تعلیم کو دنیا بھر میں ایک بنیادی انسانی حق، ترقی کا زینہ، اور غربت سے نجات کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن جب تعلیم کی رسائی اور معیار میں فرق ہو، تو یہی ذریعہ محرومی، نابرابری، اور طبقاتی تفریق کو بڑھاتا ہے۔ پاکستان میں تعلیم کی رسائی اور معیار کا جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے: تعلیم کا نظام خود طبقاتی تفریق کو جنم دے رہا ہے۔

ملک میں موجود مختلف تعلیمی نظام—سرکاری، نجی، مدرسہ، انگریزی میڈیم، اردو میڈیم، کیمبرج، اور دینی مدارس—اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہر طبقہ اپنی مالی حیثیت اور سماجی مقام کے مطابق تعلیم حاصل کر رہا ہے، اور یوں ایک یکساں قوم نہیں بلکہ متعدد تعلیمی، لسانی، اور سماجی طبقات ابھر رہے ہیں۔

پاکستان میں تعلیمی نظام کی اقسام

پاکستان میں تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. سرکاری اسکولز

    • مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں

    • اردو میڈیم

    • انفراسٹرکچر اور تعلیمی معیار کمزور

  2. نجی اسکولز (اردو/انگریزی میڈیم)

    • فیس پر مبنی

    • کچھ اعلیٰ معیار کے، کچھ درمیانے

  3. ایلیٹ کلاس اسکولز (Beaconhouse, City, Roots وغیرہ)

    • کیمبرج/آکسفورڈ نصاب

    • جدید سہولیات

    • مہنگی فیسیں

  4. دینی مدارس

    • مذہبی تعلیم

    • مفت رہائش و خوراک

    • عصری تعلیم اکثر محدود

یہ مختلف نظام نہ صرف تعلیمی نصاب اور معیار میں فرق رکھتے ہیں بلکہ طلباء کی مستقبل کی زندگی، روزگار، زبان، اعتماد، اور سماجی رویوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔


تعلیم اور طبقاتی تفریق: ایک تاریخی جائزہ

قیام پاکستان کے وقت تعلیم کو ایک قومی فریضہ سمجھا گیا، مگر وسائل کی کمی، پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان، اور کرپشن نے تعلیم کو طبقاتی رنگ دے دیا۔

  • 1960 کے بعد نجی اسکولز کی آمد

  • 1980 کی دہائی میں مدارس کی تعداد میں اضافہ

  • 1990 سے ایلیٹ اسکولز کا غلبہ

  • 2000 کے بعد سنگل نیشنل کریکولم (SNC) کی کوششیں

مگر ان سب اقدامات کے باوجود، تعلیم کا نظام مختلف طبقات کے درمیان فاصلہ بڑھا رہا ہے۔


طبقاتی تفریق کے مظاہر تعلیم میں

1. نصاب کا فرق

  • کیمبرج اسکولز میں جدید، بین الاقوامی نصاب

  • سرکاری اسکولز میں پرانا، رٹّہ سسٹم پر مبنی نصاب

  • مدارس میں دینی مواد پر زور، عصری تعلیم محدود

2. زبان کا فرق

  • انگریزی میڈیم = عالمی مواقع

  • اردو میڈیم = مقامی سطح کی محدود رسائی

  • مدارس = صرف اردو یا عربی

3. سہولیات کا فرق

  • ایلیٹ اسکولز میں کمپیوٹر لیب، اسمارٹ بورڈ، AC کلاسز

  • سرکاری اسکولز میں اکثر بجلی، پانی، فرنیچر بھی نہیں

  • مدارس میں محدود وسائل مگر رہائش و خوراک مفت

4. اساتذہ کی تربیت

  • نجی اسکولز میں تربیت یافتہ اساتذہ

  • سرکاری اسکولز میں تربیت کی کمی

  • مدارس میں دینی علم تو موجود مگر جدید تدریسی تربیت کم


تعلیم میں طبقاتی تفریق کے اثرات

1. مواقع میں نابرابری

  • ایلیٹ اسکولز کے طلباء کو یونیورسٹیوں، اسکالرشپس، اور نوکریوں میں برتری

  • سرکاری اسکولز کے طلباء مقابلہ نہیں کر پاتے

2. لسانی اور ثقافتی تقسیم

  • انگریزی میڈیم طلباء اردو اور مقامی زبانوں سے دور

  • اردو میڈیم طلباء عالمی زبانوں سے محروم

3. نفسیاتی اثرات

  • خود اعتمادی کی کمی

  • احساسِ کمتری

  • طلباء کی شناخت کا بحران

4. سماجی انتشار

  • مختلف تعلیمی نظام مختلف سوچ پیدا کرتے ہیں

  • قومی یکجہتی متاثر

  • ایک متحد قوم بننے میں رکاوٹ


مثال: ایک ہی ملک، مگر مختلف تعلیمی دنیا

تعلیمی ادارہ زبان نصاب ماہانہ فیس سہولیات مستقبل
سرکاری اسکول اردو نیشنل مفت محدود محدود مواقع
پرائیویٹ اسکول اردو/انگریزی نیشنل/آکسفورڈ 2000-8000 مناسب درمیانے
ایلیٹ اسکول انگریزی کیمبرج 20,000+ جدید عالمی مواقع
مدرسہ اردو/عربی دینی مفت محدود مذہبی روزگار

طبقاتی تعلیم کے خلاف آوازیں

  • ماہرین تعلیم مسلسل اس تفریق پر تنقید کرتے آئے ہیں۔

  • عدالتوں میں مقدمات بھی درج کیے گئے۔

  • میڈیا اور سول سوسائٹی نے بھی سنگل نیشنل کریکولم کی حمایت کی۔

ڈاکٹر عطاءالرحمٰن: "جب تک تعلیم کو ایک جیسا نہیں بنایا جاتا، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔”

**انگلش میڈیم کے خلاف نفرت نہیں، مگر سب کو برابر مواقع دینا ضروری ہے۔”


حکومتی کوششیں

1. سنگل نیشنل کریکولم (SNC)

  • یکساں نصاب

  • اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کا امتزاج

  • مدارس کو مرکزی نظام میں لانے کی کوشش

  • مگر:

    • عملدرآمد سست

    • نجی اسکولز کی مخالفت

    • اساتذہ کی تربیت کا فقدان

2. بیسک ایجوکیشن ریفارمز

  • اسکولوں میں سہولیات کی بہتری

  • اساتذہ کی حاضری یقینی بنانا

  • مگر فنڈز اور کرپشن رکاوٹ


بین الاقوامی ماڈل

فن لینڈ

  • ایک نصاب، ایک زبان

  • امیر و غریب سب کے لیے یکساں تعلیمی معیار

  • اساتذہ کی سخت تربیت

سنگاپور

  • بائی لنگول تعلیم

  • ریاستی نگرانی

  • جدید نصاب

چین

  • مقامی زبان میں تعلیم

  • انگریزی بطور مضمون

  • سب کے لیے مساوی مواقع


ممکنہ حل

  1. یکساں تعلیمی نصاب اور زبان

    • اردو + انگریزی کا امتزاج

    • کیمبرج اور مدارس میں بھی یکساں نصاب

  2. اساتذہ کی تربیت اور معیاری امتحانات

    • ہر استاد کو تربیتی کورس لازمی

    • پرچے اور نتائج کا معیار یکساں

  3. فنڈز کی مساوی تقسیم

    • ہر اسکول کو مناسب بجٹ

    • سہولیات کی یکسانیت

  4. مدارس کی عصری تعلیم میں شمولیت

    • دینی تعلیم کے ساتھ سائنسی اور سماجی علوم

  5. والدین اور طلباء کی رہنمائی

    • طبقاتی برتری کے تصورات کا خاتمہ

    • معاشرتی شعور کی بیداری


نتیجہ

تعلیم کو اگر واقعی ترقی کا ذریعہ بنانا ہے تو اسے ہر شہری کے لیے برابر اور معیاری بنانا ہوگا۔ موجودہ طبقاتی تعلیمی نظام نہ صرف معاشی ناہمواری کو بڑھا رہا ہے بلکہ ایک متحد قوم کی تشکیل میں بھی رکاوٹ بن رہا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر ایسا تعلیمی نظام اپنانا ہوگا جہاں:

  • ہر بچہ یکساں تعلیم حاصل کرے

  • زبان تفریق کا ذریعہ نہ بنے

  • تعلیمی ادارے طبقاتی نہیں، قومی وحدت کی علامت بنیں

کیونکہ تعلیم صرف امیروں کا حق نہیں، بلکہ ہر بچے کا حق ہے۔

3 thoughts on “پاکستان میں تعلیم اور طبقاتی تفریق: ایک تجزیاتی مطالعہ”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے