خواتین کی خودمختاری (empowerment) اور بااختیاری (autonomy) ایک ایسا عمل ہے جو انہیں ذاتی، معاشی، سماجی، اور سیاسی فیصلے خود لینے کے قابل بناتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں صنفی عدم مساوات، ثقافتی رکاوٹیں، اور روایتی سوچ خواتین کی راہ میں حائل ہیں، وہاں میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے — شعور اجاگر کرنے، امتیاز کو چیلنج کرنے، اور مثبت مثالیں سامنے لانے کے لیے۔

اس مضمون میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ پاکستان میں خواتین کی بااختیاری میں میڈیا کا کیا کردار ہے، میڈیا نے کیا کچھ مثبت کیا، کیا خامیاں موجود ہیں، اور مستقبل میں اس کا کیا کردار ہونا چاہیے۔

خواتین کی بااختیاری: ایک تعارف

خواتین کی بااختیاری کا مطلب صرف روزگار حاصل کرنا یا تعلیم حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے فیصلوں میں آزادی، اپنی رائے کا اظہار، جسمانی تحفظ، قانونی تحفظ، اور سماجی مساوات ہے۔

بااختیار عورت:

  • خود کفیل ہوتی ہے

  • اپنی زندگی کے فیصلے خود لیتی ہے

  • ظلم، جبر اور امتیاز کے خلاف آواز بلند کرتی ہے

  • اپنی بیٹیوں کو تعلیم و آزادی کی راہ پر لاتی ہے


پاکستان میں میڈیا: ایک طاقتور ادارہ

میڈیا کو "چوتھا ستون” کہا جاتا ہے کیونکہ وہ عوام کی سوچ کو تشکیل دیتا ہے۔ پاکستان میں میڈیا کی کئی اقسام موجود ہیں:

  • پرنٹ میڈیا (اخبارات، رسائل)

  • الیکٹرانک میڈیا (ٹی وی، ریڈیو)

  • ڈیجیٹل میڈیا (ویب سائٹس، یوٹیوب، سوشل میڈیا)

  • فلم و ڈرامہ انڈسٹری

میڈیا نہ صرف خبریں فراہم کرتا ہے بلکہ خیالات، طرزِ زندگی، اور سماجی رویوں کو متاثر بھی کرتا ہے۔ اس لیے میڈیا کا خواتین کے بارے میں پیغام بہت اہمیت رکھتا ہے۔


میڈیا کا مثبت کردار: روشن پہلو

1. خواتین کی آواز کو جگہ دینا

نیوز چینلز، ٹاک شوز، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے خواتین اینکرز، رپورٹرز، بلاگرز اور ایکٹیوسٹس کو نمایاں مقام دیا ہے۔ اس سے خواتین کو حوصلہ ملا ہے کہ وہ آگے آئیں۔

2. تعلیمی اور آگاہی پروگرامز

خواتین کی صحت، تعلیم، گھریلو تشدد، قانونی حقوق پر مبنی پروگرامز لوگوں میں شعور بیدار کرتے ہیں۔

3. مثبت کرداروں کی نمائندگی

ڈراموں اور فلموں میں بعض کردار جیسے:

  • "ڈرامہ سیریل زن مرید” میں گھریلو تشدد کے خلاف مزاحمت

  • "اڈاری” میں جنسی تشدد کا موضوع

  • "چپکے چپکے” میں خودمختار خواتین کردار
    یہ سب خواتین کی طاقت کو اجاگر کرتے ہیں۔

4. سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی

خواتین یوٹیوبرز، سوشل ایکٹیوسٹس، اور بلاگرز اپنی آواز عوام تک پہنچا رہی ہیں، مسائل اجاگر کر رہی ہیں، اور خواتین کو باخبر بنا رہی ہیں۔

5. کمپینز اور ہیش ٹیگز

#MeToo، #MeraJismMeriMarzi، #AuratMarch جیسے ہیش ٹیگز نے میڈیا کے ذریعے قومی سطح پر خواتین کے حقوق کو نمایاں کیا۔


میڈیا کی کوتاہیاں اور چیلنجز

اگرچہ میڈیا نے بہتری کی طرف قدم بڑھایا ہے، مگر اب بھی کئی پہلو ایسے ہیں جو خواتین کی بااختیاری میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

1. سنسنی خیزی اور ریٹنگ کی دوڑ

عورتوں کے مسائل کو سنجیدہ انداز میں پیش کرنے کے بجائے بعض اوقات ان کا مذاق بنایا جاتا ہے یا غلط انداز میں دکھایا جاتا ہے۔

2. غلط نمائندگی

کئی ڈرامے اور فلمیں خواتین کو یا تو کمزور، مظلوم یا صرف خوبصورتی کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو کہ غلط پیغام دیتا ہے۔

3. آن لائن ہراسانی

ڈیجیٹل میڈیا پر خواتین کو نازیبا تبصروں، ٹرولنگ، اور بلیک میلنگ کا سامنا ہوتا ہے، جو ان کی شرکت کو محدود کرتا ہے۔

4. مردوں کا غلبہ

میڈیا انڈسٹری میں فیصلہ ساز پوزیشنز پر زیادہ تر مرد موجود ہوتے ہیں، جس سے خواتین کے مسائل کی ترجمانی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔


میڈیا اور خواتین کی خودمختاری کے اہم پہلو

معاشی بااختیاری

میڈیا خواتین کو آن لائن کاروبار، فری لانسنگ، ہنر سیکھنے اور نوکری کے مواقع کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔

قانونی شعور

ٹی وی پروگرامز اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے خواتین کو اپنے قانونی حقوق، جیسے خلع، وراثت، اور ہراسانی کے خلاف قانون سے آگاہی ملتی ہے۔

سیاسی شعور

میڈیا خواتین کو ووٹ دینے، الیکشن میں حصہ لینے اور سیاسی عمل کا حصہ بننے پر آمادہ کرتا ہے۔

ثقافتی رکاوٹوں کا توڑ

روایتی پابندیوں کو میڈیا کے ذریعے چیلنج کیا جاتا ہے، جیسے لڑکیوں کی تعلیم، شادی کی عمر، لباس کی آزادی وغیرہ۔


بااختیار خواتین میڈیا میں: کامیاب مثالیں

مہر بخاری، غریدہ فاروقی، عاصمہ شیرازی

صحافت میں اپنی جگہ بنانے والی بااثر خواتین جو سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں۔

کائنات فاطمہ، ملالہ یوسفزئی

انٹرنیشنل میڈیا نے ان کی کامیابی کو دنیا بھر میں اجاگر کیا، جو پاکستان کی خواتین کے لیے فخر کا باعث ہے۔

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس

لالا رخ، جویریہ صدیقی، اور دیگر خواتین سوشل میڈیا کے ذریعے عورتوں کے مسائل اور ترقی پر کام کر رہی ہیں۔


میڈیا کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تجاویز

  1. صنفی حساس رپورٹنگ کی تربیت
    صحافیوں اور پروڈیوسرز کو خواتین کے مسائل کو احترام اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کرنے کی تربیت دی جائے۔

  2. خواتین کو فیصلہ ساز پوزیشنز میں لانا
    ایڈیٹر، پروڈیوسر، ڈائریکٹر کی سطح پر خواتین کی نمائندگی بڑھائی جائے۔

  3. ڈیجیٹل سیفٹی قوانین پر عمل
    آن لائن ہراسانی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور فوری عمل درآمد ضروری ہے۔

  4. لوکل ہیروز کو اجاگر کرنا
    چھوٹے شہروں یا دیہی علاقوں کی باہمت خواتین کی کہانیاں سامنے لا کر معاشرے کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔

  5. پوزیٹو کردار ماڈلز
    ڈراموں اور فلموں میں ایسی خواتین کردار دکھائے جائیں جو بااختیار، خودمختار اور معاشرتی تبدیلی کی علمبردار ہوں۔


نتیجہ: بااختیار میڈیا، بااختیار عورت

میڈیا نہ صرف آئینہ ہوتا ہے بلکہ تبدیلی کا محرک بھی بن سکتا ہے۔ اگر میڈیا خواتین کو صرف مظلوم یا حسین کردار کے طور پر دکھانے کے بجائے انہیں رہنما، لیڈر، اور طاقتور انسان کے طور پر پیش کرے تو یہ نہ صرف معاشرتی سوچ کو بدل سکتا ہے بلکہ خواتین کو عملی میدان میں بھی بااختیار بنا سکتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کی ترقی اور مساوات کا خواب میڈیا کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ میڈیا اپنی اصل طاقت کو پہچانے اور خواتین کے حقوق اور بااختیاری کو سنجیدگی سے آگے بڑھائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے