دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے مردوں کی انٹرنیشنل کرکٹ کے تینوں فارمیٹس — ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی — کے لیے نئے قوانین کا اعلان کر دیا ہے۔ ان تبدیلیوں میں بال کے استعمال کے طریقہ کار سے لے کر دماغی چوٹ (Concussion) کے متبادل کھلاڑیوں اور باؤنڈری کیچز کے ضوابط تک شامل ہیں۔

ون ڈے کرکٹ میں گیند کے استعمال کا نیا قانون

اب تک کے قوانین کے مطابق، ون ڈے میچ میں دونوں اینڈز سے نئی نئی گیندیں 25 اوورز تک استعمال کی جاتی تھیں۔ مگر اب نیا قانون کہتا ہے:

"اب دونوں گیندیں 34 اوورز تک استعمال ہوں گی۔ 35ویں اوور سے ٹیموں کو ان دونوں میں سے کسی ایک گیند کا انتخاب کرنا ہوگا جو پھر اننگز کے آخر تک استعمال ہوگی۔”

  • اگر میچ کو 25 اوورز یا اس سے کم تک محدود کر دیا جائے، تو صرف ایک گیند ہی استعمال کی جائے گی۔

⚠️ اس تبدیلی کا فائدہ کس کو ہوگا؟

یہ نیا قانون فاسٹ بولرز، خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں فائدہ دے گا، جہاں گیند کے پرانے ہونے سے ریورس سوئنگ ممکن ہو سکے گی۔ موجودہ قوانین میں چونکہ گیند نئی رہتی ہے، اس لیے ریورس سوئنگ نایاب ہو چکی ہے۔

🔎 پاکستان جیسے ملک جہاں فاسٹ بولرز ریورس سوئنگ کے ماہر ہوتے ہیں (مثلاً وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، شاہین آفریدی) — یہ قانون ہمارے بولرز کے لیے ایک بڑی خوشخبری ثابت ہو سکتا ہے۔


نئے دماغی چوٹ متبادل (Concussion Substitutes) کے قواعد

اب ٹیموں کو ٹاس سے پہلے پانچ ممکنہ متبادل کھلاڑیوں کی فہرست دینا ہوگی جن میں:

  • ایک بیٹر

  • ایک آل راؤنڈر

  • ایک وکٹ کیپر

  • ایک فاسٹ بولر

  • ایک اسپنر

شامل ہوں گے۔

پہلے ٹیمیں دورانِ میچ کسی بھی وقت متبادل کا اعلان کر سکتی تھیں، مگر اب یہ ممکن نہیں ہوگا۔

📌 یہ ضابطہ ٹیم مینجمنٹ کی منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی میں شفافیت لائے گا۔


’بنی ہوپ‘ کیچنگ اسٹائل پر پابندی

ICC اور MCC نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ’بنی ہوپ‘ طرز پر باؤنڈری کیچ اب غیر قانونی ہوگا۔

یہ وہ تکنیک تھی جس میں فیلڈر باؤنڈری لائن سے باہر ہوا میں چھلانگ لگا کر گیند کو واپس اندر پھینکتا تھا بغیر اس کے کہ اس نے پہلے اندر زمین کو چھوا ہو۔

✅ نیا اصول:

"کیچ تب ہی درست سمجھا جائے گا جب فیلڈر نے پہلی بار گیند کو پکڑتے وقت میدان کے اندر زمین پر قدم رکھا ہو۔”

  • اگر فیلڈر نے پہلے اندر گیند کو ہاتھ لگایا، پھر رفتار کی وجہ سے باہر گیا اور دوبارہ اندر آ کر کیچ مکمل کیا، تو وہ درست تصور ہوگا۔

یہ قانون اکتوبر 2026 سے مکمل طور پر نافذ ہوگا، مگر اگلے ہفتے سے ICC کے پلیئنگ کنڈیشنز میں اس کی جھلک نظر آئے گی۔


🟢 تجزیہ: پاکستان کے لیے کیا مطلب رکھتی ہیں یہ تبدیلیاں؟

پاکستان جیسے ملک جہاں بولرز ہمیشہ دنیا میں سبقت لے جاتے ہیں، وہاں بال کی عمر بڑھانے کا قانون ہمارے لیے گیم چینجر بن سکتا ہے۔ ریورس سوئنگ ایک ایسا ہنر ہے جس میں پاکستانیوں نے عالمی سطح پر نام بنایا ہے۔

🇵🇰 ہمیں کن پہلوؤں پر نظر رکھنی چاہیے؟

  • شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف جیسے بولرز ان تبدیلیوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

  • متبادل کھلاڑیوں کے واضح قوانین ٹیموں میں پلاننگ کی سطح کو بہتر بنائیں گے۔

  • باؤنڈری کیچ قوانین میں تبدیلی سے فیلڈنگ کی تربیت میں بہتری لانا ہوگی۔


🏁 اختتامی کلمات: کھیل کو بہتر اور منصفانہ بنانے کی کوشش

ICC کی یہ تبدیلیاں کھیل میں توازن، شفافیت اور روایتی کرکٹ ہنر کو بحال کرنے کی طرف ایک خوش آئند قدم ہیں۔ پاکستان جیسے کرکٹ جنون رکھنے والے ملک کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ان تبدیلیوں سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور اپنی مہارت کو دنیا کے سامنے دوبارہ منوائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے