اظہار رائے کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ کھل کر اپنے خیالات، تنقید، اور اختلاف رائے کا اظہار کر سکیں، وہاں ترقی، انصاف اور شفافیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کا آئین بھی اظہار رائے کی آزادی کو بنیادی حق تسلیم کرتا ہے۔

مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ہمیشہ سے مشکلات اور پابندیوں کا شکار رہی ہے۔ کبھی فوجی حکومتوں کے دوران، کبھی جمہوری ادوار میں، اور اب ڈیجیٹل دور میں، اظہار رائے پر قدغنیں کبھی ختم نہیں ہوئیں۔

یہ مضمون پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کی تاریخی، قانونی، سیاسی اور سماجی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیتا ہے

تاریخی پس منظر

قیام پاکستان کے بعد

قیام پاکستان کے فوراً بعد پریس کو نسبتاً آزادی حاصل تھی۔ مگر جلد ہی سیاسی حکومتوں اور پھر مارشل لا ادوار میں میڈیا پر کریک ڈاؤن شروع ہوا:

  • 1958: ایوب خان کا مارشل لا، اخبارات بند

  • 1971: یحییٰ خان کا دور، صحافیوں پر کریک ڈاؤن

  • 1977-1988: ضیاء الحق کا دور سب سے سیاہ دور سمجھا جاتا ہے

  • 1990s: جمہوری حکومتیں مگر صحافیوں پر دباؤ برقرار

  • 1999-2008: مشرف دور، الیکٹرانک میڈیا کو فروغ مگر کنٹرول بھی سخت ہوا


آئینی اور قانونی پس منظر

آئین پاکستان

  • آرٹیکل 19:
    “ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے، مگر قانون کے ذریعے عائد معقول پابندیوں کے تابع، جو اسلام کی عظمت، پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، عوامی نظم و نسق، وقار عدالت، اخلاق یا توہین عدالت سے متعلق ہوں۔”


اہم قوانین

  • Pakistan Penal Code (PPC) – مختلف دفعات جن میں بغاوت، نفرت انگیز تقریر وغیرہ

  • Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) 2016

  • PEMRA Ordinance 2002

  • Official Secrets Act 1923

  • Blasphemy Laws (Sections 295, 298)

یہ قوانین بعض اوقات اظہار رائے پر پابندی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔


اظہار رائے کی آزادی کے موجودہ چیلنجز

1. میڈیا پر دباؤ

  • اخبارات پر دباؤ کہ مخصوص خبریں شائع نہ کریں

  • الیکٹرانک میڈیا پر پابندیاں

  • “میڈیا بلیک آؤٹ” کا رواج

  • اشتہارات روکنے کی دھمکیاں


2. صحافیوں پر حملے

  • CPJ کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے۔

  • 2022 تک 70 سے زائد صحافی قتل ہو چکے ہیں۔

  • کئی صحافی اغوا، تشدد، یا دھمکیوں کا شکار ہوتے ہیں۔


3. ڈیجیٹل سینسرشپ

  • سوشل میڈیا پر پوسٹس ہٹائی جاتی ہیں۔

  • یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک پر عارضی پابندیاں۔

  • سائبر کرائم ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا کارکنوں کی گرفتاریاں۔


4. توہین مذہب قوانین کا استعمال

  • اظہار رائے روکنے کے لیے توہین مذہب کے قوانین کا استعمال۔

  • اقلیتوں اور لبرل آوازوں کو دبانے کا ذریعہ۔


5. ریاستی بیانیہ کی مخالفت پر کارروائی

  • قومی سلامتی کے نام پر تنقیدی آوازوں پر مقدمات۔

  • فوج پر تنقید کو “ریڈ لائن” تصور کیا جاتا ہے۔


ڈیجیٹل دور کے مسائل

سوشل میڈیا کا کردار

  • ڈیجیٹل میڈیا نے عام لوگوں کو آواز دی۔

  • شہری صحافت کا رجحان بڑھا۔

  • مگر ساتھ ہی سینسرشپ بھی بڑھی۔


PECA 2016 کا استعمال

  • آن لائن مواد پر کنٹرول کے لیے استعمال۔

  • کئی بلاگرز اور کارکن PECA کے تحت گرفتار۔

  • “جعلی خبر” یا “ریاست مخالف مواد” کے نام پر کارروائیاں۔


اہم کیسز

مشال خان کیس

  • مردان یونیورسٹی میں طالب علم مشال پر توہین مذہب کا الزام لگا کر ہجوم نے قتل کر دیا۔

  • سوشل میڈیا پر آزاد رائے دینا مہلک ثابت ہوا۔


حسان نیازی، گل بخاری کیس

  • تنقیدی صحافی اور کارکن اغوا یا ہراساں۔


مطیع اللہ جان کیس

  • سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا۔

  • بعد میں چھوڑ دیا گیا مگر آزادی اظہار پر سوالات۔


آسیہ اندرابی کیس

  • کشمیر کی حریت رہنما آسیہ پر آن لائن مواد کی بنیاد پر کارروائی۔


صحافیوں کے لیے خطرات

  • صحافیوں کو قتل کی دھمکیاں

  • اغوا برائے تاوان

  • “نامعلوم افراد” کا خوف

  • بلوچستان، سندھ، سابقہ فاٹا سب سے زیادہ خطرناک علاقے


میڈیا اداروں پر اقتصادی دباؤ

  • اخبارات اور چینلز کو اشتہارات روک کر دباؤ میں لایا جاتا ہے۔

  • صحافیوں کو نوکریوں سے نکالا جاتا ہے۔

  • آزاد میڈیا مالی بحران کا شکار۔


عدالتی کردار

  • بعض اوقات عدالتیں اظہار رائے کے حق کا دفاع کرتی ہیں۔

  • کئی بار توہین عدالت کے نام پر تنقیدی آوازوں پر پابندی بھی لگتی ہے۔


میڈیا بلیک آؤٹ

  • سیاسی جماعتوں کی کوریج پر پابندیاں۔

  • PTM، بعض سیاسی جماعتوں، یا جلسوں پر میڈیا بلیک آؤٹ۔


بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس

RSF (Reporters Without Borders)

  • 2023 میں پاکستان 150ویں نمبر پر رہا۔

  • صحافت “زیادہ خطرناک پیشہ” قرار دی گئی۔


CPJ (Committee to Protect Journalists)

  • پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کے کیسز میں سزا کی شرح بہت کم۔

  • “Impunity” کا کلچر غالب۔


اظہار رائے پر قدغن کی وجوہات

1. قومی سلامتی کا بیانیہ

  • ریاستی ادارے تنقید برداشت نہیں کرتے۔

  • صحافیوں کو “غدار” یا “ملک دشمن” کہہ کر خاموش کرایا جاتا ہے۔


2. مذہبی انتہا پسندی

  • مذہبی معاملات پر بات کرنا خطرناک۔

  • ہجوم کا تشدد۔


3. معاشرتی دباؤ

  • کئی معاملات کو “غیرت” یا “روایات” سے جوڑا جاتا ہے۔

  • خواتین صحافیوں پر زیادہ دباؤ۔


4. عدالتی پابندیاں

  • بعض اوقات عدالتیں خود مواد نشر کرنے پر پابندیاں لگاتی ہیں۔

  • توہین عدالت قوانین کا استعمال۔


خواتین صحافیوں کے لیے خطرات

  • آن لائن ہراسانی

  • ٹرولنگ

  • ذاتی تصاویر یا معلومات لیک کر کے دباؤ

  • معاشرتی کردار کشی


اظہار رائے اور اقلیتیں

  • مذہبی اقلیتوں کے مسائل اجاگر کرنے پر خطرات

  • احمدیوں کے حوالے سے مواد پر مکمل پابندی

  • توہین مذہب کا خطرہ


مثبت پہلو

  • سوشل میڈیا نے آواز دی

  • عدالتی فیصلوں میں بعض اوقات آزادی اظہار کا دفاع

  • سول سوسائٹی متحرک

  • نوجوان نسل زیادہ باشعور


سفارشات

1. قوانین میں اصلاحات

  • PECA میں واضح ترمیم کی جائے تاکہ آزادی اظہار متاثر نہ ہو۔

  • توہین مذہب قوانین کے غلط استعمال کو روکا جائے۔


2. تحفظ صحافی

  • صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی۔

  • “نامعلوم افراد” کے خلاف کارروائی۔


3. میڈیا اداروں کی مالی مدد

  • آزاد میڈیا کو سرکاری اشتہارات منصفانہ طور پر دیے جائیں۔

  • میڈیا اداروں پر اقتصادی پابندی ختم کی جائے۔


4. عدالتی اصلاحات

  • عدلیہ کو آزادی اظہار کے حق کو ترجیح دینی چاہیے۔

  • توہین عدالت کے قانون کا غیر ضروری استعمال نہ ہو۔


5. عوامی آگاہی

  • اظہار رائے کو بطور حق تسلیم کروایا جائے۔

  • میڈیا لٹریسی بڑھائی جائے۔


نتیجہ

پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی مسلسل دباؤ میں ہے۔ کبھی ریاستی ادارے، کبھی مذہبی شدت پسند، اور کبھی عدالتی پابندیاں اس حق کو محدود کرتی ہیں۔ مگر عوام، سول سوسائٹی، اور صحافی مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان کو ایک مضبوط جمہوریت بنانا ہے تو اظہار رائے کی آزادی کو مکمل تحفظ دینا ہوگا۔ کیونکہ اظہار رائے کی آزادی ہی کسی بھی معاشرے کی روح ہے۔

11 thoughts on “پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کی صورتحال”
  1. I am really loving the theme/design of your blog.
    Do you ever run into any browser compatibility issues?
    A small number of my blog audience have complained about
    my blog not working correctly in Explorer but looks great in Firefox.
    Do you have any tips to help fix this problem?

  2. Hello there! This blog post could not be written much better!

    Looking at this post reminds me of my previous roommate!
    He constantly kept talking about this. I most certainly will forward this post to him.
    Pretty sure he’s going to have a great read. Thank you for sharing!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے