرایا جائے۔

اساتذہ کی تربیت

  • اساتذہ کو ملٹی لنگوئل ایجوکیشن کی تربیت دی جائے۔

  • علاقائی زبانوں کے اساتذہ بھرتی کیے جائیں۔

معیاری نصاب اور مواد

  • علاقائی زبانوں میں معیاری نصاب تیار کیا جائے۔

  • اردو اور انگریزی میں سائنسی اصطلاحات کی معیاری لغت بنائی جائے۔

والدین میں آگاہی

  • والدین کو سمجھایا جائے کہ تعلیم کا مقصد سمجھ بوجھ، سوچنے کی صلاحیت اور کردار سازی ہے، محض زبان کا رٹنا نہیں۔


نتیجہ

پاکستان میں ذریعہ تعلیم کا مسئلہ محض زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی انصاف، قومی یکجہتی، اور تعلیمی معیار کا معاملہ ہے۔ انگریزی کو مکمل ذریعہ تعلیم بنانا طلباء کے لیے ذہنی بوجھ بن جاتا ہے جبکہ اردو یا علاقائی زبانیں طلباء کی سیکھنے کی صلاحیت کو ابھارتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ایک متوازن پالیسی اپنائے جس میں:

  • طلباء کی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دی جائے۔

  • اردو اور انگریزی کو تدریجی انداز میں شامل کیا جائے۔

  • علاقائی زبانوں کو بھی تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔

اس طرح پاکستان ایک مضبوط، پائیدار اور ہم آہنگ تعلیمی نظام کی طرف گامزن ہو سکتا ہے جہاں ہر بچہ بغیر کسی لسانی رکاوٹ کے تعلیم حاصل کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے