پاکستان میں دینی مدارس کا نظام ایک تاریخی، معاشرتی اور مذہبی حقیقت ہے۔ مدارس نے برصغیر میں صدیوں تک تعلیمی، سماجی اور دینی رہنمائی کا کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد مدارس کو نہ صرف دینی تعلیم کا مرکز سمجھا گیا بلکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی فراہمی میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
تاہم جدید دور میں جہاں سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے تقاضے بدل گئے ہیں، وہاں مدارس کے نصاب اور ان کے طلبہ کی عصری تعلیم سے دوری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حکومت کی کوشش رہی ہے کہ دینی مدارس کو قومی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جائے، تاکہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جا سکے۔ مگر یہ عمل مختلف چیلنجز، تحفظات اور سیاسی و مذہبی اختلافات کا شکار ہے۔
یہ مضمون مدارس اور عصری تعلیم کے انضمام، اس کے چیلنجز اور مستقبل کی راہوں پر روشنی ڈالے گا۔

پاکستان میں دینی مدارس کا پس منظر
تاریخی حیثیت
-
برصغیر میں مدارس کا نظام مغل دور سے موجود تھا۔
-
دارالعلوم دیوبند (1866) جیسے ادارے قائم ہوئے جنہوں نے مذہبی تعلیم کا ایک منظم نظام بنایا۔
-
برطانوی دور میں مدارس نے مسلم شناخت کے تحفظ میں کردار ادا کیا۔
قیام پاکستان کے بعد
-
مدارس نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات انجام دیں۔
-
غریب طبقے کے لیے مفت تعلیم، رہائش، اور کھانا فراہم کیا جاتا رہا۔
-
مدارس کا اثر و رسوخ دیہی علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
پاکستان میں مدارس کی موجودہ صورتحال
تعداد اور طلبہ کی تعداد
-
پاکستان میں تقریباً 30,000 سے زائد مدارس موجود ہیں۔
-
مختلف مسالک کے مدارس کی اپنی تنظیمیں ہیں جیسے وفاق المدارس، تنظیم المدارس وغیرہ۔
-
اندازاً 35 لاکھ طلبہ مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔
مدارس کا نصاب
-
نصاب میں قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، عربی زبان، اور اسلامی تاریخ شامل ہے۔
-
عصری مضامین (سائنس، ریاضی، انگریزی) بہت کم یا بالکل نہیں پڑھائے جاتے۔
-
زیادہ تر نصاب دیوبندی مدارس کے نصاب پر مبنی ہے، جسے “درس نظامی” کہتے ہیں۔
مدارس کا معاشرتی کردار
مثبت پہلو
-
دینی تعلیم کا فروغ۔
-
غریب طلبہ کے لیے مفت تعلیم۔
-
سماجی بہبود، یتیموں کی کفالت۔
-
اخلاقی تربیت۔
منفی پہلو
-
عصری تعلیم سے دوری۔
-
شدت پسندی کے الزامات۔
-
قومی دھارے میں شمولیت کی کمی۔
-
جدید روزگار کے مواقع کم۔
مدارس اور عصری تعلیم کے انضمام کی کوششیں
حکومتی کوششیں
-
جنرل پرویز مشرف کے دور میں مدارس اصلاحات کا آغاز۔
-
2001 میں مدارس کو عصری مضامین پڑھانے کی کوشش۔
-
سنگل نیشنل کریکولم (SNC) میں مدارس کو شامل کرنے کی کوشش۔
-
2019 میں مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت لانے کا فیصلہ۔
-
مدارس رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا۔
وفاق المدارس کا موقف
-
حکومت کے انضمام کے اقدامات پر تحفظات۔
-
مدارس کو اپنی خودمختاری پر خدشات۔
-
دینی تعلیم میں حکومتی مداخلت قبول نہیں۔
-
چند مدارس نے عصری مضامین شامل کیے، مگر محدود پیمانے پر۔
مدارس میں عصری تعلیم کی اہمیت
وجوہات
-
مارکیٹ میں نوکری کے لیے عصری تعلیم لازمی۔
-
جدید دنیا میں مسلمانوں کا مؤثر کردار۔
-
عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف علمی جواب۔
-
معاشرتی ترقی اور سماجی انصاف کے لیے عصری علم ضروری۔
مدارس کے انضمام میں درپیش چیلنجز
1. نصاب کی مطابقت
-
درس نظامی اور عصری نصاب میں فرق۔
-
مدارس میں عصری مضامین کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی۔
-
دینی تعلیم کے وقت میں کمی کا خدشہ۔
2. مذہبی طبقے کی مزاحمت
-
دینی مدارس کی خودمختاری کا مسئلہ۔
-
حکومت پر عدم اعتماد۔
-
“دینی تعلیم کو محدود کرنے کی سازش” کا الزام۔
3. وسائل کی کمی
-
عصری تعلیم کے لیے اضافی اساتذہ، کتابیں اور انفراسٹرکچر کی ضرورت۔
-
مالی مسائل۔
4. رجسٹریشن کا مسئلہ
-
کئی مدارس رجسٹریشن سے گریزاں۔
-
حکومتی شرائط پر اعتراضات۔
مدارس کے انضمام کے فوائد
1. طلبہ کے روزگار کے مواقع بڑھیں گے
-
مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں نوکری کر سکیں گے۔
-
یونیورسٹی میں داخلے کے مواقع بڑھیں گے۔
2. قومی یکجہتی
-
مدارس کے طلبہ قومی دھارے کا حصہ بنیں گے۔
-
شدت پسندی کے رجحانات میں کمی۔
3. معاشی ترقی
-
تعلیم یافتہ نوجوان معیشت میں کردار ادا کریں گے۔
-
غربت میں کمی۔
عصری مضامین میں کن شعبوں پر توجہ دی جائے؟
سائنس اور ٹیکنالوجی
-
بنیادی سائنس (فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی)۔
-
کمپیوٹر سائنس۔
-
انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل لٹریسی۔
زبانیں
-
انگریزی زبان کی تعلیم۔
-
عربی کے ساتھ اردو میں مہارت۔
ریاضی
-
بنیادی ریاضی کی مہارتیں۔
-
حساب کتاب، ڈیٹا اینالیسز کی صلاحیت۔
سوشل اسٹڈیز
-
پاکستان اسٹڈیز۔
-
عالمی تاریخ۔
-
انسانی حقوق، شہری شعور۔
مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ اور روزگار
حالیہ صورتحال
-
زیادہ تر طلبہ مساجد میں امامت یا مدارس میں تدریس تک محدود۔
-
معاشرتی مسائل کی آگاہی کم۔
-
معاشی مسائل کا شکار۔
انضمام کے بعد امکانات
-
سرکاری ملازمت کے مواقع۔
-
تدریسی شعبوں میں کام۔
-
سوشل ورک، کمیونٹی سروس۔
-
میڈیا اور تحقیق کے شعبے۔
مدارس کے لیے اصلاحات کی تجاویز
1. حکومت اور مدارس کا اعتماد بحال کرنا
-
مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا۔
-
دینی رہنماؤں کو اصلاحات میں شامل کرنا۔
2. تدریسی تربیت
-
عصری مضامین کے لیے اساتذہ کو تربیت دینا۔
-
جدید تدریسی طریقے سکھانا۔
3. فنڈز کی فراہمی
-
حکومت کی طرف سے مالی امداد۔
-
کتابیں، لیبز، انفراسٹرکچر فراہم کرنا۔
4. یکساں نصاب
-
دینی تعلیم اور عصری تعلیم کا متوازن نصاب۔
-
دینی مضامین میں کمی نہ ہو، بلکہ عصری مضامین شامل کیے جائیں۔
5. طلبہ کی رہنمائی
-
کیریئر کونسلنگ۔
-
روزگار کے مواقع پر آگاہی۔
مدارس اور معاشرتی تاثر
مثبت تاثر
-
دینی تعلیم کے مراکز۔
-
اخلاقی تربیت کا سرچشمہ۔
-
معاشرتی خدمات میں فعال۔
منفی تاثر
-
شدت پسندی کے الزامات۔
-
عصری تعلیم سے دوری۔
-
محدود ذہنیت کا تاثر۔
عالمی تناظر میں مدارس
-
مصر (الازہر یونیورسٹی) میں دینی و عصری تعلیم کا بہترین امتزاج۔
-
ترکی میں امام خطیب اسکولز۔
-
سعودی عرب میں مدارس کو عصری تعلیم سے جوڑا گیا۔
-
پاکستان کو بھی عالمی ماڈلز سے سیکھنا چاہیے۔
مدارس کے طلبہ کی رائے
“ہم چاہتے ہیں کہ دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ملے تاکہ آگے بڑھ سکیں۔”
“ہمیں کمپیوٹر اور انگریزی پڑھنی چاہیے، مگر دینی تعلیم کم نہ کی جائے۔”
“حکومت اگر مدد کرے تو ہم عصری تعلیم کو خوش آمدید کہیں گے۔”
نتیجہ
مدارس پاکستان کی مذہبی اور تعلیمی تاریخ کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ترقی، امن اور معاشرتی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
“مدارس کو بدلنے کی نہیں، بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔”
اگر حکومت، مذہبی طبقہ، والدین اور طلبہ مل کر کام کریں تو دینی مدارس عصری تعلیم کے ساتھ ایک مضبوط تعلیمی نظام کی شکل اختیار کر سکتے ہیں جو پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔

Start profiting from your network—sign up today! https://shorturl.fm/Hfr2z
Refer and earn up to 50% commission—join now! https://shorturl.fm/zlLR4
Partner with us for generous payouts—sign up today! https://shorturl.fm/bBcGx
Share our offers and watch your wallet grow—become an affiliate! https://shorturl.fm/OG3B3