پاکستان میں تعلیم کے نظام میں ایک اہم تقسیم میڈیم آف انسٹرکشن یعنی ذریعہ تعلیم کے حوالے سے دیکھی جاتی ہے۔ ایک طرف انگریزی میڈیم اسکول ہیں جو جدید نصاب، سہولیات اور بین الاقوامی معیار کی تعلیم فراہم کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اردو میڈیم اسکول ہیں جو سرکاری سطح پر یا کم فیس پر تعلیم دینے والے ادارے ہیں۔
یہ تقسیم نہ صرف تعلیمی معیار بلکہ معاشرتی، معاشی اور نفسیاتی پہلوؤں پر بھی گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ انگریزی میڈیم اور اردو میڈیم اسکولوں کے درمیان موجود یہ فاصلہ پاکستانی معاشرے میں سوشل ڈیوائیڈ یعنی سماجی تفریق کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم پاکستان میں انگریزی اور اردو میڈیم اسکولوں کا موازنہ کریں گے، ان کے فوائد و نقصانات، معاشرتی اثرات، اور ممکنہ حل پر تفصیل سے بات کریں گے تاکہ ایک یکساں تعلیمی نظام کی جانب پیش قدمی کی جا سکے۔

پاکستان میں میڈیم آف انسٹرکشن کی تاریخ
پاکستان کے قیام کے بعد تعلیم کے حوالے سے کئی پالیسیاں بنیں، جن میں زبان کا مسئلہ ہمیشہ سے اہم رہا۔
-
۱۹۵۹ کی ایوب خان ایجوکیشن پالیسی: اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا، مگر انگریزی کو بھی برقرار رکھا گیا۔
-
ذوالفقار علی بھٹو دور: سرکاری محکموں میں اردو کے نفاذ کی کوششیں ہوئیں۔
-
ضیاء الحق دور: اردو کے فروغ پر زور مگر انگریزی سرکاری سطح پر برقرار رہی۔
-
حالیہ حکومتیں: دونوں زبانیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، مگر انگریزی کو اب بھی “ایلیٹ کلاس” کی زبان سمجھا جاتا ہے۔
انگریزی میڈیم اسکولز کی خصوصیات
1. جدید نصاب
-
O/A Levels
-
کیمبرج سسٹم
-
جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی مواد
-
عالمی سطح پر قابل قبول
2. تدریسی طریقے
-
انٹرایکٹو لرننگ
-
گروپ ڈسکشن
-
پریزنٹیشنز
-
پراجیکٹ بیسڈ لرننگ
3. انفراسٹرکچر
-
ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز
-
کمپیوٹر لیبز
-
اسمارٹ بورڈز
-
لائبریریز
4. معاشرتی شناخت
-
“ایلیٹ کلاس” کی علامت
-
انگریزی بولنے والے طلباء کو بہتر سمجھا جاتا ہے۔
-
اعلیٰ نوکریوں میں انگریزی میڈیم طلباء کو فوقیت
اردو میڈیم اسکولز کی خصوصیات
1. نصاب
-
سرکاری نصاب
-
اردو میں تعلیم
-
محدود جدید مواد
2. تدریسی طریقے
-
روایتی لیکچر میتھڈ
-
کم انٹرایکشن
-
حفظ پر زور
3. انفراسٹرکچر
-
اکثر کمزور عمارتیں
-
بنیادی سہولیات کی کمی
-
دیہی علاقوں میں زیادہ مسائل
4. معاشرتی شناخت
-
غریب یا متوسط طبقہ
-
سرکاری ملازمتوں میں مشکلات
-
انگلش اسپیکنگ میں کمی
انگریزی میڈیم اسکولز کے فوائد
1. عالمی سطح پر مواقع
-
انگریزی زبان کی مہارت عالمی سطح پر قابل استعمال ہے۔
-
O/A لیول طلباء بیرون ملک آسانی سے داخلہ لیتے ہیں۔
2. جدید سوچ
-
جدید سائنس اور ٹیکنالوجی سے آگاہی
-
کریٹیکل تھنکنگ کی تربیت
3. خود اعتمادی
-
انگریزی بولنے والے طلباء میں کانفیڈنس زیادہ
-
پبلک اسپیکنگ کی مہارت
انگریزی میڈیم اسکولز کے نقصانات
1. طبقاتی فرق
-
عام لوگ ان اسکولز کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے۔
-
امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا ہے۔
2. قومی زبان سے دوری
-
اردو کمزور ہو رہی ہے۔
-
نئی نسل اردو لکھنے اور بولنے میں کمزور۔
3. ذہنی دباؤ
-
انگریزی میں تعلیم مشکل۔
-
طلباء پر اضافی بوجھ۔
اردو میڈیم اسکولز کے فوائد
1. زبان کی آسانی
-
طلباء مادری زبان میں بہتر سیکھتے ہیں۔
-
ذہنی دباؤ کم۔
2. کم لاگت
-
غریب طبقے کے لیے قابل رسائی۔
-
سرکاری اسکولز میں مفت تعلیم۔
3. قومی یکجہتی
-
اردو قومی زبان ہونے کے ناطے یکجہتی پیدا کرتی ہے۔
-
کلچرل اقدار محفوظ رہتی ہیں۔
اردو میڈیم اسکولز کے نقصانات
1. جدید دور سے عدم مطابقت
-
نصاب پرانا
-
انگریزی کی کمی سے نوکریوں میں مشکلات
2. معیار کی کمی
-
اساتذہ کی تربیت کمزور
-
انفراسٹرکچر ناقص
3. سماجی تعصب
-
اردو میڈیم طلباء کو “کم تر” سمجھا جاتا ہے۔
-
امیر طبقے میں اس تعلیم کی قدر نہیں۔
معاشرتی اثرات
1. طبقاتی تقسیم
-
انگریزی میڈیم = امیر طبقہ
-
اردو میڈیم = غریب طبقہ
2. سماجی اعتماد میں فرق
-
انگریزی میڈیم طلباء زیادہ خود اعتماد
-
اردو میڈیم طلباء کمتر محسوس کرتے ہیں۔
3. ملازمتوں میں تفریق
-
انگریزی لازمی شرط بن گئی ہے۔
-
اردو میڈیم طلباء نوکریوں میں پیچھے۔
والدین کا نقطہ نظر
-
“انگریزی میڈیم میں پڑھاؤ گے تو بچہ ترقی کرے گا۔”
-
“اردو میڈیم تو سرکاری نوکری بھی نہیں دلواتا۔”
-
“انگریزی پڑھانا مہنگا ہے، مگر مجبوری ہے۔”
بین الاقوامی رجحانات
فن لینڈ
-
مادری زبان میں تعلیم
-
انگلش بطور سبجیکٹ
چین
-
چینی زبان کو ترجیح
-
انگریزی سیکھانا لازمی مگر ذریعہ تعلیم چینی
بھارت
-
کئی ریاستوں میں مادری زبان میں تعلیم
-
انگریزی بطور سبجیکٹ
ممکنہ حل
1. یکساں تعلیمی نظام
-
نصاب اور میڈیم میں فرق ختم کیا جائے۔
-
قومی سطح پر یکساں تعلیمی پالیسی۔
2. بائی لنگول ایجوکیشن
-
اردو اور انگریزی دونوں میں تعلیم۔
-
ابتدائی جماعتوں میں اردو، بعد میں انگریزی شامل۔
3. اساتذہ کی تربیت
-
انگریزی میڈیم اور اردو میڈیم اساتذہ کی یکساں تربیت۔
4. سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر کرنا
-
انفراسٹرکچر بہتر کیا جائے۔
-
جدید نصاب شامل کیا جائے۔
نئی تعلیمی پالیسی اور سنگل نیشنل کریکولم
حالیہ حکومت نے سنگل نیشنل کریکولم (SNC) کا اعلان کیا:
-
یکساں نصاب
-
انگریزی اور اردو دونوں میں تعلیم
-
مگر عملدرآمد کے مراحل میں مشکلات
اردو میڈیم طلباء کی مشکلات
-
یونیورسٹی میں انگریزی میڈیم کورسز
-
نوکریوں کے انٹرویوز میں ناکامی
-
کمیونیکیشن گیپ
انگریزی میڈیم طلباء کے چیلنجز
-
اردو لکھنے اور بولنے میں کمزوری
-
قومی شناخت سے دوری
-
ثقافتی تصادم
عوام کی رائے
“انگریزی میڈیم اسکولز اچھے ہیں مگر غریب آدمی کیسے برداشت کرے؟”
“اردو میڈیم پڑھا کر بچے کو بیکار نہیں کرنا چاہتی۔”
“انگریزی لازمی ہے، مگر اردو بھی چھوڑنا نہیں چاہیے۔”
نتیجہ
پاکستان میں انگریزی اور اردو میڈیم اسکولوں کے درمیان فرق نہ صرف تعلیمی بلکہ معاشرتی تقسیم کو بھی بڑھا رہا ہے۔ یہ تقسیم قوم کو یکجا کرنے کے بجائے مختلف طبقات میں بانٹ رہی ہے۔ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اسے یکساں تعلیمی نظام اور بائی لنگول ایجوکیشن کی طرف جانا ہوگا جہاں ہر بچہ اپنی مادری زبان میں بھی مضبوط ہو اور عالمی زبان انگریزی میں بھی ماہر۔
کیونکہ:
“زبانیں قوموں کو جوڑتی ہیں، بانٹتی نہیں۔”

Monetize your audience with our high-converting offers—apply today! https://shorturl.fm/NofYo
Tap into unlimited earnings—sign up for our affiliate program! https://shorturl.fm/N49E6
Partner with us and earn recurring commissions—join the affiliate program! https://shorturl.fm/tMe2c
Unlock top-tier commissions—become our affiliate partner now! https://shorturl.fm/FgVGm