پاکستان میں خواتین کی سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ ان رکاوٹوں میں سب سے سنگین مسئلہ ورک پلیس پر جنسی ہراسانی ہے۔
عورت چاہے فیکٹری میں مزدور ہو، دفتر میں کلرک، یونیورسٹی میں لیکچرار، یا کسی کارپوریٹ سیکٹر میں افسر، اسے جنسی ہراسانی کے خطرے کا سامنا رہتا ہے۔ اکثر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ متاثرہ خواتین کو معاشرتی دباؤ، “عزت” کے نام پر خاموش کروا دیا جاتا ہے، یا پھر قانونی نظام پر اعتماد نہیں ہوتا۔
یہ مضمون ورک پلیس پر جنسی ہراسانی کی اقسام، وجوہات، اثرات، قانونی پہلو، اور سدباب کے بارے میں تفصیل سے بات کرے گا۔

جنسی ہراسانی کیا ہے؟
جنسی ہراسانی کا مطلب وہ رویے یا حرکات ہیں جو خواتین کے لیے ناگوار، ذلت آمیز یا خوفزدہ کرنے والی ہوں۔ اس میں شامل ہیں:
-
فحش باتیں یا تبصرے
-
ناپسندیدہ جسمانی رابطہ
-
نازیبا اشارے
-
پرسنل یا جنسی نوعیت کے سوالات
-
پروموشن، انکریمنٹ یا نوکری برقرار رکھنے کے لیے “جنسی تعلق” کی شرط
-
فحش مواد دکھانا یا بھیجنا
-
عورت کے لباس، جسم یا شکل پر نامناسب تبصرے
ورک پلیس پر جنسی ہراسانی کی اقسام
۱. کوئڈ پرو کو (Quid Pro Quo)
اس کا مطلب ہے “کچھ لو، کچھ دو”۔
مثلاً:
-
باس کہے کہ اگر تم میرے ساتھ ذاتی تعلقات قائم کرو، تو تمہیں ترقی ملے گی۔
-
انکار کی صورت میں نوکری سے نکال دینے یا سزا دینے کی دھمکی دینا۔
۲. ہوسٹائل ورک انوائرنمنٹ (Hostile Work Environment)
-
خواتین کے لیے ماحول اتنا غیر محفوظ یا خوفناک بنا دینا کہ وہ کام نہ کر سکیں۔
-
مثال کے طور پر، بار بار فحش مذاق، گھورنا، یا غیر اخلاقی باتیں۔
پاکستان میں جنسی ہراسانی کے واقعات
پاکستان میں اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ چند حقائق سے لگایا جا سکتا ہے:
-
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ہر سال سینکڑوں کیس رپورٹ ہوتے ہیں، لیکن اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔
-
فیکٹریوں، دفاتر، اور سرکاری اداروں میں خواتین کو جنسی ہراسانی کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
-
نرسیں، اساتذہ، بینک ملازمین، اور میڈیا انڈسٹری کی خواتین بھی خاص طور پر نشانہ بنتی ہیں۔
جنسی ہراسانی کے اثرات
نفسیاتی اثرات
-
ڈپریشن
-
ذہنی دباؤ
-
خوف
-
خود اعتمادی میں کمی
-
نیند کی کمی
پیشہ ورانہ اثرات
-
خواتین نوکری چھوڑ دیتی ہیں۔
-
ترقی کے مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔
-
کام کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
سماجی اثرات
-
معاشرہ اکثر متاثرہ خاتون کو ہی الزام دیتا ہے۔
-
خاندان متاثرہ خاتون پر دباؤ ڈالتا ہے کہ بات کو دبا دیا جائے۔
-
متاثرہ خاتون کو بدنام کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں قانونی پہلو
پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010
پاکستان نے ۲۰۱۰ میں تحفظِ خواتین برائے جنسی ہراسانی ایکٹ منظور کیا۔ اس کے تحت:
-
ہر ادارے پر لازم ہے کہ اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی قائم کرے۔
-
متاثرہ خاتون تحریری شکایت کمیٹی میں درج کرا سکتی ہے۔
-
قصوروار پر جرمانہ، معافی یا نوکری سے برخاستگی تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
چیلنجز:
-
اکثر ادارے قانون پر عمل نہیں کرتے۔
-
خواتین شکایت کرنے سے ڈرتی ہیں۔
-
کمیٹیوں میں مرد غالب ہوتے ہیں جن کی سوچ پدرسری ہوتی ہے۔
-
قانونی کارروائی سست اور پیچیدہ ہے۔
جنسی ہراسانی کی وجوہات
۱. پدرسری نظام (Patriarchy)
-
مرد خود کو باس اور خواتین کو تابع سمجھتے ہیں۔
-
خواتین کو “کمزور جنس” سمجھا جاتا ہے۔
۲. قانون پر عمل درآمد کی کمی
-
ادارے قانون کو کاغذوں تک محدود رکھتے ہیں۔
-
متاثرہ خواتین کو انصاف تک رسائی نہیں ملتی۔
۳. معاشرتی رویہ
-
متاثرہ خاتون پر ہی الزام لگایا جاتا ہے۔
-
“عزت” بچانے کے لیے خواتین کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
۴. طاقت کا غلط استعمال
-
باس یا سینئر افسران اپنی طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
کس طرح سدباب کیا جا سکتا ہے؟
۱. تعلیم اور آگاہی
-
اداروں میں باقاعدہ ٹریننگ سیشنز۔
-
مرد ملازمین کی بھی تربیت کہ کس بات کو ہراسانی سمجھا جاتا ہے۔
-
میڈیا میں آگاہی پروگرامز۔
۲. قانونی عمل کو مضبوط کرنا
-
اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں کو فعال کرنا۔
-
خواتین کی کمیٹیوں میں شمولیت لازمی۔
-
فوری اور شفاف تحقیقات۔
۳. متاثرہ خواتین کا حوصلہ بڑھانا
-
متاثرہ خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنا۔
-
رازداری کو یقینی بنانا۔
-
سوشل سپورٹ نیٹ ورک قائم کرنا۔
۴. معاشرتی رویے میں تبدیلی
-
متاثرہ خاتون کو قصور وار نہ ٹھہرایا جائے۔
-
مردوں کی سوچ بدلنے کے لیے مہمات۔
-
والدین کو بیٹیوں کو مضبوط بنانے کی تربیت دینا۔
این جی اوز اور سول سوسائٹی کا کردار
پاکستان میں کئی این جی اوز اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں:
-
آواری نیٹ ورک
-
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن
-
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
یہ ادارے قانونی مدد، آگاہی اور ہیلپ لائنز فراہم کرتے ہیں۔ مگر ان کی رسائی ابھی تک محدود ہے۔
نتیجہ
ورک پلیس پر جنسی ہراسانی پاکستان میں خواتین کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک معاشرہ، قانون، اور ادارے مل کر اس کے خلاف کام نہیں کریں گے، خواتین کو برابر کے مواقع نہیں مل سکتے۔
یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کے لیے محفوظ ورک پلیس ماحول قائم کیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتیں پوری طرح استعمال کر سکیں اور معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں۔

Join our affiliate program and watch your earnings skyrocket—sign up now! https://shorturl.fm/DUMqf
Promote our products—get paid for every sale you generate! https://shorturl.fm/8mxn8
Join our affiliate program and watch your earnings skyrocket—sign up now! https://shorturl.fm/O95oe
Drive sales and watch your affiliate earnings soar! https://shorturl.fm/upZiD