خواجہ سرا یا ٹرانس جینڈر افراد کسی بھی معاشرے کا وہ حصہ ہیں جنہیں صدیوں سے نظر انداز، مسترد یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں قدامت پسندی اور مذہبی اقدار کی جڑیں گہری ہیں، وہاں خواجہ سرا کمیونٹی کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند برسوں میں کچھ قانونی پیش رفت ہوئی ہے، جیسے 2018 کا ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ، مگر عملی طور پر یہ کمیونٹی آج بھی شدید مسائل سے دوچار ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم ان مسائل کا جائزہ لیں گے، ان کی وجوہات پر روشنی ڈالیں گے اور ممکنہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

سماجی مسائل

معاشرتی رویے اور تعصب

پاکستان میں خواجہ سرا کمیونٹی کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ معاشرتی تعصب اور نفرت انگیز رویہ ہے۔ بچپن سے ہی ان بچوں کو "الگ” تصور کیا جاتا ہے۔ اکثر والدین انہیں خاندان کی عزت پر داغ سمجھتے ہیں اور گھروں سے نکال دیتے ہیں۔ معاشرے میں انہیں طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بازار، سڑک یا پبلک مقامات پر انہیں عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے، ان پر جملے کسے جاتے ہیں یا ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ایسے رویے خواجہ سرا افراد میں شدید ذہنی دباو، احساس کمتری اور ڈپریشن کا سبب بنتے ہیں۔

خاندانی تعلقات کا بحران

زیادہ تر خواجہ سرا افراد کو اپنے خاندانوں کی طرف سے قبولیت نہیں ملتی۔ والدین، بہن بھائی یا رشتہ دار انہیں معاشرتی دباؤ کی وجہ سے گھر سے نکال دیتے ہیں یا ان کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ خاندانی رشتوں سے محروم ہونا نہ صرف جذباتی زخم دیتا ہے بلکہ معاشی مشکلات میں بھی اضافہ کرتا ہے، کیونکہ زیادہ تر پاکستانی معاشرہ خاندانی نظام پر انحصار کرتا ہے۔


معاشی مسائل

تعلیم کی کمی

زیادہ تر خواجہ سرا افراد تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ انہیں بچپن میں ہی اسکولوں میں تضحیک، مار پیٹ اور نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ تعلیم کے بغیر وہ اچھی نوکری حاصل نہیں کر پاتے اور غربت کی چکی میں پس جاتے ہیں۔

روزگار کے مواقع کی کمی

پاکستان میں بہت کم ادارے خواجہ سرا افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ زیادہ تر پرائیویٹ یا سرکاری دفاتر میں انہیں نوکری دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی خواجہ سرا فرد تعلیم یافتہ بھی ہو، تو بھی ادارے انہیں اپنے ماحول کا حصہ بنانے میں ہچکچاتے ہیں۔ نتیجتاً زیادہ تر خواجہ سرا افراد گداگری، ناچ گانے یا سیکس ورک کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جو نہ صرف ان کی عزت نفس مجروح کرتا ہے بلکہ انہیں مزید خطرات میں ڈال دیتا ہے۔

مالی عدم تحفظ

کیونکہ انہیں معاشرتی قبولیت نہیں ملتی، اس لیے مالی طور پر خواجہ سرا کمیونٹی بے حد غیر محفوظ ہے۔ نہ ان کے پاس مستقل آمدنی کا ذریعہ ہے، نہ ہی پنشن، انشورنس یا دیگر مالی سہولتیں جو عام شہریوں کو میسر ہیں۔ اس کے نتیجے میں بڑھاپے میں یہ افراد شدید مالی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔


صحت کے مسائل

صحت کی سہولتوں تک رسائی

پاکستان میں صحت کا شعبہ پہلے ہی کئی مسائل کا شکار ہے۔ اس میں خواجہ سرا کمیونٹی کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسپتالوں میں خواجہ سرا افراد کے لیے نہ الگ وارڈز ہیں، نہ ہی عملے کو ان کی نفسیاتی یا جسمانی ضروریات کا علم ہوتا ہے۔

اکثر ڈاکٹر خواجہ سرا مریضوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، ان کے ساتھ غیر مہذب سلوک کرتے ہیں یا ان کا علاج کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس وجہ سے خواجہ سرا کمیونٹی اپنی بیماریوں یا طبی مسائل کو چھپاتی ہے، جس کے نتیجے میں بیماری مزید بگڑ جاتی ہے۔

ایچ آئی وی اور دیگر بیماریوں کا خطرہ

زیادہ تر خواجہ سرا افراد کو محفوظ جنسی تعلقات کے بارے میں نہ تو تعلیم دی جاتی ہے، نہ ہی انہیں حفاظتی سامان بآسانی میسر آتا ہے۔ ان میں ایچ آئی وی اور دیگر جنسی بیماریوں کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ مگر افسوس کہ حکومت کی طرف سے اس شعبے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔


قانونی مسائل

شناختی دستاویزات کا مسئلہ

2018 میں خواجہ سرا افراد کو شناختی کارڈ میں اپنی جنس بطور “خواجہ سرا” لکھوانے کی اجازت تو مل گئی، مگر اب بھی نادرا میں عملہ اکثر انہیں مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ کئی دفاتر میں خواجہ سرا افراد کو شناختی کارڈ بنانے کے لیے ہراساں کیا جاتا ہے یا ان پر غیر ضروری سوالات کیے جاتے ہیں۔

شناختی دستاویزات کے بغیر خواجہ سرا افراد نہ نوکری حاصل کر سکتے ہیں، نہ بینک اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں اور نہ ہی دیگر شہری حقوق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

قانونی تحفظ کا فقدان

اگرچہ ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ 2018 ایک بڑی پیش رفت تھی، مگر زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔ پولیس یا عدالتیں خواجہ سرا افراد کے مقدمات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتیں۔ اگر کوئی خواجہ سرا شخص زیادتی یا تشدد کا شکار ہو، تو اکثر پولیس اس کی شکایت درج کرنے میں ہچکچاتی ہے۔ عدالتوں میں بھی ان کے کیسز کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، جس سے انصاف تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔


جنسی تشدد اور استحصال

پاکستان میں خواجہ سرا افراد جنسی استحصال اور تشدد کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ انہیں سڑکوں پر، گھروں میں یا حتیٰ کہ پولیس کی حراست میں بھی جنسی ہراسانی یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ خواجہ سرا افراد کو خوف ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے شکایت درج کرائی تو انہیں مزید ذلیل یا رسوا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پولیس اور قانونی نظام میں موجود بدعنوانی اور تعصب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔


نفسیاتی مسائل

ڈپریشن اور خودکشی کا رجحان

سماجی بائیکاٹ، معاشی بدحالی اور جنسی تشدد کے نتیجے میں خواجہ سرا کمیونٹی میں نفسیاتی مسائل بے حد عام ہیں۔ ڈپریشن، اینزائٹی اور خودکشی کی شرح اس کمیونٹی میں خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

زیادہ تر خواجہ سرا افراد نفسیاتی علاج نہیں کروا پاتے کیونکہ معاشرہ نفسیاتی بیماریوں کو بدنامی سمجھتا ہے، اور مالی طور پر بھی ان کے پاس اس علاج کے اخراجات اٹھانے کی گنجائش نہیں ہوتی۔


مذہبی اور ثقافتی رویے

پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر بھی خواجہ سرا کمیونٹی کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ اکثر مذہبی رہنما انہیں "گناہ گار” قرار دیتے ہیں یا معاشرے کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں بھی انسانیت، عزت اور مساوات کی تعلیم دی گئی ہے، مگر عملی طور پر مذہبی حلقے خواجہ سرا کمیونٹی کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ثقافتی سطح پر بھی خواجہ سرا افراد کو صرف شادی بیاہ یا بچے کی پیدائش پر ناچ گانے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ انہیں ایک تفریحی یا مزاحیہ کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ایک مکمل انسان یا شہری کے طور پر نہیں۔


میڈیا کا کردار

میڈیا بھی خواجہ سرا کمیونٹی کی مشکلات کو اکثر سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ ڈراموں، فلموں یا مزاحیہ شوز میں خواجہ سرا کردار کو مزاح یا تضحیک کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی نفرت اور تعصب مزید بڑھتا ہے۔

حالانکہ کچھ مثبت کوششیں بھی ہو رہی ہیں جیسے کچھ خواجہ سرا افراد نے نیوز اینکرز، اداکاری یا یوٹیوب پر کیریئر بنایا ہے، مگر یہ کامیابیاں ابھی انفرادی سطح پر ہیں اور پورے طبقے کی نمائندگی نہیں کرتیں۔


حل کے لیے تجاویز

  • تعلیم کا فروغ: خواجہ سرا بچوں کے لیے الگ یا محفوظ اسکول، وظیفے اور تعلیمی اداروں میں ان کے لیے خصوصی تربیت یافتہ عملہ رکھا جائے تاکہ وہ تعلیم جاری رکھ سکیں۔

  • روزگار کے مواقع: حکومت اور نجی ادارے خواجہ سرا افراد کے لیے خصوصی کوٹہ مقرر کریں تاکہ انہیں باعزت روزگار ملے۔

  • صحت کی سہولیات: اسپتالوں میں خواجہ سرا افراد کے لیے الگ کاؤنٹر، وارڈز اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی تعیناتی کی جائے۔

  • قانونی تحفظ: پولیس اور عدلیہ میں تربیت دی جائے تاکہ خواجہ سرا افراد کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

  • معاشرتی آگاہی: میڈیا، تعلیمی نصاب اور مذہبی خطبات میں خواجہ سرا افراد کے حقوق اور احترام پر زور دیا جائے۔

  • نفسیاتی سپورٹ: مفت یا کم خرچ ذہنی صحت کے مراکز قائم کیے جائیں جہاں خواجہ سرا افراد کھل کر اپنے مسائل بیان کر سکیں۔


اختتامیہ

خواجہ سرا کمیونٹی کو نظر انداز کرنا محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ایک صحت مند اور متوازن معاشرہ تبھی تشکیل پا سکتا ہے جب ہر فرد کو برابری، احترام اور مواقع ملیں۔ خواجہ سرا افراد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، ان کے لیے احترام اور تحفظ ہر پاکستانی کا فرض ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ خواجہ سرا کمیونٹی کو صرف ہمدردی کی نگاہ سے نہیں بلکہ حقوق اور برابری کے اصول پر دیکھا جائے۔ اگر حکومت، ادارے اور معاشرہ مل کر سنجیدہ اقدامات کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا خواجہ سرا شہری بھی پورے فخر اور اعتماد کے ساتھ اس معاشرے میں اپنا مقام حاصل کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے