کیے جائیں۔ بچوں کو اکثر معصوم اور کمزور سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی بھی قوم کا مستقبل اور سرمایہ ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت، تحفظ اور بہتر پرورش، نہ صرف انفرادی زندگی بلکہ اجتماعی معاشرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بچوں کے حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے۔ غربت، جہالت، سماجی ناہمواری، قانونی کمزوری، اور کمزور عملدرآمد کے باعث لاکھوں بچے آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ان میں تعلیم، صحت، خوراک، تشدد سے تحفظ، اور استحصال سے آزادی جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں۔
یہ مضمون اسی پس منظر میں لکھا جا رہا ہے تاکہ پاکستان میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان کے تحفظ کے لیے موجود قانونی اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا جا سکے اور اس کے حل پر روشنی ڈالی جا سکے۔

تاریخی پس منظر اور عالمی تناظر
بچوں کے حقوق کا عالمی تصور
بچوں کے حقوق کا عالمی تصور نسبتاً نئی تحریک ہے۔ اگرچہ مختلف تہذیبوں میں بچوں کی اہمیت تسلیم کی جاتی رہی، مگر بچوں کے لیے حقوق کی باضابطہ دستاویزات بیسویں صدی میں ہی وجود میں آئیں۔ 1924 میں لیگ آف نیشنز نے جنیوا ڈیکلیریشن آف دی رائٹس آف دا چائلڈ منظور کی۔ مگر اصل سنگ میل 1989 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور ہونے والا کنونشن آن دی رائٹس آف دا چائلڈ (CRC) ہے جس میں بچوں کو تعلیم، صحت، بقاء، ترقی، اور اظہار رائے سمیت کئی حقوق دیے گئے۔
پاکستان نے اس کنونشن پر 1990 میں دستخط کیے اور 1997 میں اس کی توثیق کی۔ اس کے بعد پاکستان پر قانونی، اخلاقی اور آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔
پاکستان میں بچوں کے حقوق کی قانونی حیثیت
آئینی ضمانتیں
پاکستان کا آئین بچوں کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، جیسے:
-
آرٹیکل 9: زندگی اور آزادی کا تحفظ
-
آرٹیکل 25-A: 5 سے 16 سال تک کے بچوں کے لیے لازمی اور مفت تعلیم
-
آرٹیکل 11: جبری مشقت اور بچوں کی تجارت پر پابندی
-
آرٹیکل 35: خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کی ضمانت
اہم قوانین
پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کئی قوانین موجود ہیں، مثلاً:
-
چائلڈ لیبر پروہیبیشن ایکٹ 1991
-
پنجاب کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2014
-
بلوچستان کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2014
-
پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019
-
پروٹیکشن اگینسٹ چائلڈ ابیوز بل 2020
-
پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس ایکٹ 2021
یہ قوانین بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے موجود ہیں، مگر سب سے بڑا مسئلہ عملدرآمد کی کمی ہے۔
بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں — اہم مسائل
1. تعلیم سے محرومی
پاکستان میں تعلیم کے شعبے کی صورتحال نہایت خراب ہے۔ یونیسکو کے مطابق:
-
پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ ہے۔
-
لڑکیوں کی تعلیم کی شرح لڑکوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔
-
غربت، اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی عدم دستیابی اور روایتی سوچ اس کی اہم وجوہات ہیں۔
یہ نہ صرف بچوں کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ مستقبل میں غربت اور بے روزگاری کے چکر کو بھی جاری رکھتا ہے۔
2. چائلڈ لیبر (بچوں سے مزدوری)
چائلڈ لیبر پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی ادارہ محنت (ILO) کے مطابق:
-
پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد بچے مزدوری کرتے ہیں۔
-
یہ بچے بھٹہ خشت، قالین بافی، گھریلو ملازمت، ورکشاپس، چائے کے ہوٹلوں اور فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں۔
-
کئی بچے خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں، جیسے کیمیکل فیکٹریوں، کان کنی یا بھٹوں پر۔
چائلڈ لیبر نہ صرف تعلیم کے حق کو چھینتی ہے بلکہ بچوں کی صحت اور نفسیاتی حالت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
3. جنسی استحصال اور زیادتی
جنسی تشدد پاکستان میں انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ “ساحل” نامی این جی او کے مطابق:
-
ہر سال ہزاروں بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔
-
2022 میں پاکستان میں روزانہ اوسطاً 8 کیسز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے رپورٹ ہوئے۔
-
یہ صرف رپورٹ شدہ کیسز ہیں، اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بدنامی، خوف اور کمزور قانونی نظام کے باعث کئی کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
قصور، مردان، اور ننکانہ صاحب جیسے علاقے بدنام ہو چکے ہیں جہاں اجتماعی زیادتیوں کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔
4. جبری شادی اور کم عمری کی شادی
پاکستان میں کم عمری کی شادی بدستور جاری ہے۔ یونیسف کے مطابق:
-
پاکستان میں ہر تیسری لڑکی 18 سال کی عمر سے پہلے بیاہ دی جاتی ہے۔
-
کم عمری کی شادی نہ صرف تعلیم کے حق کو سلب کرتی ہے بلکہ صحت، نفسیات اور معاشرت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل اور مذہبی حلقے اس پر مختلف آراء رکھتے ہیں، جس کے باعث قانون سازی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
5. جبری مشقت اور انسانی سمگلنگ
بچوں کو اغوا کر کے، یا والدین سے خرید کر، سمگلنگ کے لیے استعمال کرنا پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بچوں کو:
-
بھیک منگوانے
-
جنسی استحصال
-
جبری مشقت
-
منشیات کی ترسیل
جیسے جرائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق پاکستان ہیومن ٹریفکنگ کے ہائی رسک ممالک میں شامل ہے۔
6. صحت کے مسائل
-
پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے غذائی کمی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
-
نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں یعنی ان کی جسمانی اور دماغی نشوونما رک جاتی ہے۔
-
بچوں کو صحت کی سہولیات دستیاب نہیں، خصوصاً دیہی علاقوں میں۔ ویکسینیشن کی شرح اب بھی عالمی معیار سے کم ہے۔
7. تشدد اور جسمانی سزا
بچوں پر جسمانی سزا اسکولوں، مدارس اور گھروں میں عام ہے۔ اگرچہ حکومت نے 2020 میں اسکولوں میں جسمانی سزا پر پابندی عائد کی، مگر اب بھی اکثر اساتذہ بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
بچوں کی نفسیات پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے، جیسے:
-
خود اعتمادی میں کمی
-
ذہنی دباؤ
-
تعلیمی نتائج پر منفی اثر
موجودہ صورتحال اور اعدادوشمار
-
غیر تعلیم یافتہ بچے: تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ
-
چائلڈ لیبر: 1 کروڑ سے زائد
-
جنسی زیادتی کیسز (2022): روزانہ 8 کیسز رپورٹ
-
غذائی کمی: 40 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار
-
کم عمری کی شادی: ہر تیسری لڑکی 18 سال سے پہلے بیاہ دی جاتی ہے
یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں بچوں کے حقوق کس حد تک پامال ہو رہے ہیں۔
قانونی تحفظات — کامیابیاں اور کمزوریاں
کامیابیاں
-
قوانین میں بہتری: پچھلے 10 سالوں میں کئی اہم قوانین بنے جیسے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ، اینٹی چائلڈ لیبر لاء وغیرہ۔
-
چائلڈ پروٹیکشن بیوروز: پنجاب اور دیگر صوبوں میں چائلڈ پروٹیکشن بیوروز قائم ہوئے ہیں جو بچوں کو پناہ اور قانونی مدد دیتے ہیں۔
-
این جی اوز کا کردار: ساحل، SPARC، AGHS لیگل ایڈ سیل جیسے ادارے بچوں کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں۔
-
میڈیا کا اثر: میڈیا نے بچوں کے حقوق کے کیسز کو اجاگر کر کے قانون سازی پر دباؤ ڈالا ہے۔
کمزوریاں
-
عملدرآمد کی کمی: قوانین تو ہیں مگر پولیس اور عدلیہ میں کمزوریاں ہیں۔ اکثر کیسز درج ہی نہیں ہوتے یا سالوں تک عدالتوں میں لٹکے رہتے ہیں۔
-
سماجی سوچ: لوگ بچوں کو اپنا “مال” سمجھتے ہیں۔ بچوں پر تشدد، کم عمری کی شادی یا مزدوری کو اکثر روایات اور غربت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
-
وسائل کی کمی: حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ پورے ملک میں چائلڈ پروٹیکشن بیوروز قائم کیے جا سکیں۔
-
اعدادوشمار کا فقدان: حکومت کے پاس درست ڈیٹا نہیں جس سے پالیسی سازی مشکل ہو جاتی ہے۔
حل اور سفارشات
-
تعلیم پر زور
-
حکومت کو تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔
-
مفت اسکول، مفت کتابیں اور والدین کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے۔
-
چائلڈ لیبر کے خلاف سخت کارروائی
-
چائلڈ لیبر میں ملوث فیکٹری مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔
-
غریب والدین کو وظیفے دیے جائیں تاکہ وہ بچوں کو اسکول بھیج سکیں۔
-
کم عمری کی شادی کی روک تھام
-
قانون کی عمر کی حد 18 سال کر دی جائے۔
-
نکاح رجسٹریشن لازمی کی جائے اور خلاف ورزی پر سزا دی جائے۔
-
جنسی جرائم کے مقدمات میں تیزی
-
فوری عدالتیں قائم کی جائیں۔
-
متاثرہ بچوں کو نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔
-
صحت کی سہولیات
-
دیہی علاقوں میں بنیادی صحت مراکز قائم کیے جائیں۔
-
ویکسینیشن اور غذائیت کی مہم تیز کی جائے۔
-
معاشرتی سوچ کی تبدیلی
-
میڈیا پر آگاہی پروگرام نشر کیے جائیں۔
-
علماء اور مذہبی رہنما بچوں کے حقوق پر خطبات دیں۔
نتیجہ
پاکستان میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں معاشرتی زوال کی سب سے بڑی علامت ہیں۔ ایک ایسا ملک جو نوجوان آبادی پر فخر کرتا ہے، اگر اپنے بچوں کو تعلیم، صحت اور تحفظ فراہم نہ کر سکے، تو اس کا مستقبل خطرے میں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، عدلیہ، سول سوسائٹی اور عوام سب مل کر بچوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔ قوانین کو صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔ اگر ہم آج اپنے بچوں کے حقوق کی حفاظت کریں گے تو کل وہی بچے پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ کیونکہ بچے، قوم کا مستقبل ہیں۔
