اسلام آباد، جو ایک وقت میں پاکستان کا سب سے پُرسکون، منظم اور خوبصورت دارالحکومت سمجھا جاتا تھا، اب آہستہ آہستہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ سیاستدانوں، مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں نے اس شہر کو اپنی آواز بلند کرنے کے لیے چُن لیا ہے۔ دارالحکومت ہونے کے ناتے یہاں فیصلہ ساز ادارے، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، وزیراعظم ہاؤس، ایوانِ صدر اور سفارتی علاقے موجود ہیں، جس کے باعث یہ شہر ہمیشہ ملکی سیاست کا محور رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں احتجاجوں اور دھرنوں کی کثرت نے شہر کے خدوخال اور معمولات زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

اسلام آباد کی تعمیر اور ابتدائی خاموشی

اسلام آباد کی تعمیر 1960 کی دہائی میں ہوئی تاکہ ایک نیا، صاف ستھرا اور محفوظ دارالحکومت بنایا جا سکے جو سیاسی انتشار اور تجارتی گہما گہمی سے دور ہو۔ راولپنڈی کے قریب مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں بسا یہ شہر فطری خوبصورتی، منظم سڑکوں، سیکٹرز کی منصوبہ بندی اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا تھا۔

اس دور میں اسلام آباد ایک خاموش، بیوروکریسی کا شہر تھا جہاں زندگی کی رفتار سست مگر پُرامن تھی۔ سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر کراچی یا لاہور میں ہوا کرتی تھیں۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ یہ منظر نامہ تبدیل ہونے لگا۔


سیاسی سرگرمیوں کا آغاز

1990 کی دہائی میں جب جمہوریت کا تسلسل قائم ہوا، تو سیاست نے اسلام آباد کا رخ کیا۔ یہاں احتجاجوں کا آغاز ہوا مگر وہ محدود پیمانے پر ہوتے تھے۔ تاہم، 2007 میں وکلاء تحریک نے اسلام آباد کو پہلی بار وسیع پیمانے پر احتجاجی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔

فیصل مسجد، ڈی چوک، نیشنل پریس کلب اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سڑکیں سیاسی نعروں اور بینرز سے گونجنے لگیں۔ جنرل پرویز مشرف کے خلاف عدلیہ کی بحالی کے لیے کی گئی وکلاء تحریک نے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام آباد اب صرف بیوروکریٹس اور سفارتکاروں کا شہر نہیں رہا، بلکہ اب یہ عوامی آواز کا مرکز بھی بن چکا ہے۔


دھرنوں کا دور: 2013 سے اب تک

2014 کا تحریک انصاف و عوامی تحریک کا دھرنا

اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے نمایاں سیاسی احتجاج 2014 میں ہوا جب پاکستان تحریک انصاف (PTI) اور پاکستان عوامی تحریک (PAT) نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دھرنا دیا۔ یہ دھرنا تقریباً 126 دن تک جاری رہا اور اس نے شہر کی معمولات زندگی کو مکمل طور پر متاثر کیا۔

ڈی چوک، جو کبھی ایک خوبصورت اور پُرامن جگہ تھی، مستقل نعرے بازی، کنٹینرز، خیموں اور جلسوں کا مرکز بن گئی۔ دفاتر بند، سڑکیں سیل اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ساتھ ہی اس دھرنے نے عوامی سیاسی شعور کو بھی نئی جِلا بخشی۔

2017 فیض آباد دھرنا

2017 میں تحریک لبیک پاکستان (TLP) کی جانب سے دیا گیا فیض آباد دھرنا، جس میں مذہبی بنیادوں پر احتجاج کیا گیا، نے ایک بار پھر اسلام آباد کو مفلوج کر دیا۔ شہر کے داخلی راستے بند ہو گئے، کاروبار ٹھپ، تعلیمی ادارے بند اور امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی۔ اس دھرنے کا خاتمہ فوج کی ثالثی سے ہوا، جس نے ریاستی اداروں کے درمیان کشمکش کو بھی نمایاں کیا۔


احتجاجوں کا اثر: شہری زندگی پر

اسلام آباد میں دھرنے اور احتجاج صرف سیاسی نہیں، سماجی و معاشی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں:

  1. ٹریفک کا نظام متاثر
    بڑے احتجاجوں کی وجہ سے سڑکیں بند ہو جاتی ہیں، متبادل راستے ناکافی ہوتے ہیں، جس سے دفاتر، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔

  2. معاشی نقصان
    کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، خاص طور پر بلیو ایریا اور جی سیون، ایف ایٹ، ایف سکس جیسے علاقوں میں موجود دفاتر اور دکانیں بند کر دی جاتی ہیں۔

  3. تعلیمی ادارے متاثر
    یونیورسٹیز اور اسکولوں کو بند کرنا پڑتا ہے یا آن لائن کلاسز شروع کر دی جاتی ہیں، جس سے تعلیمی تسلسل متاثر ہوتا ہے۔

  4. شہریوں کی ذہنی صحت پر اثرات
    مستقل ہنگامہ آرائی اور غیر یقینی صورت حال شہریوں کی ذہنی سکون پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خوف اور بے یقینی کا ماحول جنم لیتا ہے۔


میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار

اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجوں کی کوریج ہمیشہ سے میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ 2014 کے دھرنے کو لائیو کوریج نے ایک نیا رنگ دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز، تقریریں اور تجزیے عوام کو لمحہ بہ لمحہ معلومات فراہم کرتے رہے۔ یہی سوشل میڈیا آج بھی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے جس سے وہ اپنے حامیوں کو متحرک کرتے ہیں۔


حکومت کا ردعمل اور سیکورٹی اقدامات

ہر دھرنے کے بعد حکومت کی طرف سے سیکیورٹی بڑھا دی جاتی ہے۔ ریڈ زون کو خاردار تاروں، کنٹینرز اور پولیس کی نفری سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔ لیکن ان اقدامات سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ بعض اوقات انٹرنیٹ سروس بند کر دی جاتی ہے، جس سے کاروبار اور تعلیم متاثر ہوتے ہیں۔


آئندہ کے چیلنجز

  1. پرامن احتجاج اور شہری حقوق میں توازن
    ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کس طرح پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے لیکن شہریوں کی زندگی کو متاثر ہونے سے بھی بچایا جائے۔

  2. مخصوص احتجاجی زونز کا قیام
    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح مخصوص "پروٹیسٹ زون” بنانا ضروری ہے جہاں احتجاج کیے جا سکیں اور شہر کی مرکزی شاہراہیں کھلی رہیں۔

  3. مذاکرات اور سیاسی مکالمے کی روایت
    مسئلے کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو مکالمے کے ذریعے مسئلے حل کرنے کا طریقہ اپنانا ہوگا۔


نتیجہ

اسلام آباد اب صرف ایک خوبصورت دارالحکومت نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستان کی سیاسی جدوجہد، مزاحمت اور تبدیلی کا مرکز بن چکا ہے۔ احتجاجوں نے اس شہر کی شناخت بدل دی ہے، لیکن ساتھ ہی ایک سوال بھی چھوڑ دیا ہے: کیا ہم اس شہر کی خوبصورتی، امن اور نظم و ضبط کو قربان کر کے احتجاجی کلچر کو دوام دینا چاہتے ہیں؟ یا کوئی متوازن راستہ اختیار کریں گے جہاں جمہوری آواز بھی بلند ہو اور شہری زندگی بھی متاثر نہ ہو؟

اسلام آباد کا مستقبل اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے