پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں مردوں کو بھی سفر کے دوران بے شمار مشکلات پیش آتی ہیں، وہاں خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کا سفر کئی گنا زیادہ مشکل اور خطرناک ہو جاتا ہے۔

عورت چاہے اسکول یا کالج کی طالبہ ہو، دفتر کی ملازمہ، یا کسی گھر کی خاتون خانہ، اسے روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ مگر اس سفر کے دوران جو مشکلات، خطرات اور خوف خواتین کو پیش آتے ہیں، وہ عموماً معاشرے کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔

یہ مضمون ان مسائل، وجوہات، اثرات اور ان کے حل پر تفصیل سے روشنی ڈالے گا۔

  • تنہا سفر کرنے میں ڈر

  • بس اسٹاپ یا اڈے پر کھڑے ہونے سے خوف محسوس ہونا


خواتین کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل کیوں زیادہ ہیں؟

۱. مردانہ اکثریت

پاکستان میں بسوں، ویگنوں، اور رکشوں میں اکثریت مردوں کی ہوتی ہے۔ خواتین کی مخصوص نشستیں بہت کم ہوتی ہیں یا ان پر مرد ہی بیٹھے ہوتے ہیں۔

۲. ناکافی ٹرانسپورٹ

خواتین کے لیے مخصوص بسیں یا گاڑیاں بہت کم ہیں۔ نتیجہ یہ کہ خواتین کو مجبوراً مردوں کے درمیان سفر کرنا پڑتا ہے۔

۳. بدتمیزی اور بے حسی

ڈرائیور، کنڈکٹر، یا دیگر مرد مسافر اکثر بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔ خاتون اگر آواز اٹھائے تو الٹا اسے ہی الزام دیا جاتا ہے۔

۴. پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر فعالیت

بس اسٹاپ یا ویگن اسٹینڈ پر پولیس موجود نہیں ہوتی۔ اگر کوئی خاتون شکایت کرے بھی تو اکثر بات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

۵. معاشرتی سوچ

معاشرہ سمجھتا ہے کہ “عورت کو گھر رہنا چاہیے، باہر کیوں نکلی؟” اسی وجہ سے عورت کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔


مختلف شہروں کی صورتحال

کراچی

  • شہر میں لاکھوں خواتین روزانہ سفر کرتی ہیں۔

  • ریڈ لائن، گرین لائن جیسے پروجیکٹس شروع تو ہوئے ہیں، مگر ہجوم اور تحفظ کے مسائل برقرار ہیں۔

  • ویگنیں اور کوچز خواتین کے لیے محفوظ نہیں۔

لاہور

  • سپیڈو بس سروس اور میٹرو بس خواتین کے لیے نسبتاً بہتر ہیں۔

  • پھر بھی پیک آورز میں دھکم پیل اور ہراسانی عام ہے۔

  • رکشے اور چنگ چی میں بھی مسائل کم نہیں ہوئے۔

پشاور

  • بسوں میں خواتین کے لیے الگ جگہ کم ہے۔

  • مرد مسافر خواتین کے حصے میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔

  • رکشے میں بھی چارج زیادہ لیتے ہیں اگر مسافر عورت ہو۔

کوئٹہ

  • خواتین کی نقل و حرکت محدود ہے۔

  • پبلک ٹرانسپورٹ میں عورت کا اکیلا سفر کرنا غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔


پبلک ٹرانسپورٹ میں عورت کے لیے سفر کا خوف

ایک عام عورت کے لیے بس میں چڑھنا، اترنا، اور سفر کرنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کئی خواتین بتاتی ہیں کہ:

  • وہ اپنے کپڑے خاص طور پر “ڈھیلے اور لمبے” پہنتی ہیں تاکہ توجہ نہ کھینچیں۔

  • کئی خواتین اپنے بھائی یا باپ کے بغیر سفر کرنے سے کتراتی ہیں۔

  • عورت کی چھوٹی عمر یا اکیلا ہونا اسے مزید خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

  • بعض دفعہ عورت کو کنڈکٹر یا ڈرائیور سے بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


نفسیاتی اثرات

پبلک ٹرانسپورٹ میں مسلسل ہراسانی خواتین کی نفسیاتی صحت پر گہرے اثرات ڈالتی ہے:

  • خوداعتمادی میں کمی

  • ڈپریشن

  • روزگار یا تعلیم چھوڑ دینا

  • مستقل خوف اور بے چینی

  • رات کو نیند متاثر ہونا


معیشت پر اثرات

  • خواتین پبلک ٹرانسپورٹ کے خوف سے نوکری چھوڑ دیتی ہیں۔

  • تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔

  • کئی خواتین پرائیویٹ ٹیکسی یا کار سروسز استعمال کرتی ہیں جو مہنگی ہوتی ہیں۔

  • معاشی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔


قانونی پہلو

PECA 2016

  • اگر کسی خاتون کی ویڈیو یا تصویر بنا کر ہراسانی کی جائے تو PECA کے تحت کاروائی ہو سکتی ہے۔

  • مگر زمینی سطح پر عمل کمزور ہے۔

ہراسمنٹ قوانین

  • Workplace Harassment Laws کا دائرہ کار بسوں یا پبلک مقامات پر مکمل لاگو نہیں ہوتا۔

پولیس کی کارکردگی

  • خاتون اگر شکایت کرے، تو اکثر پولیس یہ کہہ کر ٹال دیتی ہے:

    “آپ بس میں کیوں چڑھتی ہیں؟ گھر میں رہیں۔”


سدباب کے لیے تجاویز

۱. خواتین کے لیے خصوصی بسیں

  • صرف خواتین کے لیے بس سروسز شروع کی جائیں۔

  • بسوں میں خواتین ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کی تعیناتی۔

۲. سی سی ٹی وی کیمرے

  • بسوں اور اسٹاپس پر کیمرے نصب کیے جائیں۔

  • ہراسانی کی صورت میں ویڈیو ثبوت موجود ہو۔

۳. پولیس کی موجودگی

  • بس اسٹاپ اور ویگن اڈوں پر پولیس کا گشت۔

  • خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی۔

۴. عوامی آگاہی

  • ہراسانی کے خلاف عوام کو آگاہ کیا جائے۔

  • “خواتین کے لیے محفوظ سفر” مہم چلائی جائے۔

  • مردوں کی تربیت کہ وہ خاموش تماشائی نہ رہیں۔

۵. قانونی اصلاحات

  • ہراسمنٹ کے قوانین میں پبلک ٹرانسپورٹ کو شامل کیا جائے۔

  • فوری کاروائی اور سزائیں یقینی بنائی جائیں۔


سول سوسائٹی اور این جی اوز کا کردار

پاکستان میں کچھ ادارے اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں، جیسے:

  • ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن

  • آواری نیٹ ورک

  • ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ

یہ ادارے خواتین کو قانونی مدد، آگاہی اور نفسیاتی سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ مگر ان کی رسائی محدود ہے۔


نتیجہ

پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ محض سفر کا مسئلہ نہیں بلکہ خواتین کی آزادی اور عزت کا مسئلہ ہے۔ جب تک معاشرہ اجتماعی طور پر اس پر توجہ نہیں دے گا، خواتین کی ترقی ممکن نہیں۔ خواتین کو محفوظ ٹرانسپورٹ ملے گی تو وہ تعلیم، نوکری اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے سکیں گی۔ اب وقت ہے کہ ہم صرف باتیں نہ کریں بلکہ عملی قدم اٹھائیں۔

5 thoughts on “ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کی حفاظت کے مسائل: پاکستان میں ایک تلخ حقیقت”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے