بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت، تحفظ اور بہتر نشو و نما پر ہی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں بچے وہ بنیادی حقوق جو آئین اور عالمی معاہدے انہیں دیتے ہیں، اُن سے محروم ہیں۔

یہ مضمون پاکستان میں بچوں کے حقوق کی موجودہ صورتحال، ان کو درپیش مسائل، قوانین، اعداد و شمار، اہم کیسز، اور ممکنہ حل کا تفصیل سے جائزہ پیش کرتا ہے

تاریخی پس منظر

برصغیر میں بچوں کے حقوق

نوآبادیاتی دور میں بچوں کے لیے چند قوانین ضرور موجود تھے جیسے:

  • شاپس ایکٹ 1934

  • چائلڈ لیبر ایکٹ 1922

مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر تھا۔


قیام پاکستان کے بعد

قیام پاکستان کے بعد مختلف حکومتوں نے بچوں کے حقوق پر کچھ توجہ دی:

  • 1973 کا آئین: بچوں کے حقوق کی ضمانت

  • 1990: پاکستان نے UNCRC پر دستخط کیے

  • 2010 کے بعد کئی قوانین پاس ہوئے مگر مسائل برقرار رہے


بچوں کے حقوق کی قانونی حیثیت

آئینی ضمانتیں

پاکستان کا آئین بچوں کو درج ذیل حقوق دیتا ہے:

  • آرٹیکل 9: زندگی اور آزادی کا حق

  • آرٹیکل 11: جبری مشقت اور بچوں کی ملازمت پر پابندی

  • آرٹیکل 25-A: 5 سے 16 سال تک تعلیم کی ضمانت

  • آرٹیکل 35: خاندان، ماں اور بچے کا تحفظ


بین الاقوامی معاہدے

  • UN Convention on the Rights of the Child (CRC)

  • ILO Conventions on Child Labour

  • SAARC Convention on Child Welfare

پاکستان ان معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے مگر عملدرآمد کمزور ہے۔


پاکستان میں بچوں کے حقوق کی موجودہ صورتحال

1. تعلیم کا حق

  • پاکستان میں 22.8 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔

  • لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • دیہی علاقوں میں حالات بدتر ہیں۔

  • قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح کم ترین۔

  • نجی اسکول مہنگے، سرکاری اسکولوں کی حالت خراب۔


2. چائلڈ لیبر (بچوں کی مزدوری)

  • ILO کے مطابق پاکستان میں تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ بچے مزدوری کرتے ہیں۔

  • کارخانوں، قالین بافی، ورکشاپس، کھیتوں، چائے کے ہوٹلوں میں بچے کام کرتے ہیں۔

  • خطرناک مشینوں پر کام، صحت پر شدید اثر۔

  • تعلیم سے محرومی۔


3. جنسی استحصال اور بدسلوکی

  • روزانہ درجنوں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔

  • NGO ساحل کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں 4000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

  • قصور ویڈیو اسکینڈل نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔

  • پولیس اور عدالتوں میں متاثرہ بچوں کو انصاف میں مشکلات۔


4. جسمانی سزا (Corporal Punishment)

  • اسکولوں، مدرسوں، گھروں اور ورکشاپس میں بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

  • کئی بچے تشدد سے معذور ہو جاتے ہیں۔

  • قانون موجود مگر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر۔


5. غذائی قلت (Malnutrition)

  • ہر 3 میں سے 1 بچہ غذائی قلت کا شکار ہے۔

  • 40% بچے اسٹنٹنگ (پست قد) کا شکار۔

  • غربت اور مہنگائی بنیادی وجہ۔


6. صحت کی سہولیات

  • دیہی علاقوں میں اسپتال نہ ہونے کے برابر۔

  • حفاظتی ٹیکوں کی شرح کم۔

  • بچوں کی اموات کی شرح زیادہ۔


7. بچوں پر تشدد

  • گھریلو تشدد

  • جنسی تشدد

  • اغوا برائے تاوان

  • جسمانی استحصال

ہر سال ہزاروں بچے تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔


اہم کیسز

قصور ویڈیو اسکینڈل

  • 2015 میں سینکڑوں بچوں کی ویڈیوز بنائی گئیں۔

  • پورے ملک میں غم و غصہ۔

  • مجرموں کو سزا دینے میں تاخیر۔


زینب قتل کیس

  • قصور میں 7 سالہ بچی کا ریپ اور قتل۔

  • ملک گیر احتجاج۔

  • مجرم عمران کو سزائے موت۔


مشال کیس

  • مردان میں یونیورسٹی کے طالب علم مشال کو توہین مذہب کے الزام پر مار دیا گیا۔

  • بھیڑ کا تشدد، ریاست کی ناکامی۔

  • بچوں کے ذہنوں میں تشدد کا بیج۔


نصرت کیس

  • کراچی میں اسکول کی طالبہ نصرت کو ٹیچرز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

  • جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔


اعداد و شمار

  • 22.8 ملین بچے اسکول سے باہر

  • 12 ملین چائلڈ لیبر

  • 4000+ جنسی استحصال کیسز سالانہ

  • 40% بچے غذائی قلت کا شکار

  • بچوں کی اموات کی شرح: ہر 1000 میں 67 بچے


چائلڈ لیبر قوانین

  • Employment of Children Act 1991

  • Punjab Restriction on Employment of Children Act 2016

  • سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے اپنے قوانین

مسئلہ: قوانین پر عملدرآمد نہیں۔


بچوں کے حقوق کے لیے ادارے

  • نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ

  • ساحل (NGO)

  • SPARC (Society for Protection of the Rights of the Child)

  • UNICEF پاکستان

  • چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب

یہ ادارے محدود وسائل کے باوجود کوشش کر رہے ہیں۔


بچوں کے حقوق کے تحفظ میں رکاوٹیں

1. غربت

  • غربت بچوں کی مزدوری اور تعلیم سے محرومی کی بڑی وجہ۔

  • والدین مجبور ہو کر بچوں کو کام پر لگا دیتے ہیں۔


2. سماجی رویے

  • بچوں پر تشدد کو “تربیت” سمجھا جاتا ہے۔

  • جنسی استحصال چھپایا جاتا ہے۔

  • عزت کی خاطر کیس رپورٹ نہیں کیے جاتے۔


3. کمزور عدالتی نظام

  • عدالتوں میں مقدمے سالوں لٹک جاتے ہیں۔

  • متاثرہ بچوں کے لیے خصوصی عدالتیں کم ہیں۔


4. عدم آگاہی

  • والدین کو بچوں کے حقوق کا علم نہیں۔

  • گاؤں، دیہات میں خاص طور پر صورتحال سنگین۔


5. دہشت گردی اور انتہا پسندی

  • بچے شدت پسند گروپوں کا آسان شکار بنتے ہیں۔

  • مدرسوں میں شدت پسندانہ نظریات۔


مثبت پیش رفت

  • زینب الرٹ بل پاس ہوا۔

  • چائلڈ پروٹیکشن بیوروز کا قیام۔

  • میڈیا پر بچوں کے حقوق پر زیادہ گفتگو۔

  • عدالتوں نے کئی اہم فیصلے دیے۔


سفارشات

1. تعلیم کو ترجیح دی جائے

  • اسکولوں کی حالت بہتر کی جائے۔

  • مفت تعلیم کے بجٹ میں اضافہ۔


2. چائلڈ لیبر کا خاتمہ

  • والدین کو مالی مدد دی جائے تاکہ بچے کام پر نہ جائیں۔

  • فیکٹریوں پر سخت چھاپے۔


3. جنسی استحصال کی روک تھام

  • خصوصی عدالتیں قائم ہوں۔

  • پولیس اسٹیشنز میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس بنیں۔


4. غذائی قلت پر قابو

  • غذائی پروگرام شروع کیے جائیں۔

  • اسکولوں میں دوپہر کا کھانا دیا جائے۔


5. قوانین پر عملدرآمد

  • موجودہ قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔

  • مجرموں کو فوری سزا ملے۔


6. آگاہی مہم

  • والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما بچوں کے حقوق پر تربیت حاصل کریں۔

  • میڈیا پر مثبت پیغام نشر کیا جائے۔


نتیجہ

پاکستان کا مستقبل بچوں کے ہاتھ میں ہے۔ مگر آج بھی لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، مزدوری کر رہے ہیں، تشدد اور جنسی استحصال کا شکار ہیں۔ صرف قوانین بنانے سے کچھ نہیں ہوگا، عملدرآمد ضروری ہے۔ حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا، عدلیہ اور عوام کو مل کر بچوں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہوگی۔ کیونکہ بچوں کے بغیر پاکستان کا مستقبل نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے