انسانی حقوق کے محافظین (Human Rights Defenders – HRDs) وہ لوگ ہیں جو معاشرے کے مظلوم طبقوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ یہ وکلاء، صحافی، سماجی کارکن، خواتین رہنما، ٹرانس جینڈر ایکٹوسٹ، ماحولیاتی کارکن، اور دیگر لوگ ہوسکتے ہیں جو انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈال دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں یہ طبقہ خود شدید خطرات، تشدد، دھمکیوں، جبری گمشدگیوں، جھوٹے مقدمات، اور قتل تک کا سامنا کر رہا ہے۔ اس مضمون کا مقصد پاکستان میں انسانی حقوق کے محافظین کی صورتحال، ان کو درپیش خطرات، قانونی پس منظر، اہم کیسز، اور ان خطرات کے حل کے لیے تجاویز پر روشنی ڈالنا ہے

تاریخی پس منظر
پاکستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کے دفاع کی جدوجہد بہت پرانی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد، مختلف ادوار میں سیاسی، مذہبی اور فوجی حکومتوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔
-
ایوب خان دور: طلبہ اور صحافیوں پر سختیاں
-
بھٹو دور: سیاسی مخالفین کی پکڑ دھکڑ
-
ضیاء الحق دور: اظہار رائے پر سخت پابندیاں، صحافیوں اور خواتین کارکنوں کی گرفتاریاں
-
مشرف دور: بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
-
جمہوری ادوار میں بھی کئی کارکن نشانہ بنتے رہے
یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، البتہ اب خطرات کی نوعیت مزید پیچیدہ اور وسیع ہو چکی ہے، خصوصاً ڈیجیٹل ایرا میں۔
انسانی حقوق کے محافظین کون ہیں؟
انسانی حقوق کے محافظین میں شامل ہیں:
-
وکلاء (Human Rights Lawyers)
-
صحافی (Investigative Journalists)
-
ماہرین تعلیم اور اساتذہ
-
خواتین حقوق کارکن
-
مزدور یونین لیڈرز
-
مذہبی اقلیتوں کے نمائندے
-
ماحولیاتی کارکن
-
ٹرانس جینڈر اور ایل جی بی ٹی کارکن
-
لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھانے والے
یہ افراد انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے کام کرتے ہیں جیسے:
-
جبری گمشدگیوں کے خلاف مہم
-
مذہبی اقلیتوں کے حقوق
-
خواتین پر تشدد کے خلاف آواز
-
اظہار رائے کی آزادی کا دفاع
-
ماحولیاتی تحفظ
-
قیدیوں کے حقوق
آئینی اور قانونی پس منظر
آئینی ضمانتیں
آئینِ پاکستان انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے:
-
آرٹیکل 9: زندگی اور آزادی کا حق
-
آرٹیکل 19: اظہار رائے کی آزادی
-
آرٹیکل 20: مذہبی آزادی
-
آرٹیکل 25: قانون کے سامنے برابری
-
آرٹیکل 10-A: منصفانہ ٹرائل کا حق
بین الاقوامی معاہدے
پاکستان نے کئی عالمی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں:
-
اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا اعلامیہ (UDHR)
-
انٹرنیشنل کونویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس (ICCPR)
-
کنونشن اگینسٹ ٹارچر (CAT)
-
کنونشن آن دی الیمنیشن آف آل فارمز آف ڈسکرمینیشن اگینسٹ ویمن (CEDAW)
مگر عملدرآمد سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
انسانی حقوق کے محافظین کو درپیش خطرات
1. جبری گمشدگیاں (Enforced Disappearances)
-
بلوچستان، خیبرپختونخوا، سندھ اور گلگت بلتستان میں کارکن غائب کیے جاتے ہیں۔
-
جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے خود لاپتہ کر دیے جاتے ہیں۔
-
مسنگ پرسنز کمیٹی کے مطابق ہزاروں کیسز زیر التواء ہیں۔
-
لاپتہ افراد کی مائیں، بہنیں، اور بیٹیاں سڑکوں پر احتجاج کرتی ہیں۔
مثال:
-
ماما قدیر بلوچ، جنہوں نے ہزاروں کلومیٹر طویل مارچ کیا۔
-
وانی بلوچ، جو اپنے بھائی کے لیے آواز اٹھاتی رہیں۔
2. قتل اور جسمانی حملے
-
کئی کارکن قتل یا زخمی کیے گئے۔
-
صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
مثال:
-
عارف شاہد (کشمیری رہنما) کو 2013 میں قتل کیا گیا۔
-
سلیم شہزاد (صحافی) 2011 میں قتل۔
-
ارشد شریف 2022 میں قتل۔
3. عدالتی ہراسانی (Legal Harassment)
-
کارکنوں پر بغاوت، دہشت گردی، توہین مذہب، یا غداری کے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں۔
-
عدالتوں میں سالوں مقدمے چلتے ہیں۔
-
ضمانت تک ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔
4. ڈیجیٹل نگرانی اور سائبر حملے
-
حکومت اور ریاستی ادارے کارکنوں کی فون کالز، سوشل میڈیا، اور ای میلز کی نگرانی کرتے ہیں۔
-
سائبر کرائم کے مقدمات بنائے جاتے ہیں۔
-
یوٹیوبرز اور بلاگرز کے اکاؤنٹس معطل کر دیے جاتے ہیں۔
مثال:
-
گل بخاری کو اغوا کیا گیا۔
-
اسد طور پر حملہ۔
-
پی ٹی ایم کے کارکنوں پر سائبر مقدمات۔
5. مذہبی انتہا پسندی اور فتوے
-
کئی مذہبی شدت پسند گروہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو “اسلام دشمن” قرار دے دیتے ہیں۔
-
مذہب کے نام پر فتوے، دھمکیاں، اور سوشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔
-
مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے خاص طور پر نشانے پر ہوتے ہیں۔
6. معاشرتی بائیکاٹ
-
سماجی سطح پر کارکنوں کو “غدار”، “ملک دشمن” یا “ایجنٹ” کہا جاتا ہے۔
-
خاندان، دوست اور کمیونٹی بھی تعلقات توڑ لیتی ہے۔
-
کئی کارکن ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
7. مالی مشکلات
-
کارکنوں کو مالی مدد نہیں ملتی۔
-
این جی اوز پر سخت نگرانی اور فنڈنگ پر پابندیاں۔
-
فارن فنڈڈ کا الزام لگا کر اداروں کو بند کر دیا جاتا ہے۔
خواتین انسانی حقوق محافظین کو الگ خطرات
خواتین کارکنوں کو اضافی خطرات کا سامنا ہے:
-
جنسی ہراسانی
-
ریپ کی دھمکیاں
-
کردار کشی مہمات
-
سوشل میڈیا پر بدنامی
مثال:
-
خدیجہ صدیقی کیس
-
گلالئی اسماعیل کو ملک چھوڑنا پڑا۔
-
ماروی سرمد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں۔
معروف کیسز
عاصمہ جہانگیر
-
پاکستان کی عظیم وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار۔
-
عدالتوں، فوجی حکومتوں، اور مذہبی انتہا پسندوں کے نشانے پر رہیں۔
-
کئی مقدمات کا سامنا کیا مگر پیچھے نہ ہٹیں۔
سلیم شہزاد
-
تحقیقی صحافی۔
-
سیکیورٹی اداروں پر رپورٹنگ کرتے رہے۔
-
2011 میں قتل۔ اقوام متحدہ نے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
گلالئی اسماعیل
-
خواتین اور پشتون تحفظ موومنٹ کی کارکن۔
-
غداری کے مقدمات۔
-
ملک چھوڑ کر امریکا جانا پڑا۔
ارشد شریف
-
معروف صحافی۔
-
حکومت اور اداروں پر تنقید۔
-
2022 میں کینیا میں قتل۔
ادارے جو کام کر رہے ہیں
-
ایچ آر سی پی (Human Rights Commission of Pakistan)
-
AGHS لیگل ایڈ سیل
-
ساحل (بچوں کے تحفظ کے لیے)
-
عورت فاؤنڈیشن
-
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن
-
فریڈم نیٹ ورک
یہ ادارے انتھک محنت کر رہے ہیں مگر شدید دباؤ میں ہیں۔
موجودہ صورتحال اور اعدادوشمار
-
HRW کے مطابق پاکستان میں انسانی حقوق کے محافظین کے لیے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
-
2022 میں رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں پاکستان 157ویں نمبر پر رہا۔
-
کئی کارکن اب ملک چھوڑ کر بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
-
PECA 2016 کے تحت کئی صحافی اور کارکن گرفتار ہوئے۔
-
جبری گمشدگیوں کے کیسز ہزاروں میں ہیں مگر حل نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اقوام متحدہ کا موقف
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے برائے انسانی حقوق کے محافظین کے مطابق:
-
پاکستان میں انسانی حقوق کے محافظین پر حملے، قتل، اور قانونی ہراسانی تشویش ناک حد تک زیادہ ہیں۔
-
حکومت کو چاہیے کہ HRDs کو تحفظ دے اور قوانین میں اصلاحات کرے۔
پاکستان میں حکومت کا موقف
حکومت ہمیشہ کہتی ہے:
-
“ملکی سلامتی اور مذہبی حرمت مقدم ہیں۔”
-
“کچھ لوگ انسانی حقوق کے نام پر ملک دشمن ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔”
-
“سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانا ناقابل قبول ہے۔”
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اکثر اس دلیل کا استعمال اختلافی آوازیں دبانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
خطرات کے اثرات
-
HRDs کی سیلف سنسرشپ بڑھ گئی ہے۔
-
کئی اہم کیسز عوام تک نہیں پہنچ پاتے۔
-
معاشرت میں خوف کا ماحول ہے۔
-
عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔
-
انسانی حقوق کے تحفظ میں خلا پیدا ہو گیا ہے۔
مثبت پیش رفت
-
سپریم کورٹ نے کئی مواقع پر HRDs کے حق میں فیصلے دیے۔
-
سول سوسائٹی اب زیادہ مضبوط اور منظم ہے۔
-
سوشل میڈیا نے HRDs کو نئی طاقت دی۔
-
کچھ صحافی اور وکیل اب بھی کھل کر بول رہے ہیں۔
حل اور سفارشات
1. جبری گمشدگیوں کا خاتمہ
-
قانون سازی ہو کہ لاپتہ افراد کے کیسز میں جوابدہی ہو۔
-
متاثرہ خاندانوں کو انصاف دیا جائے۔
2. قانونی اصلاحات
-
PECA 2016 میں ترامیم کی جائیں۔
-
بغاوت، غداری اور توہین مذہب کے قوانین کو سخت شرائط سے مشروط کیا جائے۔
3. HRDs کا تحفظ
-
پولیس اور انتظامیہ HRDs کو تحفظ دے۔
-
حملے کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہو۔
4. خواتین HRDs کے لیے مخصوص اقدامات
-
جنسی ہراسانی کے خلاف قانون پر عمل کیا جائے۔
-
آن لائن ہراسانی کے خلاف ہیلپ لائنز بنائی جائیں۔
5. عالمی اداروں کا تعاون
-
UN اور عالمی ادارے پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ HRDs کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرے۔
-
پاکستان کو مثبت انسانی حقوق کی مثال بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
6. عوامی شعور
-
عوام کو بتایا جائے کہ HRDs “ملک دشمن” نہیں بلکہ معاشرت کے ہیرو ہیں۔
-
میڈیا کو HRDs کے کردار کو مثبت انداز میں پیش کرنا چاہیے۔
نتیجہ
پاکستان کے آئین اور عالمی معاہدے انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے وہی لوگ جو ان حقوق کے لیے لڑتے ہیں، آج سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ انسانی حقوق کے محافظین پاکستان کا ضمیر ہیں۔ ان پر حملہ دراصل معاشرے کی فکری اور اخلاقی بنیادوں پر حملہ ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ریاست، عدلیہ، سول سوسائٹی اور عوام مل کر HRDs کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ کیونکہ انسانی حقوق کے بغیر کوئی معاشرہ مہذب نہیں کہلا سکتا۔
انسانی حقوق کے محافظین، معاشرے کے اصل ہیرو ہیں
